در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا

در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا

  

کسی نے بتایا کہ کل ہماری گلی میں کوئی پاگل خاتون کافی دیر رہی میں نے کہا آپکو کیسے پتہ وہ پاگل تھی کہنے لگی کبھی وہ کچھ قدم آگے جاتی اور پھر اتنے ہی قدم واپس آتی کبھی وہ ایک جگہ کھڑی نہ جانے کیا سوچتی میں نے کہا کہ یہ حالت تقریباًہر دوسرے تیسرے شخص کی ہے ہر بندہ کسی ہیجانی کیفیت کسی اضطراب میں ہے پوری قوم ہی تذبذب کا شکار ہے۔

دھوپ کی حدت میں شدت بڑھ جائے تو خشک ہونٹ اور پیاسی آنکھیں لئے انسانوں سے لے کر جانوروں تک ہر کوئی آسمان کو ملتمس نگاہوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے اسکی آنکھوں میں فریاد اورلبوں سے دعاؤں کے قافلے زمین کی بے کراں وسعتوں سے آسمان کی رفعتوں کا سفر کرتے ہیں اللہ کی ذات بابرکات کو زمین پر بسنے والی مخلوق پر ترس آتا ہے اور نیلاآسمان کالی کالی بدلیوں کی مہربان مسکراہٹوں سے مزین ہوتا جاتاہے ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے امیدوں کی ڈالیوں پر مرادوں کے پھول کھلنے کی نوید لے کر زمین والوں تک پہنچتے ہیں اور ساتھ ہی ابر رحمت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس سے انسانوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں شگفتہ پودوں کی بہار کے آثار نظر آتے جاتے ہیں جل تھل ایک ہو کر دعاؤ ں کا ثمر پاتے ہیں لیکن دنیا کے خداؤں کے ہاتھوں دلبرداشتہ عوام کی ہیجانی کیفیت بدستور ویسی ہے اضطراب ہے کہ بڑھتا جاتا ہے اور متذبذب نگاہیں کسی مسیحا کی راہ تکتے تھک جاتی ہیں لیکن کوئی مسیحائی کو نہیں آتا نہ ہی انکی دعائیں شرف قبولیت پاتی ہیں شائد اس لئے کہ یہ فطرت کا قاعدہ ہے کہ جیسے عوام ویسے حکمران ہوتے ہیں مگر کبھی کسی سے دھوکہ بھی تو ہوجاتا ہے لیکن یہاں تو دھوکے اور فریب کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا یہاں ہر کوئی بڑے بڑے دعوے کرکے آتا ہے اور مسند نشیں ہوتے ہی اپنے وعدوں سے ایسے مکرتا ہے جیسے بقول غالب

در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا

جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا

عمران خان نے اپنے سو روزہ پلان میں جو منصوبے شامل کئے ان میں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے کے وعدے بھی شامل تھے ایک کروڑ نوکریوں کا مطلب کہ ہر سال بیس لاکھ روزگار کے مواقع۔تحریک انصاف کے ایک کروڑنوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ اپنی دلکشی لئے کام کر گیا کیوں کہ بے روزگاری اور دربدری کے ستم اٹھاتے عوام کے لئے یہ بڑا وعدہ تھا سو تحریک انصاف حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی اور پھر کئی ایسے اعلانات اور بیانات سامنے آئے جو نہ صرف متنازع رہے بلکہ ان پر حکومت کو موقف تبدیل بھی کرنا پڑابلکہ حکومت کی جانب سے پالیسیوں پر مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے جب تنقید بڑھی تو وزیراعظم عمران خان کو یہاں تک کہنا پڑا کہ حالات کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا۔ پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کشکول توڑنے اور خود انحصاری کی روش پر چلنے کے خوبصورت خیالی مناظر دکھا کر عوام کی حمائیت حاصل کرنا مجرب نسخہ سمجھا جاتا ہے بس اسی نسخے کا استعمال تحریک انصاف نے بھی کیا اور کامیاب و کامران ٹھہری لیکن کشکول کیا ٹوٹتا ایک کروڑ نوکریاں کیا ملتیں یہاں تو پہلے سے ملازم طبقہ اپنی نوکریوں کی فکر میں سرگرداں ہے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقتدار میں آنے سے پہلے ماضی کی حکومتوں کے عالمی مالیاتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف کے پاس جانے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور جوش خطابت میں یہ تک کہہ ڈالا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر وہ خودکشی کرنے کو ترجیح دیں گے خدا،خان اعظم کو سلامت رکھے نصیب دشمناں وہ خود کشی کیوں کریں لیکن صاحب عوام خود کشیوں پہ آمادہ ضرور دکھائی دیتے ہیں۔

ایک ہوتا ہے توجہ دلاؤ نوٹس لیکن یہاں توجہ ہٹاؤ نوٹس پہ عمل کیا گیا ہے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوالات کو ٹالنے کے لئے توجہ وزیراعظم ہاؤس میں کھڑی گاڑیوں اور وہاں بھینسوں کی نیلامی پر مرکوز رکھی گئی بھینسوں کی نیلامی کو ہمسایہ ملک نے خوب اچھالا خیر چند کروڑ میں گاڑیوں اور چند لاکھ میں نیلام ہونے والی بھینسیں ملک پربڑھتے معاشی بحران کے سایوں کو ٹال نہیں سکے اور بالآخر حکومت کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنا ہی پڑا عمران خان صاحب ماضی میں فرماتے رہے کہ آزاد امیدوار لاکھوں خرچ کر کے جیت جاتے ہیں اور سیاسی جماعتوں میں حکومت بنانے کے لئے شامل ہو کر اپنا لگایا ہوا پیسہ وصول کرتے ہیں، لیکن میں ایسا نہیں کروں گا، لیکن پھر ایسا ہی ہوا، جہانگیر ترین خان صاحب کا جہاز آزاد امیدواروں کو لے کر اڑان بھرتا اور انہیں خان اعظم کے دربار میں پیش کرتا حالانکہ خان صاحب فرماتے رہے کہ اگر میں دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو لے کر اپنی حکومت بناؤں تو پھر میری تحریک کا مقصد ہی کیا؟ لیکن پھر دیکھا گیا

کہ خان اعظم کو دوسری جماعتوں کے رہین منت ہونا ہی پڑا رہا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پچھلے ادوار میں پی ٹی آئی رہنما کیسے کیسے احتجاج کرتے رہے اور اپنی حکومت میں پٹرول کی قیمتوں میں عوام کے لئے کوئی کمی نہ کر سکے ٹرین حادثوں میں خان اعظم فرماتے رہے کہ سب کو مستعفی ہونا چاہئے لیکن اپنی حکومت میں خوفناک ٹرین حادثوں پر لب کشائی نہ کر سکے یوں نئے پاکستان کا خواب ابھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا؟آج شائد پھر توجہ ہٹاؤ نوٹس پر عمل پیرا ہوتے عزیر بلوچ زیر بحث آگیا ہے اور بحث بھی ایسی کہ لاحاصل،جس کا مقصد ہی کچھ نہیں، اس کے لئے عدالتیں اور ادارے مووجود ہیں، سینکڑوں افراد کے اس قاتل کو عدالتوں اور اداروں پر چھوڑ دینا چاہئے اگر کسی سیاسی جماعت نے اسے استعمال نہیں کیا تو اسے کیا فکر کیا غم؟ لیکن ہمارے سیاسی راستے ہی ایسے ہیں کہ ان پر راہنما بن کر چلئے اور راہزن بن جائیے لیکن ظالم کی عمر کتنی ہی دراز کیوں نہ ہو اسکی راحتوں کی عمردراز نہیں ہوتی مگر خان اعظم آپ سے قوم کو امیدیں وابستہ تھیں اور شائد کوئی موہوم سی امید اب بھی باقی ہو آپکے پاس ابھی وقت ہے کچھ کیجئے کل جب وقت کی ریت آپکی مٹھی سے نکل گئی تو عوام کا سامنا کیسے کریں گے؟

مزید :

رائے -کالم -