حلقہ287،مضر صحت پانی لوگوں کا مقدر، منتخب نمائندے نعرے لگا کر غائب

حلقہ287،مضر صحت پانی لوگوں کا مقدر، منتخب نمائندے نعرے لگا کر غائب

  

شادن لُنڈ(نمائندہ پاکستان) 4لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی حلقہ 287 کے لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں کیونکہ حلقہ کے اکثر علاقوں میں زیر زمین پانی کڑوا ہے جو استعمال کے قابل نہیں جبکہ اکثر علاقوں میں دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے واٹر سپلائی سکیمیں ناکارہ ہو چکی ہیں بلکہ ان کا وجود بھی نہیں رہا جبکہ واٹر سپلائی سکیم کنڈی والا جوکہ عرصہ 2سال سے مکمل ہو چکی ہے(بقیہ نمبر4صفحہ6پر)

صرف شادن لُنڈ ریلوے ٹریک سے لائن گزارنی ہے محکمہ پبلک ہیلتھ نے ریلوے حکام کو ڈیمانڈ کی رقم بھی جمع کرا دی مگر دو سال گزر جانے کے باوجود بھی مقامی منتخب نمائندے واٹر سپلائی سکیم چالو نہ کرا سکے حالانکہ اس سکیم کے چالو ہونے سے بستی گھمن سمیت علاقہ پجادھ کی درجنوں بستیوں کے ہزاروں لوگ مستفید ہو سکتے ہیں پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے پر لوگ روزانہ کی بنیاد پر 30روپے فی کین کے حساب سے میٹھا پانی خرید رہے ہیں جو کہ غریب عوام کیلئے باعث پریشانی ہے ہر الیکشن میں امیدوار پینے کے صاف پانی فراہمی کا وعدہ کرتے ہیں مگر کامیاب ہو کر بھول جاتے ہیں اور عوام ان کے جھوٹے وعدوں پر جی رہے ہیں اب شدید گرمی کے باعث پانی کی مانگ بڑھ گئی جو لوگ پانی خریدنے کی سکت نہیں رکھتے وہ دور دراز علاقوں سے پانی بھر کے لاتے ہیں جبکہ متعدد علاقوں میں آج بھی لوگ نہر اور نالوں کا آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں مضر صحت پانی کے استعمال سے ان علاقوں کے اکثر لوگ وبائی امراض میں مبتلا ہیں پینے کا صاف پانی جو کہ ہر انسان کا بنیادی حق اور ضرورت ہے حکومت فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے۔

غائب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -