ٹیکسٹائل پاکستان کی برآمدات کا اہم ترین جزو ہے: گورنر سندھ

ٹیکسٹائل پاکستان کی برآمدات کا اہم ترین جزو ہے: گورنر سندھ

  

کراچی (این این آئی) گورنر سندھ عمران اسماعیل سے پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے وفد نے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔ وفد میں نریش کمار، مہیش کمار اور شام لعل شامل تھے۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی نند کمار گوکلانی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں کاٹن جنرز کو درپیش مختلف مسائل،جننگ فیکٹریوں کے لئے بجلی کی مسلسل فراہمی،الگ ٹرانسفارمرز،ایسوسی ایشن کے اراکین کے لئے بینکوں سے رننگ فائنانس کی سہولت کی فراہمی اور ٹیکسٹائل کے شعبہ سے متعلقہ دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنرسندھ نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل پاکستان کی برآمدات کا اہم ترین جزو ہے، دور جدید میں ٹیکسٹائل کی صنعت کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اس شعبہ سے منسلک تمام صنعتوں کے مسائل حل کرنے کے لئے اقدامات کررہی ہے تاکہ یہ صنعت قومی تقاضوں کے مطابق مزید ترقی کرسکے اس ضمن میں وفاقی وزیر پانی و بجلی کے ہمراہ عید کے بعد اجلاس منعقد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کی دستیابی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے صنعتوں کو تسلسل سے بجلی کی فراہمی کے لئے بھرپور اقدامات یقینی بنائے جارہے ہیں اس سلسلہ میں حیسکو اور سیپکو کے سربراہوں کو کاٹن جنرز کے مسائل حل کرنے کے لئے ہدایت کردی ہے۔وفد نے گورنرسندھ کو اس صنعت سے متعلق درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بجلی کی عدم فراہمی کے باعث صنعتوں کی پیداواری صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اس وقت ملک کی کپاس کا 40 فی صد سندھ میں پیدا ہوتا ہے اور صوبہ میں کپاس جننگ کی 300 فیکٹریاں ہیں جن میں بڑی تعداد میں افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسوسی ایشن کو موجودہ حکومت سے بڑی توقعات وابستہ ہیں امید ہے کہ پاکستان کاٹن جنرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -