کیا یہ سب ضروری ہے؟ ماضی سے سیکھیں!

کیا یہ سب ضروری ہے؟ ماضی سے سیکھیں!
کیا یہ سب ضروری ہے؟ ماضی سے سیکھیں!

  

عزیر بلوچ کے معاملہ پر جو ہنگامہ آرائی جاری ہے اسی حوالے سے ماضی کی بعض یادیں تازہ کرنا ہیں اور قارئین سے یہی وعدہ بھی کیا تھا لیکن آج یہ تحریر شروع کرتے ہوئے مجھے وطن پر قربان ہو کر شہادت کا درجہ پانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ ابھی شمالی وزیرستان میں چار جوانوں کی شہادت کا زخم تازہ تھا کہ بلوچستان میں بڑی دہشت گردی ہوئی۔ دہشت گردوں نے سیکیورٹی عملے کی ایک پٹرولنگ پارٹی پر حملہ کیا۔ اس سے ایک افسر سمیت آٹھ جوان شدید زخمی ہوئے، ان میں سے تین نے موقع پر ہی جان، جانِ آفرین کے سپرد خاک آٹھ کو شدید زخمی حالت میں سی ایم ایچ کوئٹہ پہنچایا گیا۔ تادم تحریر ان کا علاج جاری اور دہشت گردوں کو تلاش کیا جا رہا تھا۔ اللہ شہدا کے درجات بلند کرے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔

اس حوالے سے مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر آئی اور سیکورٹی اہلکار اس سے نبرد آزما ہیں۔ یہی نہیں کورونا اور ملک کے معاشی حالت کا بھی تقاضہ ہے کہ ہمارے اندر قومی وحدت ہو، دکھ کا یہ مقام ہے کہ ایسا نہیں، ہم بحیثیت قوم کسی نامعلوم گہرائی کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ سیاسی محاذ آرائی، ذاتی دشمنی کی حد تک بڑھ گئی ہے، اس مرحلے پر ملتان میں جاوید ہاشمی کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ درج ہو گیا اور وہ اپنی دیرینہ روایت کے مطابق ڈٹ گئے ہیں، یوں ایک نیا ایشو تازہ ہو گیاا ور پھر سے ایک پرانی بحث نئے انداز میں شروع ہو گئی ہے، اب تو سوشل میڈیا پر اداروں کے نام لے کر ان کے سربراہوں کا ذکر شروع ہو گیا اور بتایا جانے لگا ہے کہ کہاں کس طرح کا افسر لگایا گیا ہے۔ ایسے میں جب حکمران طبقے کے وہ حضرات جن کے اپنے خلاف الزامات کی بھی تحقیقات جاری اور عدالتوں میں بھی درخواستیں زیر غور ہیں ہاتھ اور بازو لہرا کر دوسروں پر پتھر پھینکتے ہیں تو ادھر سے بھی ”پھول“ برسنا شروع ہو جاتے ہیں اب تو واضح طور پر کہا جانے لگا ہے یہ تم نہیں تمہارے ”سرپرستوں“ کی مہربانی ہے کہ ایسا کہہ رہے ہو، ورنہ قومی اسمبلی میں تمہاری ”بساط“ کیا ہے یوں بھی لوگ حبیب جالب کی بات کرنے لگے ہیں، آج کل مرحوم کی شاعری کا بہت چرچا ہے، ساتھ ہی ساتھ احمد فراز کی غزلیں اور نظمیں بھی وائر ہو رہی ہیں، یوں روز بروز ایک ایسا ماحول بن رہا ہے۔ جو دشمن یا ازلی حریف ہی کے لئے ساز گار ہو سکتا ہے، میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ میری اپنی صحافتی پیشہ ورانہ زندگی میں بڑے بڑے لوگ اقتدار پر براجمان ہوئے، ان کے دور میں بھی وہ اور ملک لازم ملزوم تھے اور یہی کہا جاتا تھا کہ تم سا کوئی نہیں اور پھر جب زوال ہوا تو اپنوں نے بھی چھوڑ دیا آج ان کی قبروں پر فاتحہ خوانی بھی نہیں ہوتی، اسی حوالے سے کہا گیا تم سے پہلے بھی یہاں اک شخص تخت نشیں تھا، اس کو بھی اپنے خدا ہونے کا اتنا ہی یقین تھا۔“

گزارش یہ کرنا ہے کہ سرحدوں پر جو حالات ہیں، ملک کے اندر جو دہشت گردی جاری اور جرائم ہو رہے ہیں جبکہ معاشی حالات بقول خود ابتر ہو گئے ہیں اور کورونا عذاب بھی جان نہیں چھوڑ رہا، ایسے میں ”اقتدار کی جنگ“ کیوں؟ اور یہ ذہن کیوں کہ ”ہم ہیں تو جگ ہے، ورنہ کچھ بھی نہیں“ اس تصور کو ترک کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ذمہ داری حزب اقتدار پر عائد ہوتی ہے کہ وہ جمہوری روایات کا ذکر نہیں، ان پر عمل کرے۔ ”جیو اور جینے دو“ کی پالیسی پر عمل کرے، ملک کا ایک بھی فرد احتساب کے خلاف نہیں۔ سب یہ چاہتے ہیں۔ لیکن قوم یہ بھی خواہش رکھتی ہے کہ احتساب بلا امتیاز، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ہو تاکہ کرپشن جڑ سے ختم ہو جائے۔ اور مستقبل میں کسی کو ایسا کرنے کی جرأیت نہ ہو، اس کے لئے احتسابی اداروں اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں اور یہ جو میڈیا کے ذریعے الزام تراشی ہے، اسے رہنے دیں کہ یہ یکطرفہ نہیں رہتی۔ شفاف اور غیر جانبداری کا دعویٰ ہی کافی نہیں۔ یہ سب نظر بھی آنا چاہئے کہ ایسا نہ ہوا، تو یہ سلسلہ کبھی ختم بھی نہیں ہوگا۔

بات ہم نے عزیر بلوچ کے حوالے سے ماضی کی کرنا تھی کہ آج پہلی بار نہیں، ماضی میں بھی کئی بار یہ عمل ہوا، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ سلسلہ وہاں سے ہی جاری اور دور جدید کے ساتھ جدت اختیار کرتا چلا آ رہا ہے، لاٹھی سے چاقو اور چاقو سے ریوالور، پستول اور بڑھتے بڑھتے بات بڑے بارودی ہتھیاروں تک آ گئی ہے، اس سلسلے میں یہ بھی تاریخ ہے کہ ہمیشہ ریاست طاقت ور ہوتی ہے اور ریاستی قوت سے ٹکرانے والا بالآخر ہزیمت ہی اٹھاتا ہے۔ عزیز بلوچ کتنا ہی طاقتور ہوا، بانی کے پیرو کاروں نے جتنی بھی قتل و غارت کی جب بھی ریاستی عمل نے اپنا کام شروع کیا یہ ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ یہ اور ان سے پہلے والے بھی ”سرپرستی“ ہی میں کھل کھیلتے رہے جب یہ نہ رہی تو انجام سب کے سامنے ہے۔ اس بارے اگلے کالم میں یاد تازہ کریں گے۔ دہشت گردی نے قلم کا رخ ہی موڑ دیا۔دل پریشان ہے یقین مانئے آج کچھ بھی کرنے کو جی نہیں چاہتا،سوچتا ہوں ہمارے آباء نے اسی لئے قربانیاں دی تھیں،اگر میرے والد محترم تحریک پاکستان کے لئے اپنا پورا وقت،تن،من اور دھن نہ لگاتے تو ہمارے گھر میں تین کمانے والے اور بہت ہی معقول آمدنی تھی،آج ہم اور ہمارے بچے بھی بڑا کاروبار کر رہے ہوتے، یہ ملک ہے تو ہم سب اور یہ سب بنگلے اور عیش ہیں۔کچھ خیال کر لیں کہ ہمارے بڑوں نے یہ ملک دیا اور ہم اپنی آئندہ نسلوں کو کیا دے رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -