جیالے دنیا کو بتادیں دوران وباء تحریک کیسے چلتی ہے: بلاول بھٹو

جیالے دنیا کو بتادیں دوران وباء تحریک کیسے چلتی ہے: بلاول بھٹو

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ نہ صرف کورونا سے لڑنے کیلئے سما جی فاصلہ رکھنے کا خیال رکھیں بلکہ اسے حکومت کیخلاف تحریک شروع کرنے کے اعلان کی ریہرسل بھی سمجھیں، عمران خان کے وزیراعظم کے عہدے پر براجمان رہنے سے ملک ایک بحران سے دوسرے بحران کی طرف جائے گا اور پاکستان کے استحکام کو خطرات درپیش ہیں،عمران خان اور ملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ سلیکٹڈ وزیراعظم کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے اور خود حکومت چھوڑ دینی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات کراچی سے بدھ کی شام مختلف شہروں میں پارٹی لیڈروں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انکا مزید کہنا تھا اس بات میں کوئی شک نہیں کورونا کی وجہ سے سیاسی تحریک شروع نہیں ہوگی، تاہم جیالے دنیا بھر کو بتا ئیں گے دوران وباء سیاسی تحریک کس طرح چلائی جاتی ہے۔ مو جو دہ حکومت میں ایک کے بعد ایک ریاستی ادارے کو تباہ کردیا گیا ہے، ملک اور بیرون ملک میں حکومت کی ساکھ بحران کا شکار ہے۔ سلیکٹڈ حکومت کی کرپشن نے ساری حدیں پار کر دی ہیں۔ بی آرٹی پراجیکٹ کرپشن کی مثال بن چکا ہے اور اس کے ٹھیکیداروں کو مزید ٹھیکے دئیے جا رہے ہیں۔ نیب نے کہا تھا وہ بی آرٹی کرپشن پر ریفرنس دائر کریگا لیکن اب نا معلو م وجوہات کی بناپر چیئرمین نیب خاموش ہوگئے ہیں۔ آٹا چینی بحران سے لے کر مالم جبہ تک اور ایک بلین درخت لگانے سے لے کر فارن فنڈنگ کیس تک اور پٹرول کی قیمتو ں میں اضافے سے لے کر دیگر میگا کرپشن کے سمندر میں یہ حکومت تیر رہی ہے۔پہلے سال ہی میں 270ارب روپے کی کرپشن اور بے قاعدگیوں کی دستاویز پیش کر دی ہے۔ پا کستان اپنی تاریخ کے 1971کے سخت ترین بحران میں بھی ترقی کی شرح کبھی بھی منفی نہیں گئی لیکن اس حکومت کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے ترقی کی شرح منفی ہوگئی ہے۔ عوام کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے اور بیروزگاری روزانہ کی بنیادی پر بڑھتی جا رہی ہے اور عوام خود کشیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اٹھارہویں ترمیم میں ردوبدل اور این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم کرنے پر حکومت کو متنبہ کیا اورکہا وہ وقت چلا گیا جب وفاقی حکومت ملکی خزانے میں ہاتھ ڈال کر اس سے پیسے نکال لیتی تھی اور صوبوں کو پیسے نہیں ملتے تھے۔در یں اثنا ء چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علما اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ٹیلی فون کرکے ان سے ملکی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دو نو ں رہنماؤں نے بجٹ کے بعد بدترین معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا میں نے حکومتی کرپشن پر سوالات اٹھائے مگر عمران خان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ انہوں نے کل پی ٹی آئی حکومت کی ناکامیوں پر پریس کانفرنس کی تھی جس میں مسئلہ کشمیر، معیشت اور کورونا وائرس کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کی نااہلیوں کو اجاگر کیا تھا اور پی ٹی آ ئی حکومت کی کرپشن کو بھی بے نقاب کیا تھا۔ انہوں نے عمران خان کو چیلنج کیا تھا وہ قومی اسمبلی یا ٹی وی پر مناظرہ کر لیں۔ دوسرا چیلنج یہ دیا تھا وہ این آئی سی وی ڈی طرز کا ایک ہسپتال بھی پورے پاکستان میں دکھا دیں۔ تیسرا چیلنج یہ کیا تھا خیبرپختونخواہ اور پنجاب میں کورونا کے فی کس ٹیسٹنگ کا موازنہ سندھ سے کروائیں مگر عمران خان نے ابھی تک میر ے کسی بھی چیلنج کو قبول نہیں کیا۔ عمران خان نے ابھی تک میرے کسی بھی چیلنج کو قبول نہیں کیا۔

بلاول بھٹو

مزید :

صفحہ اول -