خانپور میں چینی کا بحران، سٹاک گوداموں میں ذخیرہ کرنیکا انکشاف

خانپور میں چینی کا بحران، سٹاک گوداموں میں ذخیرہ کرنیکا انکشاف

  

خان پور(نمائندہ پاکستان)حکومت کی جانب سے چینی کے نرخ 82روپے فی کلو سے کم کرکے 70روپے فی کلو کرنے پر ذخیرہ اندوزوں نے چینی اپنے خفیہ گوداموں (بقیہ نمبر42صفحہ7پر)

میں ذخیرہ کرلی ہے جس سے خان پور اور اسکے گردونواح میں چینی کا بحران پیدا ہوچکاہے،ان خیالات کا اظہارسیاسی سماجی وکاروباری شخصیات ماجد شہزاد چوہدری،محمد نعیم گلن، عبدالعزیز انجم،ملک عبدالحلیم،ڈاکٹر شاہد حنیف،محمود الحسن چوہدری،محمد باقرالزما ں،قیصر سہیل چوہدری کے ہمراہ سروے میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ چینی کے بوروں کی سپلائی دکانوں کو نہ ملنے سے ہول سیل اور پرچون کے دکانداروں کا کاروبار بھی ٹھپ ہوکر رہ گیاہے،چینی کے بحران میں یکدم شدت کے باعث عام شہری چینی کی تلاش میں دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں،خان پور کے کئی شہری علاقوں کے علاوہ درجنوں بستیوں وکئی چکوک کے کئی دکانداروں نے عوام کو چینی کی فراہمی بند کردی ہے جس سے چینی کا بحران یکدم شدت اختیار کرگیاہے،دکانداروں کی جانب سے خریداری کیلئے آنیوالے شہریوں کو وجہ یہی بتلائی جارہی ہے کہ ہمیں چینی 75روپے فی کلو کے حساب سے مہیا کی جارہی تھی جو ہم 80روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کررہے تھے کہ انتظامیہ کی جانب سے انکے خلاف کاروائیاں کی گئیں جس سے چینی کی فروخت کئی دکانداروں نے بند کردی ہے۔ شہریوں نے کہا کہ چینی کا یہ بحران مصنوعی ہے اور اسکے ذمہ دار ذخیرہ اندوز ہیں۔انہوں نے کہاکہ چینی ہماری روز مرہ کی ضرورت ہے اسکے بغیر گھر کا کچن متاثر ہوتاہے۔انہوں نے کہا کہ چینی کے اس مصنوعی بحران کا خاتمہ انتظامیہ کیلئے کوئی بڑی بات نہیں، انتظامیہ ذخیرہ کی جانیوالی چینی بر آمد کرکے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائیاں عمل میں لائے ساری چینی باہر نکل آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی گرفت نا ہونے کے برابر ہے۔عوام موجودہ حکومت کو بددعائیں دے رہے ہیں۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -