سینیٹ، ہرادارے میں آئی ایم ایف آبیٹھا، قوم کو وزیراعظم کی خودکشی کا انتظار، اپوزیشن ارکان

سینیٹ، ہرادارے میں آئی ایم ایف آبیٹھا، قوم کو وزیراعظم کی خودکشی کا انتظار، ...

  

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے کہا ہے کہ مقبو ضہ کشمیر کی آزادی کے لیئے قومی ایکشن پلان بنانے کی ضرورت ہے، کشمیریوں کی پوری سیاسی قیادت جیل میں ہے، آج کشمیر کا ہر بچہ برہان وانی بن گیا ہے،پاکستان نے سلامتی کونسل میں بھارت کی غیر مستقل نشست کی مخالفت نہیں کی، موجود ہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے قوم کو مشکل سے دوچار کیا،پیٹرول کی قیمت 25روپے بڑھائی گئیں اس پر بھی کمیشن ہونا چاہئے،30 ارب کی نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم پر سبسڈی دی گئی اور بڑے بڑے بلڈرز کو ایمنیسٹی دی گئی ہے، اس میں کوئی غریب گھر نہیں بنا سکتا، بڑے بڑے گھر بنیں گے اس میں کالا دھن سفید ہو گا، آج ٹیچرز،کسان، مزدور سب ہڑتال پر ہیں،ساڑھے 9ہزار کے قریب افراد کو بے روزگار کیا گیا ہے،ملازمین کے لئے ہر سال بجٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے یہ 10فیصد بھی نہیں کر سکے،اس حکومت نے صدر کوکئی غلط مشورے دیئے ہیں، ایوان صدر کا غلط استعمال کیا گیا۔ان خیالات کا اظہار بدھ کو سینیٹ میں سینیٹر سراج الحق، شیری رحمان،جاوید عباسی، عبد الغفور حیدری اور دیگر نے صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے کئے گئے خطاب پر بحث کرتے ہوئے کیا۔بدھ کو سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے تحریک تشکر پیش کی کہ یہ ایوان12ستمبر 2019کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے پر صدر پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ تحریک پر بات کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل میں بھارت کی غیر مستقل نشست کی مخالفت نہیں کی، اب کشمیر کے ساتھ کیا ہوگا جب بھارت کے پاس یہ غیر مستقل نشست ہے۔ جو تبدیلی آنی تھی وہ تو نہیں آئی، ہم سب کشمیر میں کسی بھی آمرانہ ایکشن کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ پٹرول کی قیمت 25روپے بڑھائی گئیں اس پر بھی کمیشن ہونا چاہئے، تیس ارب کی نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم دی گئی ہے، اور بڑے بڑے بلڈرز کو ایمنیسٹی دی گئی ہے، اس میں کوئی غریب گھر نہیں بنا سکتا، بڑے بڑے گھر بنیں گے اس میں کالا دھن سفید ہو گا۔سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ صدر کی تقریر پر ایک سال بعد بحث کرائی جارہی ہے،اس حکومت نے صدر کوکئی غلط مشورے دیئے ہیں، ایوان صدر کا غلط استعمال کیا گیا،سب سے زیادہ آرڈیننس انہوں نے نکلوائے ہیں۔ جو حکومت کے خلاف بات کرتا اس کو جیل کوراستہ دکھایا جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگائی ہے سب سے زیادہ لوگ اس وقت مایوس ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیریوں کی پوری سیاسی قیادت جیل میں ہے، آج کشمیر کا ہر بچہ برہان وانی بن گیا ہے، میں مطالبہ کرتا ہوں کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیئے قومی ایکشن پلان بنانے کی ضرورت ہے۔ ہماری حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے قوم کو مشکل سے دوچار کیا،اسٹیل مل کا ادارہ تباہ ہو گیا، واپڈا تباہ ہو گیا۔کورونا وائرس کی وجہ سے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ نے تنخواہیں نہیں لیں، پندرہ لاکھ اساتذہ میں دو لاکھ بہنیں بیٹیاں ہیں۔سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ صدر کی تقریر میں ملک میں مسائل کو حل کرنے کی تجاویز ہونی چاہیے تھیں۔ تجاویز کے بعد حکومت سے بھی پوچھا جاتا کہ میری گراں قدر تجاویز کا کیا بنا۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آئی ایم ایف جانا پڑا تو خودکشی کر لوں گااب اسٹیٹ بینک،ایف بی آر ہر جگہ آئی ایم ایف ہے تو قوم کو انتظار ہے وزیر اعظم خودکشی کب کریں گے۔

اپوزیشن ارکان

مزید :

صفحہ آخر -