ہمیں آگے دیکھنا اور بڑھنا ہے!

ہمیں آگے دیکھنا اور بڑھنا ہے!

  

پاکستان تعمیر و ترقی میں، ترقی یافتہ ممالک کے کسی مقابلے میں شامل کرنا تو کجا یہ وطن عزیز ایشیائی ممالک کی معاشی پیش رفت سے بھی تا حال خاصا پس ماندہ ہے۔ شاید اس بنا پر یہاں کے موجودہ اور سابق حکمران طبقوں کے وزراء اور مشیر حضرات و خواتین، اسے جلد ایشیاء کا معاشی ٹائیگر بنانے کے وعدے کرتے، اپنے ادوارِ اقتدار سے رخصت ہوتے رہے ہیں جبکہ ماضی میں مقتدر سیاسی عہدہ داران اپنی حکومتوں کا نظم و نسبق اور مختلف سرکاری شعبوں کی اہم ضروریات پوری کرنے کی خاطر بیرونی ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضے مالی امداد سود کی ادائیگی کے لئے رعائتیں طلب کرنے اور کچھ تکنیکی سامان بابت مثلاً شعبہ صحت وغیرہ حاصل کرنے کی، کوششیں کرتے ہی اپنا زیادہ تر عرصہ اقتدار گزارنے پر مجبور ہے۔ یہ ملک ماشا اللہ 22 کروڑ افراد سے زائد انسانی آبادی پر مشتمل ہے۔ لوگوں کی کم و بیش 80 فی صد تعدا غریب اور مفلس افراد کے معیار کا طرز زندگی، گزار رہی ہے دیگر 20 فی صد افراد کے ذرائع آمدنی ذاتی کاروبار ملازمتوں اور بعض غیر ممالک میں کچھ حصول روز گار سے قدرے بہتر ہونے سے نسبتاً خوش حالی معلوم ہوتی ہے جبکہ حکمران طبقہ تو چند سالوں کے وقوفوں کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں سے انتہائی ٹکٹیں لینے کے عمل سے نکل کر انتخابی معرکوں میں مقابلہ آرائی کرتا ہے۔ ان میں سے نسبتاً تگڑے مالدار اور افرادی قوت کی صلاحیتوں اور توانائیوں کو موثر اور جاندار طریقوں سے بروئے کار لانے والے امیدوار حضرات اور چند خواتین زیادہ تر اپنی نشستیں جیتنے میں کامیابہ و جاتے ہیں۔ اقتدار میں آنے والے لوگوں کی تعداد یہاں ذرائع ابلاغ میں اکثر اوقات کل آبادی کا محض 2 فیصد ہی بتائی جاتی ہے۔ یہ امر ذہن نشین رہے کہ سیاست کار، حضرات، اقتدار حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں میں ہی شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اگرچہ ان کو ایسی جماعتوں کے منشور پروگراموں اور نظریات سے دلچسپی اور اتفاق کم ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ ان امیدواروں کی بڑی ترجیح انتخابی میدان میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

یہ امر افسوس ناک ہے کہ وطن عزیز تا حال بیونی ممالک اور مالیاتی اداروں کے قرضے اور امداد حاصل کر کے ہی بمشکل اپنے مالی اخراجات پورے کرنے کی تگ و دو کرتا آ رہا ہے۔ لیکن ایک اہم سیاسی پہلو قابلِ غور یہ ہے کہ جو حکومت بھی قومی انتخابات کے انعقاد کے بعد اقتدار میں آتی ہے وہ صدر مملکت اور وزیر اعظم کے لحف اٹھانے کے ابتدائی وقت سے لے کر وزرا، مشیروں اور خصوصی معاونین تک اپنے بیشتر سیاسی بیانات میں سابقہ حکومتوں کی کارکردگی کو صفر، نا اہلا ور بد دیانت قرار دینے کی رٹ لگانا شروع کر دیتی ہے۔ ان سیاسی راہنماؤں کا بنیادی نکتہ اور مقصد سابقہ حکمرانوں کی ہر شعبہئ حیات کی کارکردگی میں بد عنوانی، چوری، ڈاکہ زنی، لوٹ مار اور ذاتی خود غرضی کو خوب زور و شور سے اور بڑھا چڑھا کر ظاہر کرنا ہی دیکھا گیا ہے۔ حتیٰ کہ بعد ازاں بھی، اپنی کسی اچھی کارکرگی کا کوئی تذکرہ کئے بغیر ہی ان کی سابق حکمرانوں پر، کھلی بے بنیاد جھوٹی اور من گھڑت، الزام تراشی، بد تمیزی، بے عزتی، تضحیک اور طعنہ زنی کو ہی، اپنی تقریروں، بیانات اور عوامی خطابات کا بڑا موضوع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سابق حکمرانوں کے صحیح یا بگڑے نام لے کر ان کی کردار کشی کرنا، بدقسمتی سے یہاں گزشتہ کئی سال سے ایک مسلسل رجحان بنائے رکھنے پر اصرار اور فخر محسوس کیا جاتا رہا ہے یہ روش درست نہیں ہے۔ اس بارے میں قومی خزانے سے غیر قانونی طور پر خورد برد کرنے والے نام نہاد راہنماؤں اور ان کے مفاد پرست حواریوں کو آج بھی ٹھوس مواد کے ثبوتوں کے ساتھ، گرفت میں لانے کی کوئی مخالفت نہیں کی جا رہی، کیونکہ لاکھوں، کروڑوں اور اربوں روپے یا قیمتی املاک کی کرپشن کا ارتکاب بلا شبہ ایک سنگین جرم ہے جس پر متعلقہ مجرموں کو جلد پکڑ کر متعلقہ عدالتوں سے سزا دلانے کی پوری توجہ اور پروی مقدمات کے ذریعے، کوشش کرنی چاہئے۔ لہٰذا قومی وسائل اور دولت کی لوٹ مار کرنے والے سابق اور موجودہ حکمرانوں کے خلاف وفاقی اور صوبائی سطح کے اداروں کو بروقت چوکس اور تیار رہ کر ان کو قانون اور انصاف کی گرفت میں لانے کی ممکنہ کوششیں اور کاروائیاں بروئے کار لانے میں کوئی تاخیر رعایت تساہل، جانبداری، برادری یا فرقہ پرستی کی تعلق داری حائل نہ رکھی جائے۔ اب کچھ سابقہ حقائق کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمارے ملک کے محب وطن انصاف پسند اور با شعور لوگوں کی خصوصی توجہ درکار ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ کیا یہاں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا انعقاد آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ہوتا ہے؟ جبکہ ایک عام تاثر یہ ے کہ مجوزہ انتخابات سے قبل ہی مخصوص سیاسی جماعت یا اتحادی جماعتوں کو، بر سر اقتدار لانے کا فیصلہ کر کے مستقبل قریب میں کامیاب امیدواروں، مجوزہ وزراء کے ناموں اور ان کے محکموں کے تعین کا بھی فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ لیکن اس انداز کی سیاسی قیادت پر اکثریتی تعداد میں لوگوں کو اعتماد نہیں ہوتا بلکہ کئی لوگ یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ اس دفعہ فلاں سیاسی راہنما یا ان کی زیر قیادت سیاسی جماعت کے برسر اقتدار آنے یا لانے کی بار ہے۔ جبکہ کسی جماعت یا سیاسی اتحاد کو اقتدار کی باری دینا آئین پاکستان اور یہاں کے متعلقہ انتخابی قوانین میں کہاں لکھا ہے؟ قارئین کرام جانتے ہیں کہ بیشتر جمہوری اور مہذب ممالک کے بارے میں ایسی اطلاعات گاہے بگاہے ملتی ہیں کہ وہاں بعض سیاسی جماعتیں یا ان کے اتحاد مسلسل کئی سالوں سے کئی بار کے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے برسر اقتدار آئے ہیں۔ وہاں انتخابات میں کسی مخصوص یا لاڈلی سیاسی جماعت یا اتحاد کو بہر صورت اقتدار سونپنے کی کوئی منصوبہ سازی اور عمل داری بروئے کار نہیں لائی جاتی۔ اس بارے میں یہاں بعض غیر منصفانہ اور غیر قانونی روایات اور ترجیحات کو جلد ترک اور ختم کر نا ضروری ہے …… جب یہاں عوام کی خواہشات اور رائے دہی کے مطابق نمائندے منتخب کرنے کے آزادانہ اور منصفانہ ماحول میں رخنہ اندازی کو ترجیح دے کر بعض غیر جمہوری انداز کے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کی سازش کاری کے ذریعے من مرضی کے نتائج حاصل کئے جائیں تو اس صورت میں عوام میں مایوسی، بے چینی اور بد اعتمادی پیدا ہو کر اور ملک گیر سطح پر پھیل کر وہاں کے لوگوں میں بھی ذمہ دار اور غلط کار طبقوں کیخلاف منافرت تقویت پذیر ہو گی۔ اس طرح ملکی مسائل کے حل میں بھی مشکلات اور مصائب حائل رہیں گے۔ ایسے نتائج سے الیکشن کمیشن اور کئی امیدواروں کے اربوں روپے کے اخراجات کرنے اور کروڑوں عوام کی شرکت سے انتخابی کاوش کا اصل مقصد ہی بے کار ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں ہمیں اپنی اصلاح کرنا لازم ہے۔

قومی سطح پر یہ عزم کیا جائے کہ ہمیں سابقہ غلط کاریاں ترک کر کے محنت، دیانت اور جدید تحقیق پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ ہمارا نصب العین، مثبت کارکردگی اور بہتر نتائج ہوگا اب ہمیں باہمی الزام تراشی کی بجائے آگے دیکھنا اور بڑھنا ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -