سرائیکستان صوبہ محاذ کا ملتان میں سیکرٹریٹ کے قیام تک احتجاج جاری رکھنے کااعلان

  سرائیکستان صوبہ محاذ کا ملتان میں سیکرٹریٹ کے قیام تک احتجاج جاری رکھنے ...

  

ملتان (سٹی رپورٹر)صوبائی وزیر ڈاکٹر اختر ملک و دیگر ایم پی اے کل تک کہاں تھے؟ وزیراعلیٰ نے ملتان میں ہوتے(بقیہ نمبر43صفحہ6پر)

ہوئے صوبے یا سول سیکرٹریٹ کی بات کیوں نہ کی؟ حکمران صوبہ نہیں بنانا چاہتے، سرائیکی صوبے کے اعلان اور ملتان میں صوبائی سیکرٹریٹ کے قیام تک احتجاج جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان صوبہ محاذ کی طرف سے کئے گئے دیرہ اڈا ملتان پر احتجاجی مظاہرہ کے موقع پر شریک چیئرمین ظہور دھریجہ اور شریف خان لشاری نے خطاب کے دوران کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں حاجی محدم اعظم سومرو شاہجمالی، زبیر دھریجہ، محمد طارق خان نیازی، عاشق محمد لانگ، صداقت علی خان ٹانوری، حاجی محمد سلیم درگھ، ذوہیب علی ڈاونج، محمد مبین بھٹی، حاجی محمد رشید اور دیگر شریک تھے۔ اس موقع پر زبردست نعرے بازی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر ڈاکٹر اختر ملک کا یہ کہنا غلط ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بہاولپور سیکرٹریٹ کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا، حقیقت یہ ہے کہ 11 مارچ 2020 ء کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے خود اعلان کیا تھا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری بہاولپور بیٹھے گا، ہمارا بہاولپور سے کوئی جھگڑا نہیں، ہم سب سول سیکرٹریٹ نہیں صوبہ سرائیکستان چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وسیب کے زبردست دباؤ کے نتیجے میں صوبائی وزیر اور وزراء کو سول سیکرٹریٹ اور صوبے کے لئے پریس کانفرنس یاد آ گئی ہے لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ ان کی زبانوں کو کل تک تالے کیوں پڑے تھے؟ وہ سرائیکی صوبہ تحریک کا حصہ کیوں نہ بنے؟ انہوں نے کہا کہ وسیب کو برباد کرنے کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں آج معصوم بن کر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نصف صدی سے صوبے کی جدوجہد کر رہے ہیں، یہ کبھی ایک لمحہ کیلئے بھی ہمارے ساتھ جدوجہد میں شریک نہیں ہوئے مگر سوشل میڈیا پر وسیب میں بسنے والے تمام افراد نے زبردست مذمت کر کے ان کے چہروں سے نقاب اتار لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کیلئے وسیب کا ہر فرد متحد ہے اور وہ صوبہ چاہتا ہے اور یہی بات ایک ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے، حکمرانوں کو بلا تاخیر اپنے وعدے کے مطابق صوبے کا اعلان کرنا چاہئے اور ملتان میں صوبائی سیکرٹریٹ کے دفاتر کی تعمیر کیلئے 20 ارب روپے کا فنڈ ریلیز کرنا چاہئے اور حکومت کی طرف سے ملتان بہاولپور کو لڑانے کی پالیسی ترک ہونی چاہئے۔ سرائیکی رہنماؤں نے سرائیکی صوبے کی کھل کر حمایت نہ کرنے پر مخدوم جاوید ہاشمی و دیگر سیاستدانوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عمر کے اس حصے میں یہ لوگ وسیب سے غداری پر خدا سے توبہ کریں اور انہی لوگوں کی وجہ سے وسیب پر جتنے مظالم ہوئے، ان کی وسیب کے لوگوں سے معافی مانگیں اور وسیب کے انسانی حقوق اور صوبہ سرائیکستان کیلئے اپنا کردار ادا کریں، ورنہ ان کے گھروں کے باہر مظاہرے کئے جائیں گے۔

اعلان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -