مہمند، خاصہ داروں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی، دھرنا جاری

مہمند، خاصہ داروں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی، دھرنا جاری

  

مہمند (نمائندہ پاکستان)قوم مشران کا چھٹے روز بھی احتجاجی مظاہرہ۔پشاور باجوڑ شاہراہ تین گھنٹے ہر قسم آمدورفت کے لئے بند رکھا۔شدید گرمی میں مریضوں عام سواریوں کو سخت مشکلات کا سامنا۔خاصہ داروں کے تنخواہوں کے ادائیگی تک احتجاج جاری رہیگا۔مہمند پارلیمنٹرین پر شدید تنقید۔سرکاری تقریبات سے مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ روزانہ کی بنیاد پر سڑک کو ہر قسم آمدورفت کے لئے بند رکھنے کا فیصلہ۔سوشل میڈیا پر قومی مشران کے خلاف پروپیگینڈے کرنے والوں کے نشاندھی کے بعد قبائیلی روایات کے مطابق باز پرس کرینگے۔مقامی انتظامیہ بے بس۔ اعلیٰ حکام فوری نوٹس لیکر مسلہ کو عوام کے خاطر حل کیا جائے۔ مقررین کا خطاب تفصیلات کے مطابق ضلع مہمند کے مختلف اقوام کے مشران و سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے خاصہ داروں کے تنخواہوں کے بندش کے خلاف چھٹے روز بھی احتجاجی دھرنا جاری رکھا۔دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا۔کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام نے سیکورٹی فورسزکے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر علاقہ کو شرپسندوں سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔جس میں 75 تک قومی مشران نے جانی قربانی دے کرشہادت بھی نوش کی۔حکومت نے انگریز کے دور سے  دی گئی خاصہ داروں کو خدمات کے بدلے تحفے میں دی ہیں۔مگر اب خیبر پختونخواہ پولیس نے ان کے تنخواہوں کو بند کررکھاہے۔ہم زبردستی پر کوئی بھی فیصلہ ماننے کو تیار نہیں۔البتہ جرگہ رسم و رواج کے تحت پہلے بھی حکومت کے ساتھ دیا تھا۔اور اب بھی مذکرات جرگہ پر تمام مسائل و مشکلات کے حل کے لئے تیار ہیں۔مگر پولیس کے حکام نے بغیر کوئی اطلاع ہمارے خاصہ داروں کو بند کر کے ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے۔ ہم اس فیصلے کو ہر گز برداشت نہیں کرینگے۔مہمند سیاسی اتحاد،جے یو آئی،جماعت اسلامی،پی پی پی،مسلم لیگ(ن)،اے این پی،مسلم لیگ (ق) کے رہنماوں نے قومی مشران کے مطالبے کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔مشران نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کل دیگر اضلاع کے مشران اور ریگولر خاصہ دار فورس کے ذمہ داران کے ساتھ بھی رابطے کرینگے۔جوکہ ہمارے ساتھ اس احتجاجی دھرنا میں شامل ہو جائے کیونکہ ان تنخواہوں میں ذیادہ تر شہدا،بیواؤں کی بھی ہے۔ جس مشران نے ملک کے خاطر شہادتیں نوش کی ہیں۔قومی مشران نے دھمکی دی اگر ہمارا مسئلہ جلد از جلد حل نہ ہوا تو ہم ہر قسم سرکاری تقریبات سے بائیکاٹ کے اعلان کرتے ہیں۔قومی مشران نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا اور قبائیلی مشران کو بدنام کرنے والوں کے خلاف لشکر کشی کرنے کی دھمکی دے ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -