سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف کے ووٹ پول کرنے کیخلاف 14 روز میں جواب طلب

  سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف کے ووٹ پول کرنے کیخلاف 14 روز میں جواب طلب

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے چئیرمین سینٹ پر عدم اعتماد میں سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف کے ووٹ پول کرنے کے خلاف دائر رٹ پر حکومت سے 14 دن میں جواب طلب کرلیا جسٹس اکرام اللہ خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جواب کیوں جمع نہیں کررہی اگر حکم امتناعی جاری کر دیا تو حکومت کے کام رک جائیں گے کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نے درخواست گذار شاہد اوکرزئی نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین سینٹ تحریک عدم اعتماد میں سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے ووٹ کا استعمال کیا وہ غیر قانونی تھا بیرسٹر محمد علی سیف چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں چیئرمین کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ قانون میں چیئرمین سینٹ کی کرسی پر بیٹھ کر ووٹ کا استعمال نہیں کیا جاسکتا کیس میں عدالتی احکامات کے باوجود جواب جمع نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور جسٹس اکرام اللہ نے کہا کہ حکومت جواب کیوں جمع نہیں کرا رہی حکم امتناع جاری کیا تو حکومت کے کام رک جائے گے فاضل بینچ نے حکومت کو 14 دن کے اندر جواب جمع کرنے کے احکامات جاری کر دیئے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -