بک شیلف: مقالاتِ مسعود

بک شیلف: مقالاتِ مسعود
بک شیلف: مقالاتِ مسعود

  

نام کتاب: مقالاتِ مسعود (جلد اول)

تصنیف و تالیف: ڈاکٹر محمد اطہر مسعود

صفحات: 284

سال اشاعت: 2014ء

قیمت: 600 روپے

پرنٹرز: حاجی حنیف اینڈ سنز

پبلشرز: اورینٹل پبلی کیشنز،رائل پارک، لاہور

مبصر: لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان

……………………

یہ کتاب ڈاکٹر محمد اطہر مسعود صاحب کے بارہ مضامین (مقالات) کا مجموعہ ہے اور موضوع ہے برصغیر کی موسیقی پر تعارفی اور تحقیقی کاوش۔ ڈاکٹر عارف نوشاہی (ادارۂ معارف نوشاہیہ، اسلام آباد) کا سات صفحات پر مشتمل تعارف اگرچہ مختصر ہے لیکن ان کے اختصار میں جامعیت کا پہلو یہ ہے کہ انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر یہ ”پیش گفتار“ لکھا ہے۔ اگر کسی کالم میں یہ ”پیش گفتار“ ہی دے دیا جائے تو عام قاری کے لئے یہی کافی ہو گا۔ میں نے عام قاری اور خاص قاری میں امتیاز یہ رکھا ہے کہ یہ کتاب عام قاری کے لئے ’بہت کم‘ اور خاص قاری کے لئے ’بہت زیادہ‘ لکھی گئی ہے۔

ہمارے ہاں موسیقی صرف سننے کی چیز سمجھی جاتی ہے، اسے تحریر کرنے یا اس پر تنقید و توصیف یا تنقیص کا شعور بہت ہی کم قارئین کو ہوتا ہے۔ کلاسیکی موسیقی ویسے تو فنِ موسیقی کی مادر مشفق ہے لیکن مرورِ ایام نے اس کے اتنے رنگ روپ بنا دیئے ہیں کہ سگی ماں، سوتیلی ماں میں تبدیل ہو گئی ہے۔ موسیقی کی یوں تو بہت ساری اقسام ہیں۔ لوک موسیقی اور پاپ موسیقی وغیرہ کو اگر ہلکی پھلکی موسیقی کا نام دیں تو فلمی موسیقی نے اسے آسمانِ شہرت کی بہت اونچی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ برصغیر میں کلاسیکی موسیقی کے سامع بہت کم رہ گئے ہیں۔ ہندوستان میں یہ صنف کسی نہ کسی طرح زندہ ہے کہ یہ ان کے دھرم کا حصہ بھی ہے اور اس کے سیمینار وہاں منعقد ہوتے رہتے ہیں لیکن پاکستان میں نہ تو اس کے زیادہ گویّے باقی ہیں اور نہ سنویّئے…… اگر صوت و صدا میں غنائت (Melody) تلاش کرنی ہو تو وہ آپ کو فلمی موسیقی میں زیادہ اور کلاسیکی میں کم ملے گی۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قبولِ عام کا ذکر آتا ہے۔ آج میاں تان سین اور بیجو باورا کو سننے والے اکبر اعظم اور جہانگیر کے ساتھ تہہ خاک چلے گئے اور ان کی جگہ محمد رفیع اور طلعت محمود آ گئے اور وہ بھی ایک عرصے سے اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ عصرِ موجود کے گیت کار خواہ خواتین ہوں یا مرد اس لئے زندہ ہیں کہ ان کو ریکارڈنگ ٹیکنالوجی نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ امید ہے کہ یہ مستقبلِ قریب و بعید میں بھی زندہ رہیں گے۔ ہند۔ فارسی موسیقی کے قدیم فنکاروں کے دور میں اگر یہ ریکارڈنگ سہولیات میسر آتیں تو ماضی کو حال سے منسلک کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آتی۔ لیکن پرابلم یہ ہے کہ قدیم کلاسیکل گویّوں کو زندہ رکھنے کے لئے بعد میں آنے والے جن گویّوں نے ان کی نقالی کی۔وہ نقل بمطابق اصل نہیں تھی یا اصل سے آگے نکل گئی یا کچھ پیچھے رہ گئی۔

باقی رہی یہ بات کہ قدیم موسیقی کو ورطہ ء تحریر میں کیسے لایا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام از حد مشکل ہے اور عوام و خواص کے لئے زود اثر اور زود ہضم نہیں۔ فنِ موسیقی کی کوئی معتبر لغت آج تک میرے علم میں نہیں آئی۔ اس فن کی اصطلاحات چند در چند ہیں۔ ان کو معیار بند کرنا بھی ایک مسئلہ ہے۔ آوازوں کو تحریر میں ڈھالا نہیں جا سکتا۔ اور اگر کوئی لکھاری بہت سر مار بھی لے تو پھر بھی وہ خود تو شائد سمجھ لے لیکن سمجھانے بیٹھے گا تو اس کے گلے کا مماثل دستیاب ہو گا نہ فن کی باریکیوں، مرکیوں اور سُرتال کی بندشوں کو جاننے والا سامنے آئے گا۔ میں سمجھتا ہوں اسی لئے فنِ موسیقی کی تحریروں کے ”لکھویّئے“ بھی خال خال پائے جاتے ہیں اور ”پڑھوّیئے“ بھی!

اس تناظر میں ڈاکٹر صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک مستند ”لکھوّیا“ ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا ہے لیکن میں نے ان کی جن چار پانچ تصانیف کا سرسری مطالعہ کیا ہے ان کو پڑھ کر ان کی کامل تفہیم نہیں پا سکا۔ اسے اپنی کم نصیبی کے سوا اور کیا کہہ سکتا ہوں:

وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بے نیازی

مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نے نوازی

مغربی موسیقی کے سلسلے میں ان موضوعات پر بہت کام ہوا ہے۔ وہاں کے آرکسٹرا اور سمفنیاں سننے کی چیزیں ہیں لیکن ان کی سماعت کے لئے بھی گوشِ آشنا ضروری ہے، غالب نے یونہی نہیں کہہ دیا تھا:

ساقی بجلوہ دشمنِ ایمان و آگہی

مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے

”مقالاتِ مسعود“ کے عناوین درجِ ذیل ہیں:

1۔ہند۔ فارسی ادب میں کلاسیکی موسیقی پر لکھی گئی کتب(51ص)

2۔برصغیر کی کلاسیکی کتبِ فنِ موسیقی (25ص)

3۔شہنشاہِ جہانگیر کا ذوق موسیقی (6ص)

4۔ رسالہ ء راگ مالا ہندی (9ص)

5۔مفرّح القلوب (30ص)

6۔اصول النغمات۔ قلمی نسخہء (10ص)

7۔اصولِ النغمات (نسخہ ء شیرانی) (15ص)

8۔اصول النغمات الا صفی (10ص)

9۔رسالہ مغنیان ہندوستان (12ص)

10۔نغمہ ء قدسی (22ص)

11۔ستار نواز ولائت حسین خان (20ص)

12۔ رشید ملک (احوال و آثار) (22ص)

درجِ بالا 12مقالات میں سے8طبع زاد ہیں اور 4انگریزی اور فارسی سے ترجمہ میں۔ لیکن مصنف، مولف اور مترجم اطہر مسعود نے ان کے متون (Texts) کی ترتیب و تدوین میں جس فنی ذوق کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائقِ صد ستائش ہے۔ راقم کو کلاسیکی موسیقی کا ”ککھ“ پتہ نہیں۔ ہلکی پھلکی موسیقی بالعموم اور فلمی موسیقی بالخصوص کبھی کبھی میرا دامنِ سماعت کھینچتی رہی ہے۔ ترجمہ ایک نہائت مشکل فن ہے۔ اس کے لئے دونوں زبانوں پر پوری طرح قدرت شرطِ اول ہے اور چونکہ ہندوستانی فنِ موسیقی کی کوئی باقاعدہ تحریری لغت مارکیٹ میں دستیاب نہیں اس لئے ڈاکٹر صاحب کی کاوش بلاشبہ ان کے ذوقِ تحقیق و شوقِ تجسس کی ترجمان ہے۔ مجھے ایک دوست نے یہ ”مخبری“ بھی کی ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ فن کے اچھے محقق ہیں بلکہ خود بھی گلوکار ہیں اور سٹیج پر پرفارم کر چکے ہیں اور وہ بھی اساتذہ فن کے سامنے……

ایک بیورو کریٹ کے فرائض گوناگوں ہوتے ہیں۔ ان سے عہدہ برآ ہونا اور پھر انگریزی، فارسی، پنجابی اور اردو زبان میں لکھی کئی کتب موسیقی کا مطالعہ کرکے ان پر نقد و نظر کرنا ایک مشکل چیلنج ہے لیکن شائد یہی مشکل پسندی ڈاکٹر صاحب کو اس مقام تک لے آئی ہے۔ ان کی باقی تین چار کتب کے جستہ جستہ اوراق کو دیکھ کر ان کے تحقیقی اور ادبی رجحانات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ ایسے ادیب، نقاد، محقق اور مترجم ہمارے ہاں بہت کم ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان کو شعر گوئی سے بھی کوئی علاقہ ہے یا نہیں لیکن ان کی نثر چغلی کھاتی ہے کہ وہ شعر فہمی سے گہری شناسائی رکھتے ہیں اور اس ”قسم“ کا شناسا، شعر گوئی کی لَت کی طرف جاتا ضرور ہے۔ اگر ایسا ہے تو شائد ان کا وہ مجموعہ ء کلام بھی دیکھنے اور پڑھنے کو ملے جو اب تک انہوں نے مسودے کی صورت میں سنبھال رکھا ہو گا۔

اس کتاب میں ایک بات جو مجھے کھٹکی ہے وہ خطِ نسخ اور خطِ نستعلیق کا ملغوبہ ہے جو کئی صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ اگر کسی تحریر میں زبانوں کے امتیاز کا اظہار مقصود ہو تو اس کو بجائے خطِ نسخ اور خطِ نستعلیق میں طبع کرنے کے صرف ایک ہی خط میں ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ اصل متن کو بڑے فانٹ سائز میں اور اس کے ترجمے کو اس سے نسبتاً چھوٹے اور کمتر سائز میں دیا جا سکتا ہے۔ قاری کی ”طبعِ نازک“ پر تین رسوم الخط (انگریزی، عربی اور اردو) کا کسی ایک ہی صفحے پر اکٹھا کیا جانا، گراں گزرتا ہے۔ مجھے معلوم ہے ڈاکٹر صاحب کے پاس میری دلیل کا ردِ دلیل بھی ہو گا جو شائد زیادہ قرینِ یقین ہو لیکن مجھے خود بھی ان دلائل اور ان کے ردّ سے سابقہ پڑ چکا ہے۔ اگر کسی مرکب (Phrase) کو کسی پیراگراف میں باقی تحریر سے ممیز کرنا مقصود ہو تو اس کا فانٹ سائز بڑا کرنے یا رسم الخط تبدیل کرنے کی بجائے اس مرکب کو واوین میں دیا جا سکتا ہے۔ اور اگر دو واوین بوجھل معلوم ہوں تو ان کو سبک کرنے کے لئے ایک واؤ (دونوں اطراف میں)کافی ہوتی ہے۔

ایک دو اور بہت معمولی گزارشات بھی کرتا چلوں تو کچھ مضائقہ نہ ہوگا……ایک تو یہ ہے کہ سنین کو صرف عیسوی کیلنڈر میں دیا جائے۔ قمری اور ہجری کیلنڈر میں دینے سے قاری کا ذہن پراگندگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ کہنا یا لکھنا کہ غزوۂ بدرسن 2ھ کو ہوا آج کے اس قاری کو گراں گزرے گا جو سکول، کالج اور یونیورسٹی میں تاریخِ اسلام کا ذکر پڑھتے ہوئے غزوۂ بدر کو 2ھ کی بجائے 624ء میں دیکھنے، سننے اور پڑھنے کا عادی ہے۔ اور اگر کسی قدیم آثار و احوال میں سنِ ہجری کا حوالہ دیا بھی گیا ہو تو اس کو سنِ عیسوی میں تبدیل کرنے میں کچھ دیر نہیں لگتی۔ اور اگر سن ہجری کا حوالہ بہت ضروری ہو تو دونوں کو بریکٹ میں دیا جا سکتا ہے جیسے (624ء/2ھ) وغیرہ…… اسی طرح کتاب کے صفحات کو اردو اعداد میں املا کرنا بھی محلِ نظر ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں اردو اعداد کا استعمال متروک ہو چکا ہے۔ اس کتاب میں جہاں جہاں انگریزی متن کے حواشی دیئے گئے ہیں ان میں انگریزی زبان کے اعداد کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس دو عملی سے احتراز کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -