پاک چائنا اقتصادی راہداری

پاک چائنا اقتصادی راہداری

  

پاکستان میں معاشی انقلاب کا باعث

پاکستان چائنا اکنامک کاریڈور جس کا اردو ترجمہ پاکستان چائنہ اقتصادی راہداری یا اقتصادی گزرگاہ بنتا ہے۔جوکہ پاکستان میں معاشی انقلاب لاسکتی ہے اور اس منصوبے سے صوبہ خیبر پختونخوا،ضم شدہ اضلاع کے قبائلی علاقہ جات اور صوبہ بلوچستان کی ترقی کیلئے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری میں ایک اضافی راستہ بھی شامل کر لیا گیا ہے جس پر دس ارب ڈالرز لاگت آئے گی۔ چوتھے نئے راستے سے پاکستان کے چاروں صوبوں سے زمینی راستہ ممکن ہوجائے گا۔ ابتدائی طور پر پاکستان اور چین نے راہداری کیلئے تین راستوں کی منظوری دی جس میں این 8، این 85اور گوادر تا خنجراب براستہ سکھر اور کراچی پشاور موٹر وے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق چوتھے راستے میں اسلام آباد، میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان، جیکب آباد اور گوادر شامل ہیں اور ان علاقوں کا گوادر سے رابطہ ممکن ہوسکے گا۔

راقم اس سے پہلے تحریر کرچکا ہے کہ پاکستان کی تیسری بڑی اور اہم ترین بندرگاہ ”گوادر پورٹ“ملک کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بحیرہ عرب پر واقع ہے۔ گوادر بندرگاہ کراچی سے تقریبا 533کلومیٹر اور ایران کے بارڈر سے 120کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس بندرگاہ کا فاصلہ سلطنت آف عمان سے تقریبا 380کلومیٹر ہے، اس طرح جغرافیائی لحاظ سے یہ بندرگاہ اہم ترین مقام پر واقع ہے۔ 2015ء میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے خیبر پختونخوا میں ساٹھ کلومیٹر طویل نئی شاہراہ ہزارہ موٹر وے کی تعمیر کاافتتاح کیا تھا۔ یہ منصوبہ خطے میں گیم بدل دے گا۔ کاشغر گوادر پراجیکٹ سے دنیا کے تین ارب لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق اس کاریڈور نے پاکستانی کشمیر سے بھی گزرنا ہے اس لئے بھارت نے اس منصوبے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ کشمیر سے گزرے بغیر یہ شاہراہ چین اور پاکستان کا ملا نہیں سکتی۔ اس لئے بھارت کو خوف پیدا ہو رہا ہے کہ اس شاہراہ کی تعمیر کے بعد پاکستان کی اس علاقے میں عمل داری مزید مضبوط ہوجائے گی۔ یہ شاہراہ چین کے شہر کاشغر کو پاکستان کی بندرگاہ گوادر سے ملائے گی۔ سڑک کے علاوہ اس کاریڈور میں ریلوے لائن، تیل اور گیس کی پائن لائنیں اور فائبر آپٹکس کیبلزبھی شامل ہیں۔ یہ شاہراہ چین کی ”گرینڈ ویسٹرین ڈیویلپمنٹ اسٹریٹجی“کے نام سے شروع کئے جانے والے ان منصوبوں میں سے ایک ہے جن کا آغاز 1978ء میں چینی رہنما ڈنگ ژیاؤپنگ نے کیا تھا۔اس منصوبے کے تحت اوئغورسنکیانگ کے علاقوں کو مشرقی چین سے جوڑنے کیلئے ہزاروں کلومیٹر لمبے ہائی ویز تعمیر کئے گئے ہیں، ریلوے لائنیں بچھائی گئیں ہیں، ٹیکس میں غیر معمولی چھوٹ دی گئی ہے اور اس کے علاوہ شنگھائی، بیجنگ کے ساتھ مشرقی یا وسطی چین سے آنے والے صنعت کاروں کو صنعتیں لگانے میں ہر طرح کی مراعات بھی دی گئیں ہیں۔ چینی حکومت نے ہر سال بجٹ میں اس علاقے کو اربوں روپے کے خصوصی فنڈ فراہم کئے اور دیکھتے ہی دیکھتے چین کا یہ پس ماندہ علاقہ ترقی یافتہ مشرقی وسطیٰ چین کے برابر آگیا لیکن اس خطے کو مکمل فعال بنانے کیلئے ضروری تھا کہ اس علاقے میں تیار ہونے والی مصنوعات کو عالمی منڈی تک کم سے کم فاصلے کے ساتھ رسائی فراہم کی جائے۔کاشغر سے شنگھائی تک کا فاصلہ پانچ ہزار کلو میٹر بنتا ہے اس لئے چینی قیادت نے بہت سوچ بچار کے بعد کاشغر کو پاکستان کی نئی بندرگاہ گوادر سے ملانے کیلئے اس تجارتی کاریڈور کی تعمیر کا منصوبہ بنایا، جس میں پاکستان نے بھی بھرپور دلچسپی کا اظہار کیاجبکہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس کاریڈور کو تعمیر کرنے سے متعلق بات چیت کا آغاز ہوا تھا اور اس شاہراہ کیلئے دو ہزار کلومیٹر روٹ فائنل کیا گیاتھا۔ منصوبے کے مطابق اس روٹ نے ایبٹ آباد، حسن ابدال، میانوالی، ڈی آئی خان، ژوب اور کوئٹہ سے گزرتے ہوئے گوادر تک جانا ہے اور اس شاہراہ کو موٹر وے کی بجائے ٹریڈر کاریڈور کی طرز پر تعمیر کیا جانا ہے۔ جس پر مخصوص فاصلوں پر صنعتی زون قائم کئے جانے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ اسی طرح تیار ہوا جس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے تو اس سے پورے پاکستان اور بالخصوص ضم شدہ اضلاع، خیبر پختونخوا اور بلوچستان، تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز نگاہ بن جائیں گے۔ اس سے ان علاقوں سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ بھی ممکن ہوسکتا ہے۔گوادر بندرگاہ سے خلیج فارس محض 200میل دور ہے۔ جو دنیا کے سب سے بڑے آئل امپورٹر چین کے لئے خوش کن بات ہے کہ گوادر کا روٹ کھلنے سے اسے 12ہزار کلومیٹر طویل سمندری مسافت کے دوران امریکا کی ممکنہ بلیک میلنگ اور سمندری مسافت کے اخراجات سے چھٹکارہ ملنے کے علاوہ تیل کو آف لوڈ کرنے کے بعد پائپ لائنوں سے گزارنے کی مشقت سے ھی جان چھوٹ جائے گی۔

اس منصوبے کی معاشی اہمیت سے انکار نہیں۔ اول، یہ چین کی ترقی کیلئے خوش آئندہوگا اور علاقے سے سرگرم بنیاد پرستوں اور علیحدگی پسندوں کے پاؤں تلے سے زمین سرکائی جاسکے گی۔ دوئم چین کو خلیج فارس سے تیل لانے کا مختصر ترین زمینی راستہ مل جائے گا، اس سے چین کو آبنائے ملا کا سے نہیں گزرنا پڑے گا اور یوں یہ ضمانت بھی مل جائے گی کہ کوئی بھی غیر ملکی قوت خام مال کی آمد میں حرج نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ کاریڈور بننے سے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھنے کا امکان پیدا ہوجائے گا اور زیادہ اہم بات یہ ہوگی کہ ساری ترقی پسماندہ صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوگی۔ جب کہ چین اور پاکستان بھی کہ چکے ہیں کہ اس منصوبے کی تکمیل سے صرف ہمیں ہی نہیں، نزدیکی ہم سایہ ملکوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ سی پیک پاکستان سے غربت،بیروزگاری کے خاتمے اور خوشحالی کے ایک تاریخ سازدور کا باعث بنے گا۔جس سے معیشت میں مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ پاک چین تعلقات کسی ایک حکومت تک نہیں، صدا بہار ہیں۔ دونوں ممالک کی مثالی دوستی سے سب مستفید ہو رہے ہیں اور سی پیک ہر پاکستانی کی محبت کی عکاسی کرتا ہے۔سی پیک پاکستان،چین آئینی دوستی اور قیادت کے مابین محبت کا عکاسی ہے۔

فیزیبلٹی کے مطابق اس منصوبے کا روٹ چین کے علاقے کاشغر سے ایبٹ آباد حسن ابدال، میانوالی، بنوں، ڈیرہ اور ژوب کے راستے گوادر تک کا تھا۔ ہمارے منصوبہ سازوں نے وسائل کی کمی کو جواز بنا کر سڑک کو برہان سے اسلام آباد لاہور موٹروے کے راستے کراچی سے گوادر لے جانے کی منظور دی ہے۔ منصوبے کے پرانے نقشے میں خیبر پختونخوا کے پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں صنعتی و تجارتی سرگرمیاں شروع ہونے کے مواقع موجود تھے۔ گوادر کو 60کی دھائی سے فلائلوں میں ان کی بندرگاہ کے منصوبے کا مقصد ہی خیبرپختونخوا کے راستے افغانستان اور اس سے آگے وسطی ایشیاء تک رسائی ممکن بنانا تھا یہ وہی رسائی ہے جس کا وعدہ 1979ء میں افغانستان پر روسی یلغار کے بعد فرنٹ لائن صوبے خیبر پختونخوا کے ساتھ حالات میں بہتری کی شرط پر تجارتی گیٹ وے کی حیثیت کے حوالے سے کیا جاتا رہا ہے اس برسر زمین حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خیبر پختونخوا اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقے اپنے مخصوص جغرافیے کے باعث تعمیر و ترقی کی دوڑ میں پہلے ہی نسبتا پیچھے رہ چکے ہیں۔ یہاں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کا مستقبل افغانستان اور وسطی ایشیاء کیساتھ ٹریڈ کی صورت روشن ہوسکتا ہے۔کچھ عرصہ پہلے امن و امان کی صورتحال نے یہاں تجارت سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انڈسٹریل سٹیٹس کو تالے لگنا اور ہزاروں مزدورں کی بے روزگاری المیے سے کم نہیں ایسے میں یہ صوبہ اس بات کا مستحق ہے کہ یہاں کی صنعتوں کو بحال کر کے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ وفاقی حکومت اور خصوصا وزیراعظم خود ایڈ کی بجائے ٹریڈ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں معیشت کی بحالی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست قرار دے کر اس مقصد کیلئے اقدامات بھی اٹھارہے ہیں کیا ہی بہتر ہوگا کہ خود وزیراعظم کاشغر گوادر منصوبے کو خیبر پختونخوا اورضم شدہ اضلاع کیساتھ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کیلئے بھی ثمر آور بنانے کا حکم دیں۔حالانکہ تین سیاسی رہنماؤں (مولانا فضل الرحمن، آفتاب شیرپاؤ اور وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک) نے اس منصوبے کو سنجیدگی سے لیا۔ جبکہ مولانا فضل الرحمن سمجھتے ہیں کہ اصل روٹ کی تعمیر ہونے سے عمران خان کے میانوالی کی طرح ان کے ڈی آئی خان کی تقدیر بھی بدل جائے گی۔ جبکہ مولانا کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں چینیوں سے بھی ملے تھے۔اس کالم کے توسط سے میری صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر اوروزیراعلیٰ و دیگر ذمہ داران اورضم شدہ اضلاع کے ایم این ایز و دیگر ذمہ داران کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں تاکہ وہ وفاقی حکومت پر پریشر ڈالیں۔ دیگر ذمہ داران سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس منصوبے میں خیبر پختونخوا کو نظر انداز نہ کریں اور جو روٹ پہلے سے براستہ خیبر پختونخوا منصوبے کا حصہ تھا اسے دوبارہ اس منصوبے کا حصہ بنایا جائے۔ کیونکہ یہ منصوبہ ضم شدہ اضلاع، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن اور خوشحالی کیلئے بہت ضروری ہے۔اگر پرانے منصوبے کے تحت ہی سڑک تعمیر کی گئی تو پورے پاکستان اور بالخصوص ضم شدہ اضلاع، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔وفاقی حکومت کو اس بات کا بھی احساس کرنا چاہئے کہ پچھلے عرصہ دراز سے ضم شدہ اضلاع اور خیبرپختونخوا نامساعد حالات کا شکار رہا ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا فرنٹ لائن صوبہ ہونے کے ناطے صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام اور یہاں کی بزنس کمیونٹی نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ یہاں کی بزنس کمیونٹی اور عوام بڑے حوصلہ کے ساتھ یہاں رہ رہے ہیں اور اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -