سکرونٹی کمیٹی نے اکبر ایس بابر اور پی ٹی آئی کو دوبارہ 23جولائی کو طلب کر لیا

        سکرونٹی کمیٹی نے اکبر ایس بابر اور پی ٹی آئی کو دوبارہ 23جولائی کو طلب ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)تحریک انصاف کے خلاف مبینہ ممنوعہ ذرائع سے غیرملکی پارٹی فنڈنگ معاملہ پر سکروٹنی کمیٹی نے اکبر ایس بابر اور پی ٹی آئی کو دوبارہ 23جولائی کوطلب کرلیا۔بدھ کو الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کا پی ٹی آئی کی فنڈنگ کی تحقیقات کیلئے اجلاس ہوا جس میں درخواستگزار اکبر ایس بابر اور پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور سکروٹنی کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے جمع کرائے گئے جوابات کا جائزہ لیا،سکروٹنی کمیٹی نے اکبر ایس بابر اور پی ٹی آئی کو دوبارہ 23 جولائی کو طلب کر لیا۔اکبر ایس بابر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مارچ 2018 میں قائم سکروٹنی کمیٹی نے ایک ماہ میں کام مکمل کرنا تھا،تحریک انصاف کے بیرون ممالک 5 اکاونٹس کی ہم نشاندہی کر چکے ہیں،پاکستان میں 23 بینک اکاونٹس کی تفصیلات بھی پی ٹی آئی نے تاحال فراہم نہیں کی،الیکشن کمیشن سے گزارش کی تھی سکروٹنی کمیٹی تحقیقات مکمل کرے،الیکشن کمیشن نے 17 اگست تک سکروٹنی کمیٹی کو وقت دے دیا ہے،ہم کمیٹی کی بھی عزت کرتے ہیں اور الیکشن کمیشن پر بھی اعتماد کرتے ہیں،ہم نے پی ٹی آئی کے خلاف تمام ثبوت جمع کرائے ہیں،پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس کو الیکشن کمیشن میں 6 سال ہونے لگے ہیں،اس کیس میں طوالت ہوئی ہے جسے الیکشن کمیشن نے خود کہا،ابراج کیس میں عارف نقوی عمران خان کے قریبی دوست ہیں،عارف نقوی پر 380 ملین ڈالر چرانے کا کیس ہے،عارف نقوی پی ٹی آئی کے بہت بڑے ڈونر تھے،ہمیں امید ہے 17 اگست کے بعد پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کا معاملہ حتمی مراحل میں داخل ہونگی،الیکشن کمیشن کے سامنے تمام دلائل دیں گے،اگر ہمارے حق میں فیصلہ آیا تو پی ٹی آئی اسے چیلنج کرے گی،اگر ہمارے خلاف فیصلہ آیا تو ہم سپریم کورٹ میں اس کیس کو لڑیں گے۔

فندنگ کیس

مزید :

صفحہ اول -