بجٹ 2020-21ء ملکی معیشت کہاں کھڑی ہے؟

بجٹ 2020-21ء ملکی معیشت کہاں کھڑی ہے؟

  

گزشتہ دنوں معروف ماہر معیشت اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا سے ملاقات ہوئی اور وفاقی بجٹ 2020-21پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ ان سے ہونے والی بات چیت میں جب ان سے پوچھاگیا کہ آیا بجٹ دستاویزاور بجٹ تقریر میں رواں مالی سال کی جوتصویر کھینچی گئی ہے، کیا وہ درست ہے تو انہوں نے کہا کہ حکومت نے کہا ہے کہ رواں مالی سال، یعنی 2019-20میں شرح نمو -0.4رہے گی جس کا مطلب ہے کہ حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ معیشت گراوٹ کا شکار ہوئی ہے اور قومی پیداوار میں کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ شرح نمو میں گراوٹ حکومتی دعوے کے برعکس زیادہ ہے۔ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ کرونا سے قبل ہماری معیشت کی شرح نمو 3.3فیصد تک ہوچکی تھی۔ واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال یعنی 2018-19میں شرح نمو 1.9فیصدتھی۔ حکومت کادعویٰ ہے کہ وہ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے گزشتہ مالی سال کی 1.9سے 3.3فیصد تک پہنچ چکے تھے کہ کرونا کی وبا آگئی اور رواں مالی سال کے آخری تین سے ساڑھے تین مہینوں میں شرح نمو منفی 9فیصد ہوگئی۔ اس کا مطلب ہے کہ ساڑھے آٹھ ماہ کا 3.3فیصد سے اوپر شرح نمو اور باقی ساڑھے تین ماہ میں منفی 9فیصد کی وجہ سے کل شرح نمو -0.4ہوگئی۔ یعنی اگر پچھلے مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے پہلے ساڑھے آٹھ ماہ کے دوران شرح نمو میں اضافہ 3.3 فیصد تھااور آخری ساڑھے تین مہینے میں 9فیصد گرگیا، یوں کل ملا کر گراوٹ 12.3فیصد ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی 12.3فیصدکی گراوٹ نہیں آئی ہے، خواہ سیلاب آیا ہو، زلزلہ آیا ہو یا حتیٰ کہ جنگ بھی ہوئی ہوجتنی کہ کرونا کہ وجہ سے آئی ہے۔

ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ جب ملکی پیداوار کے تیزی سے 12.3فیصد سے گرنے سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا اور اندازہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں تقریباً 50لاکھ لوگ مزید بے روزگار ہو جائیں گے جبکہ مزید 3کروڑ گھرانے غربت کی لکیر سے نیچے جا گریں گے کیونکہ پاکستان کی شرح نمو نو تین بارہ ہوگئی ہے۔

ان کے خیال میں رواں مالی سال میں شرح نمو 0.4فیصد کی بجائے 2فیصد گرا ہے اورحکومت کا پہلے ساڑھے آٹھ ماہ کا 3.3فیصد کا عدد دراصل گزشتہ مالی سال والا 1.9فیصد ہی ہے اور گراوٹ دس سے گیارہ فیصد ہے اور مل ملا کر معیشت میں کل گراوٹ 12فیصد کے قریب پہنچ جاتی ہے۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ گزشتہ مالی سال میں بھی حکومت 3.3فیصد شرح نمو کا دعویٰ کررہی تھی مگر ڈاکٹر حفیظ پاشا کے پوائنٹ آؤٹ کرنے پر حکومت نے اسے 1.9فیصد کیا تھا۔

ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ اب حکومتی دعوے کے مطابق شرح نمو منفی 0.4ہو یا ان کے حساب کتاب کے مطابق منفی 2فیصد ہومگر اصل گراوٹ منفی 12فیصد ہے تو حکومت دعوے کے برعکس اگلے مالی سال یعنی 2020-21 میں شرح نمو منفی 0.4سے کود کر 2.1پر چلی جائے گی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت جی ڈی پی کی گروتھ کے حوالے سے ایسا دعویٰ کیسے کرسکتی ہے جب کرونا کی وبا ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر ایسی ایسی خطرناک پیش گوئیاں کر رہے ہیں کہ جون کے آخر تک مریضوں کی تعداد تین لاکھ اور جولائی کے آخر تک 12لاکھ تک پہنچ چکی ہوگی۔ معلوم نہیں کیا کیا تباہی مچنے والی ہے جبکہ لاہور میں دو تہائی اور آدھے اسلام آباد میں لاک ڈاؤن ہو چکا ہے وغیرہ وغیرہ۔ایسی صورت حال میں معیشت کی تباہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟ پھر بھی حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ کرونا کے پھیلنے اور لاک ڈاؤن ہونے کے باوجود 2.1فیصد کی شرح سے بڑھے گی جبکہ مالی سال 2019-20 کے آخری چوتھائی میں منفی 9فیصد شرح نمو ہو چکی ہوجب حالات اس قدر خراب نہ تھے اور کرونا مریضوں کی تعداد اس قدر زیادہ نہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر خود بتاچکے ہیں کہ برطانیہ کہہ رہا ہے کہ ہماری معیشت 20فیصد گری ہے۔ ڈاکٹر پاشا اگلے مالی سال کے پہلے تین سے چارہ ماہ میں دس سے بارہ فیصد معاشی گراوٹ دیکھ رہے ہیں کرونا کی وباء نے ابھی تو عروج پانا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مالی سال 2020-21 کے آخر میں اگر ہم منفی 2فیصد پر رہتے ہیں تو پاکستان خوش قسمت ہوگالیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلے مالی سال میں بھی بے روزگاری اور غربت میں اتنا ہی اضافہ ہوگا جتنا رواں مالی سال میں ہواہے، یعنی 50لاکھ اور بے روزگار ہوں گے اور تین کروڑ مزید خط غربت سے نیچے جا گریں گے۔ یوں کل ملا کر 6کروڑو گھرانے خط غربت سے نیچے جا گریں گے جبکہ ایک کروڑ لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر پاشا کے مطابق ان حالات میں حکومت کو سچ بولنا چاہئے تھا اور اعدادوشمار کو چھپانا نہیں چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تو کوئی بھی توقع نہیں کر رہا تھا کہ معاشی شرح میں اضافہ ہو جائے گاجبکہ حکومت خود عوام کو ڈرا رہی ہے کہ کرونا تو پھیل جائے گا اور قابو سے باہر ہو جائے گا۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ اگر اگلے مالی سال میں شرح نمو منفی 2فیصد رہتی ہے تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے، معاملہ اس سے بھی زیادہ بگڑ سکتا ہے اور شرح نمو منفی 5فیصد تک گر سکتی ہے۔ انہوں نے اشارتاً کہا کہ ذرا سوچئے کہ ایک غریب ملک کی دوسال میں معاشی نمو منفی رہے تو اس کا کیا حال ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف افراط زرہے جس سے عام آدمی متاثر ہوتا ہے جو اس سال کے آغاز میں یعنی جنوری 2020ء میں عروج پر چلا گیا تھا یعنی 14.6فیصد ہوگیا تھا اور اللہ کے فضل سے کم ہوتے ہوتے مئی 2020میں 8.2فیصد رپورٹ ہواہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ اگلے سال مہنگائی اور گرے گی اور 6.5فیصد پر چلی جائے گی، سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کا بجٹ مالی خسارہ تقریباً 4ہزار ارب کے لگ بھگ بڑھ گیا ہے، اس میں سے حکومت نے کمرشل بینکوں سے 2200 ارب روپے کا قرض لیا ہے جو اسٹیٹ بینک نے چپ چاپ پیسے چھاپ کر ان بینکوں کو دیئے اور حکومتی ٹریژری بل اور سکوک بانڈ وغیرہ کی خریداری کروائی ہے۔ حکومت اسی لئے کہہ رہی ہے کہ ہم نے براہ راست اسٹیٹ بینک سے کچھ نہیں لیاہے مگر ہوا یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے Open Market Operation (OMO)کے تحت کمرشل بینکوں کو پیسے دے دیئے اور انہوں نے حکومتی انسٹرومنٹ خرید لئے۔ بات ایک ہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ حکومت نے براہ راست اسٹیٹ بینک سے پیسے لینے کی بجائے بالواسطہ طریقے سے لے لئے ہیں۔ اب جب کہ حکومت بینکوں سے 2200ارب روپے کی فنانسنگ کرواچکی ہے تو وہ پیسہ مارکیٹ میں آیا ہے جس سے اگلے مالی سال کے دوران مارکیٹ میں Money supplyمیں 14سے 15فیصد اضافے کی توقع ہے جو پچھلے سال 7فیصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب زیادہ پیسہ کم چیزوں کے پیچھے بھاگتاہے تو مہنگائی بڑھتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت پیداوار گررہی ہے جبکہ Money supply بڑھ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں اگلے آنے الے چند مہنیوں میں ایک دم سے قیمتیں بڑھیں گی اور مہنگائی کی شرح بڑھ جائے گی کیونکہ اسٹیٹ بینک نے اس قدر پیسے چھاپ لئے ہیں کہ اس کا اثر آنے والا ہے۔

ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ دوسرافیکٹر تیل کی قیمتوں کاہے جو 25ڈالر فی بیرل سے بڑھ کرآج 38اور 40ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ یوں حکومت نے جو بچت کی تھی اس میں سے آدھی ختم ہو جائے گی۔ یعنی تیل کی قیمت میں 30فیصد کمی کی تھی جس میں سے اس مہینے کے آخر میں 15 فیصد واپس لینا پڑے گی جبکہ پٹرولیم لیوی 30روپے فی بیرل کے حساب سے عوام سے چارج کیا جائے گا کیونکہ وہ آئی ایم ایف سے معاہدے کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا فیکٹر سب سے زیادہ خطرناک ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کی پوزیشن خراب ہوگئی ہے۔ گزشتہ ماہ اس میں 2 ارب ڈالر کی کمی آئی تھی اور زرمبادلہ کے ذخائر 12ارب ڈالرسے 10ارب ڈالررہ گئے تھے۔ 10ارب ڈالر بھی اس لئے پر ہیں کہ آئی ایم ایف نے 1.4ارب ڈالر کی Rapid Financing Facilityکے تحت کیش دے دیا ہے وگرنہ ہمارے ذخائر اس وقت 8.6ارب ڈالر کی سطح پر ہوتے۔ ہمارا امپورٹ ماہانہ بل تقریباً 5ارب ڈالر کے قریب ہے جس کا مطلب ہے کہ اس وقت ہم مشکل سے دو ماہ کی امپورٹ کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں ہماری کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں کسی ملک کو اس وقت خطرناک زون میں لے جاتے ہیں جب اس کے ذخائر دو مہینے کے امپورٹ بل سے کم رہ جائیں۔ ہم اس کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ اگر ہماری ریٹنگ خراب ہوگئی تو باہر سے پیسہ نہیں آئے گا۔ پہلے ہی پیسہ ملک میں آنا کم ہوگیا ہے کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے اور سٹاک ایکسچینج سے بھی پیسہ نکل رہا ہے۔ اس وقت پاکستان بین الاقوامی سطح پر کوئی بانڈ جاری نہیں کرسکتا ہے، خواہ وہ سکوک بانڈ ہو یا یورو بانڈ۔ چینی بینک بھی اب پیسہ نہیں دے رہے ہیں۔ ان حالات میں اگر ہمارے ذخائر مزید گرے تو پاکستانی روپے کی ویلیو بری طرح مزید گر جائے گی کیونکہ اس کا براہ راست تعلق ہے دو ماہ کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر سے ہے۔ جہاں اس سے گرے روپیہ ڈی ویلیو ہو سکتاہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بیرون ملک سے آنے والی ترسیل زر کا پورا impactبھی ابھی نہیں آیا ہے۔ عید وغیرہ کی وجہ سے ابھی ان کی سطح میں فرق نہیں پڑاہے لیکن اب کم ہونا شروع ہوں گے جبکہ ایکسپورٹس پہلے ہی کم ہو چکی ہیں اور امپورٹس جتنا کم ہوسکتی تھیں، ہوگئی ہیں، اس سے مزید کی گنجائش نہیں ہے۔

ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ اگر یہ تین فیکٹر ایک وقت پر آگئے یعنی بہت زیادہ پیسہ کم پیداوار کے پیچھے بھاگ رہا ہو، دوسرا یہ کہ تیل کی بین الاقوامی قیمت میں پھر سے اضافہ ہو رہا ہو اور تیسرا یہ کہ اگر ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی پوزیشن خراب ہوگئی اور بجٹ خسارے میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں کمی آئی تومہنگائی 12سے 15فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس صورت حال سے کیسے بچا جا سکتا ہے تو ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ ملکی تاریخ کا سب سے برا وقت آیا ہے جس کے لئے Redistribution policy اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت ملک کے سب سے امیر ملک کا ساتھ دیتے ہوئے حکومت کو سپورٹ کریں تاکہ غریب عوام کو ریلیف یقینی بنایا جا سکے۔ بڑے بڑے زمیندار سالانہ 2ارب کی بجائے 100ارب اضافی دیں، حکومت ویلتھ ٹیکس واپس لائے جس سے 80ارب تقریباً اکٹھا کیا جا سکتا ہے، COVID-19سپر ٹیکس کا نفاذ کرے جو ان پر لگایا جائے جن کی سالانہ آمدن 30لاکھ روپے سے اوپر ہواور 50/60ارب روپیہ اس سے اکٹھا کریں، بجلی کا بل 75ہزار روپے سے کم ہو تو کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، اس کو دوبارہ 10ہزار روپے کی سطح پر لائیں جس سے 500ارب روپیہ ٹیکس اکٹھا ہوسکتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ امیر لوگوں سے لے کر غریب لوگوں کو دیا جائے۔ اس ملک نے امیروں کو اس قدر دیاہے کہ وہ امیر ترین ہو گئے ہیں، اب جب ملک کو ضرورت پڑی ہے تو انہیں ملک کا ساتھ دینا چاہئے۔ افسوس یہ ہے کہ اس وقت امیر خیرات میں بھی نہیں دے رہے ہیں، وزیر اعظم نے ریلیف فنڈ کا اعلان کیا اور کہا کہ چار گنا پیسے ڈالوں گا مگر کسی نے نہ دیا، بیچارہ وزیر اعظم خاموش ہوگیا۔ اکثر امیر لوگ تو ملک سے بھاگ گئے ہیں۔

لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت کے پاس وہ سیاسی قوت ہے جس کو استعمال میں لاتے ہوئے یہ اقدامات کئے جا سکتے ہیں توان کا جواب تھا کہ حکومت کے پاس مطلوبہ سیاسی قوت نہیں ہے جس کا نتیجہ حالات میں مزید خرابی کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -