وائس چانسلر ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا،کورونا سے ہار گئے

وائس چانسلر ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا،کورونا سے ہار گئے
وائس چانسلر ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا،کورونا سے ہار گئے

  

کورونا نے پاکستان پر حملہ کیا تو جنوبی پنجاب کے سے بڑے ہسپتال نشتر کا محاذ جن ڈاکٹروں نے سنبھالا اُن میں پروفیسر ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا سرفہرست تھے۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے انہوں نے ایک طرف ہسپتال کے میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس فراہم کرنے میں سرگرمی دکھائی تو دوسری طرف نشتر ہسپتال میں کرونا مریضوں کے لئے وارڈز مختص کرنے اور بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی کے ضمن میں دن رات کام کیا۔ ابتدائی دِنوں میں حالات بہت خراب تھے، کورونا مریضوں کی دیکھ بھال سے متعلق ابھی ایس او پیز نہیں بنے تھے اور چاروں طرف خطرات بھی منڈلا رہے تھے تاہم پروفیسر ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا اپنی ٹیم کے ساتھ مسلسل کام کرتے رہے اور انہوں نے نشتر ہسپتال کو کورونا مریضوں کے لئے ایک بڑی علاج گاہ بنا دیا، جہاں آئسولیشن وارڈز بھی بنے،آئی سی یو وارڈ اور وینٹی لیٹرز سے مزین وارڈ بھی قائم کر دیئے گئے نشتر ہسپتال وہ واحد بڑی علاج گاہ ہے، جہاں کسی ڈاکٹر یا پیرا میڈیکل سٹاف کی کرونا سے وفات نہیں ہوئی، مگر کیا معلوم تھا کہ کورونا اس کا بدلہ اس طرح لے گا کہ سب سے اہم پھول کو باغ سے چن کر اسے ویران کر دے گا۔

یہ غالباً20 جون کی تاریخ تھی، جب کچھ علامتیں ظاہر ہونے پر نشتر ہسپتال کے وی سی ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا نے اپنا کورونا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آ گیا، وہ گھبرائے نہیں، بلکہ انہوں نے خود کو ایک ہسپتال میں آئسولیٹ کر لیا۔23جون2020ء کو انہوں نے ہسپتال سے ایک وڈیو بیان جاری کیا، جس میں انتہائی ہشاش بشاش انداز میں کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور آئسولیش میں بے فکری کے مزے لے رہے ہیں،آپ بھی پریشان نہ ہوں، صرف ایک ہفتے میں وہ شفایاب ہو کر سب کے درمیان ہوں گے،اُن کے اس بیان سے اُن کے چاہنے والوں، طلبہ و طالبات، اساتذہ اور دیگر متعلقین کو یک گونہ اطمینان ہوا، پھر چند دن اُن کے حوالے سے خاموشی رہی،جولائی کے پہلے ہفتے میں یہ روح فرسا خبر آئی پروفیسر ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا کو حالت خراب ہونے پر انتہائی نگہداشت وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ اگلے دن بتایا گیا کہ انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا یہ خبر ملتان سمیت پورے ملک میں تشویش کے ساتھ سنی گئی۔ پورے ملک سے طبی ماہرین جن میں کئی ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا کے شاگرد اور کولیگز رہے تھے، ملتان پہنچے،ہر ایک نے اپنی اپنی مہارت کے ساتھ ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا کو کورونا کے جبڑوں سے نکالنے کی کوشش کی، سینئر ڈاکٹروں کے مشورے سے انہیں ملتان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا، ان کے لئے وینٹی لیٹر سے بھی آگے کی ایک سہولت فراہم کی گئی،درمیان میں خبریں آئیں کہ اُن کی حالت سنبھل رہی ہے،اُن میں سانس لینے کی صلاحیت واپس آ رہی ہے۔ایسی خبروں سے ملتان میں ایک اطمینان کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا کی ساری زندگی ملتان میں مریضوں کی خدمت کرتے گزری،مگر یہ اطمینان عارضی ثابت ہوا اور 15جولائی2020ء کی صبح وہ زندگی کی بازی ہار کے راہی ئ ملک ِ عدم ہوئے۔اُن کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بن گئی، وہ خود بھی ایک ایسے مسیحا بن گئے، جو ایک بڑے ادارے کاسربراہ بھی تھا اور کورونا کے وار سے دوسروں کو بچاتے بچاتے خود اس کا شکار ہو کر جان سے گذرگئے۔

ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا کئی اعزازات لے کر اس دُنیا سے رخصت ہوئے۔اُن کا سب سے بڑا اعزز تو یہ ہے کہ انہوں نے بطور وائس چانسلر فرنٹ لائن پر آ کر کورونا کے خلاف طبی جنگ کی قیات کی، ملتان کا میڈیا گواہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے طبی عملے کے درمیان رہے،اُن کے لئے طبی سہولتوں اور حفاظتی سامان کی فراہمی کے لئے مختلف حکومتی اداروں اور مخیر شخصیات سے رابطے میں رہے،شروع کے دِنوں میں کچھ بھی میسر نہیں تھا، مگر وہ اپنے طبی عملے کا حوصلہ بڑھاتے رہے، کئی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے، لیکن ایک دن کے لئے بھی علاج معالجے میں تعطل نہیں آیا۔ ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا کا دوسرا بڑا اعزاز یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان میں سربراہِ ادارہ ہونے کے باوجود صف ِ اول میں رہ کر اس وبا کے خلاف اپنے سٹاف کی قیادت کی اور اسی عمل میں جامِ شہادت نوش کیا، پہلے اُن کے پاس یہ اعزاز تھا کہ وہ نشتر یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر تھے۔اب اُن کے پاس یہ اعزاز بھی ہے کہ وہ کسی بھی یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر ہیں، جنہوں نے کورونا کے خلاف جنگ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے،جو لوگ یہ کہتے تھے کہ کورونا کوئی وبا نہیں، بلکہ عالمی سازش ہے اُن کے لئے ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا کی موت ایک بہت بڑا سبق ہے۔وہ پروپیگنڈہ بھی اُن کی وفات سے دم توڑ گیا ہے کہ ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کو زہر کے ٹیکے لگا کر موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے، ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا کو جتنی اعلیٰ معیار کی طبی سہولتیں فراہم کی گئیں اس سے بڑھ کر فراہم ہی نہیں کی جا سکتی تھیں،

مگر اس کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے،جس سے یہ بات بھی واضح ہو گی کہ کورونا کو اگر لاعلاج کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب کیا ہے؟

ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا عالمی شہرت کے حامل سرجن تھے، لیپرو سکوپک سرجری کے شعبے میں ان کا پورے ملک میں کوئی ثانی نہیں تھا، وہ نشتر میڈیکل کالج کے گریجویٹ تھے اور خوش قسمتی سے بالآخر اسی کے وائس چانسلر بھی تھے۔ اُن کے سینئر و جونیئر شاگرد بتاتے ہیں کہ وہ مایہ ناز استاد تھے،سرجری کے مضمون میں جو طالب علم اُن سے پڑھ جاتے وہ ایک بڑا سرجن بن کر اُبھرتے، ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا کی شخصیت میں سادگی و شگفتگی تھی، بڑے عہدے پر پہنچنے کے باجوجود اُن کی شخصیت کا یہ انداز نہیں بدلا تھا،حتیٰ کہ جو وڈیو پیغام انہوں نے آئسولیشن میں جا کے جاری کیا،اُس میں بھی وہ ویسی ہی شگفتگی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر مصطفےٰ کمال پاشا سماجی شعبے میں بھی خدمت کے حوالے سے یاد رکھے جائیں گے، جب اُنہیں میرٹ پر نشتر میڈیکل یونیورسٹی کا پہلا وائس چانسلر بنایا گیا تو اس فیصلے کا ملتان کے طبی، علمی اور سماجی حلقوں نے بھرپور خیرمقدم کیا۔ وسائل کی کمی کے باوجود وہ اس حوالے سے خاصے سرگرم تھے کہ اس نوزائیدہ یونیورسٹی کو ایک تناور درخت بنایا جائے۔ آغاز میں بے شمار رکاوٹیں حائل تھیں تاہم وہ ایک ایک کر کے انہیں ختم کئے جا رہے تھے۔اب اُن کی کوشش یہ تھی کہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی اپنے امتحانات خود لے اور ڈگری بھی اپنی جاری کرے تاہم درمیان میں کورونا آ گیا اور اُن کی ساری توجہ اس موذی وبا سے نمٹنے پر مرکوز ہو گئی، لیکن وہ خود یا کوئی دوسرا نہیں جانتا تھا کہ یہی وبا اُن کی موت کا سامان لے کر پھر رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -