یکساں نصاب تعلیم کو اردو میں نافذ کیا جائے،فیصل علی بلوچ

یکساں نصاب تعلیم کو اردو میں نافذ کیا جائے،فیصل علی بلوچ

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان کے بچوں کے ساتھ زیادتی قبول نہیں مستقبل کے معماروں کو رٹے کی سمت لگانا درست اقدام نہیں آواز خلق فانڈیشن کے بانی و صدر فیصل علی بلوچ نے وفاق کی جانب سے یکساں نصاب اردو کی جگہ انگریزی میں رائج کرنے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا عام فہم زبان میں ہی تعلیم کا فروغ ملک کو ترقی کی طرف لے کر جاتا ہے ساتھ ہی انہوں نے اسکولوں کو کھولنے پر بھی زور دیا آن لائن نظام تعلیم بچوں کی طبعی و ذہنی نشوونما کو نہیں ہونے دے گا لہذا اسکولوں کو ایس او پیز کے تحت فوری کھولا جائے مرکزی سیکرٹری جنرل صبا فضل نے کہا آئین کی شق 251 اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کسی طور قابل قبول نہیں انگریزی کو ایک اختیاری مضمون کی حیثیت حاصل ہونی چاہیئے آواز خلق فانڈیشن شعبہ تعلیم کے انچارج ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں نے کہا اردو زبان ہماری قومی زبان ہے جسے اب مکمل طور پر نافذ ہوجانا چاہیئے پاکستان کا ہر شخص اردو باآسانی سمجھ بول لکھ سکتا ہے نصاب تعلیم کو اردو میں ہی رائج کیا جانا چاہیے ساتھ ہی علاقائی زبانوں کو بھی اہمیت دی جائے اور انہیں بھی نصاب میں شامل کیا جائے شعبہ تعلیم کی نائب انچارج پروفیسر ثریا بابر نے کہا حکومت اپنے فیصلے سوچ سمجھ کر لے عوام کی فلاح اس کی اپنی زبان میں ہے اب ہمیں انگریزی اور انگریزوں سے اپنی ذہنی سوچ کو آزاد کرنا ہوگا آزاد پاکستان کا آزاد شہری بننا ہوگا اردو زبان ہی اتحاد و امن پیدا کرتی ہے

مزید :

صفحہ آخر -