ٹرمپ انتظامیہ کا یوٹرن، غیر ملکی طلبہ پر پابندیاں واپس

ٹرمپ انتظامیہ کا یوٹرن، غیر ملکی طلبہ پر پابندیاں واپس

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی ریاستوں اور تعلیمی اداروں کے شدید دباؤ پر ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی یونیورسٹیوں میں داخل غیر ملکی طلبہ پر پابندیاں واپس لے لیں۔ وائٹ ہاؤس کے چھ جولائی کو جاری ہونیوالے ایک حکم میں بتایا گیا تھا جو غیر ملکی طلبہ آن لائن کلا سز میں داخلہ لیں گے ان کا ویزہ منسوخ ہو جائیگا۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں وباء کے باوجود تعلیمی ادارے محتاط طریقے سے دوبارہ جلد از جلد کھول دیئے جائیں۔ اسلئے جو غیر ملکی طلبہ باقاعدہ کلاسیں نہیں لیتے اور اس کی بجائے صرف آن لائن کلاسوں کو منتخب کریں گے تو ان تمام کا ویزہ منسو خ کر دیا جائیگا۔ اس کے بعد سترہ ریاستوں کی حکومتوں نے اس کیخلاف عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علا وہ دو عالمی شہر ت کے حامل تعلیمی اداروں ہارورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی نے بھی عدالت میں مقدمہ درج کرا دیا۔ ملک بھر کے دو سو کے قر یب تعلیمی ادار و ں نے دائر مقدمے کے حق میں یادداشت بھجوائی۔ منگل کے روز جب مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو عدالت کو بتایا گیا کہ ٹرمپ انتظا میہ نے پابندیوں کا فیصلہ واپس لے لیا ہے اور یونیورسٹیوں کیساتھ تصفیہ کر لیا ہے۔ عدالت نے بتایا اس تصفیے کے مطابق وہ پالیسی بحال کر دی گئی ہے جو مارچ میں کورونا وائرس کی وباء ظاہر ہونے سے پہلے نافذ تھی۔ امریکی امیگریشن محکمے نے غیر ملکی طلبہ پر پابندی عائد کی تھی کہ وہ بلاشک آئن لائن کلاس کلاسوں میں داخلہ لیں لیکن انہیں کم از کم ایک کلاس کیمپس میں آ کر لینی ہو گی ورنہ ان کا ویزہ منسوخ کر دیا جائیگا اور انہیں ملک چھوڑنا پڑ جائے گا۔ کیلی فورنیا اور میسا چوسٹس سمیت سترہ امریکی ریاستوں اور واشنگٹن ڈی نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کیخلاف مقدمات درج کرائے جن میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ غیر ذمہ دارانہ ظالمانہ اور عقل سے بالاتر ہے، اس کے بعد درجنوں یونیورسٹیوں نے قانونی کارروائی کی حمایت کی۔

ٹرمپ یو ٹرن

مزید :

صفحہ اول -