مبینہ ویڈیو کے بعد ”ڈیلی میل“نے نیا پنڈوراباکس کھول دیا

مبینہ ویڈیو کے بعد ”ڈیلی میل“نے نیا پنڈوراباکس کھول دیا
مبینہ ویڈیو کے بعد ”ڈیلی میل“نے نیا پنڈوراباکس کھول دیا

  

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیوز کی دھول ابھی بیٹھنے نہ پائی تھی کہ برطانوی اخبار ”ڈیلی میل “میں برطانوی امدادی اداروں کی جانب سے 2005کے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے دی گئی رقم میں خورد برد کے حوالے سے خبر شائع ہونے کے بعد نیا پنڈوراباکس کھل گیا ہے ۔حکومت کی جانب سے مسلم لیگ ن کی قیادت پرالزامات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جورکنے میں نہیں آرہا جبکہ ن لیگ کی جانب سے بھی اپنے دفاع میں پھرپور میڈیامہم چلائی جارہی ہے ، الیکٹرونک میڈیا پر ایک طرف حکومتی ترجمان کو آن لائن لیا جاتا ہے اورشہباز شریف ، ان کے بیٹو ں اورداماد پر الزامات کااعادہ کروایا جاتا ہے اورساتھ ہی ن لیگ کے ترجمانوں کا موقف بھی سنوایا جاتاہے اورعوام ہیں کہ ”یک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی “کے مصداق مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے تماشائی بنے ہوئے محو نظاراہیں ۔

حکومتی ترجمان شہباز شریف اوران کے خاندان پر زلزلہ زدگان کیلئے بھیجے گئے بیرونی فنڈز میں خورد برد کاالزام لگاتے ہیں تو ن لیگ کا موقف یہ ہے کہ جب یہ امداد پاکستان کوملی اس وقت مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جبکہ زلزلہ خیبر پختونخوا میں آیا تھا ، اس لئے زلزلہ زدگان کیلئے دی گئی امداد میں خورد برد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، البتہ برطانوی اداروں کی جانب سے جو امداد حکومت پنجاب کو تعلیم اور صحت کی مد میں دی گئی ، اس کا آڈٹ موجودہے ۔ ن لیگ کی جانب سے یہ الزام بھی تواتر کے ساتھ لگایا جارہا ہے کہ ”ڈیلی میل“میں شائع ہونیوالی یہ سٹوری وزیر اعظم عمران خان اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی ایماءپر لگائی گئی ہے ۔ ن لیگ کے رہنما ﺅں کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر نے برطانوی صحافی کو یہ معلومات فیڈ کیں جن کی بنیاد پر ”ڈیلی میل“پر یہ سٹوری شائع کی گئی جبکہ شہزاد اکبر ایسے کسی اقدام سے انکار کررہے ہیں۔ ایسے میں اب ن لیگ کا موقف کچھ بھی ہولیکن حکومت نے جس انداز سے یہ معاملہ پیش کیا ہے ۔ اس سے بلاشبہ عوام کے اذہان میں شکوک وشہبات جنم لے چکے ہیں۔

ن لیگ کی اس وقت صورتحال یہ ہے ایک طرف تو مریم نواز کو احتساب عدالت کی جانب سے طلب کیا جاچکاہے جبکہ احتساب عدالت کے جج کی مبینہ ویڈیو کا کیس بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جہاں لا محالہ مریم نواز کوبھی پیش ہونا پڑے گا ، نواز شریف اورحمزہ شہباز جیل میں ہیں اور شہباز شریف بھی پارٹی کی اندرونی سیاست کو سلجھانے میں مصروف عمل ہیں۔ ڈیلی میل میں خبر کی اشاعت کے بعد اگر چہ شہبازشریف کی جانب سے برطانیہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا جا چکاہے لیکن ملک کی اندرونی سیاسی صورتحال کے پیش نظر یہ مشکل نظر آتاہے کہ شہباز شریف بیرون ملک جا کر اپنے کیس کی پیروی کرسکیں گے۔ ایسے میں بیرون ملک موجود شریف خاندان کے افراد کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ”ڈیلی میل“میں اس سٹوری کی اشاعت کے بعد اگر حکومت یہ الزامات ثابت کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو شریف خاندان کی سیاسی ساکھ کوزبردست دھچکا لگنے کے امکانات واضح ہیں۔ اس لئے شہباز شریف اور ان کے خاندان کیلئے اس معاملے میں جہاں عدالت سے کلین چٹ ملنا ضروری ہے تو وہاں سیاسی بقاءکیلئے عوام کے اذہان سے بھی شکوک شبہات کارفع ہونا ضروری ہے ۔ شہباز شریف کی جانب سے برطانوی عدالت میں”ڈیلی میل“کیخلاف کیس دائر کرنے کااعلان خوش آئندہے ، اگر وہ ایسا کرکے بیرون ملک عدالت میں سرخروہوجاتے ہیں تو جہاں ان کے وقار میں اضافہ ہوگا، وہاں ان کی سیاسی ساکھ کا گراف بھی یکا یک بلند ہوجائیگا ، بصور ت دیگر حکومتی جماعت کا پلڑا ہی بھاری نظر آتاہے جومسلسل چور چور کا راگ الاپے جارہی ہے ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -