وائرس کو سیاست نہیں آتی!

وائرس کو سیاست نہیں آتی!
وائرس کو سیاست نہیں آتی!

  

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ چونتیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور پانچ لاکھ اکاسی ہزار دو سواکیس جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ امریکہ میں پینتیس لاکھ پنتالیس ہزار سے زائد افراد اس وبا سے متاثر ہیں اورایک لاکھ انتالیس ہزار ایک سو تنتالیس جان کی بازی ہارچکے ہیں۔ برازیل میں کورونا وائرس سے انیس لاکھ اکتیس ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں اور چوہتر ہزار دو سو باسٹھ اموات ہوئی ہیں۔بھارت میں کورونا کے نو لاکھ سنتیس ہزار چارسو ستاسی مریض ہیں اور چوبیس ہزار تین سو پندرہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ نام نہاد بڑی طاقتیں وائرس کی ہلاکت خیزی کی پروا کئے بغیر سیاست کے کھیل میں مصروف ہیں۔ جب کہ سیاست سے ناآشنا وائرس اپنی ہلاکت خیزی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ووہان اور چین کی عظیم تر قربانیوں ، جن کو پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر تسلیم کیا گیا ہے کہ باجودسرد جنگ کی حامل ذہنیت کے حامل چند لوگ اب بھی چین کو بدنام کرنے کے لئے بے بنیاد بیانات اور الزامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت یہ ضروری اور اہم امر ہے کہ حقیقی تصویر قارئین کے لئے پیش کی جائے تاکہ مسلسل بولا جانے والا یہ جھوٹ بے نقاب ہو اور حقیقی تصویر سامنے آئے۔

چین پر حقائق کی پردہ پوشی کا الزام غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وائرس سے متعلق چین کا ردعمل اور وائرس کے حوالے سے نوٹیفکیشن انتہائی شفاف ، تیز اور ذمہ دارانہ تھے۔جیسا کہ ٹائم لائن واضح طور پر ظاہر کرتی ہے ، چین میں نامعلوم وجوہات سے پیدا ہونے والے نمونیا کے تین معاملات 27 دسمبر 2019 کو چین کے صوبہ حوبے میں سب سے پہلے رپورٹ ہوئے۔ صرف دو دن بعد ہی متعلقہ حکام نے وبائی تحقیقات کا آغاز کیا۔ اس کے 4 دن بعد 31 دسمبر 2019 کو چین میں ڈبلیو ایچ او کے دفتر کو اس حوالے سے مطلع کیا گیا۔ 7 جنوری2020 کواس وائرس کی شناخت واضح ہوگئی تھی ، اور نوول کورونا وائرس کا "جینوم سیکونس کو 12 جنوری کو ڈبلیو ایچ او کے ساتھ شئیر کر دیا گیا تھا ۔

معروف میڈیکل جریدے دی لانسیٹ کے چیف ایڈیٹر رچرڈ ہارٹن نے حقائق کا خلاصہ ان الفاظ میں کیا تھا : "ہمیں جنوری کے آخری ہفتے میں پتہ چلا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ چین کی جانب سے یہ پیغام بالکل واضح تھا ، کہ یہ ایک نیا وائرس ہے ، جو وبائی طاقت رکھتا ہے اور شہروں کے شہر اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں"۔

چین پر حقائق چھپانے کے حوالے سے تنقید بلاجواز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ، چین نے بروقت اعداد و شمار جاری کئے ، جس میں تشخیص شدہ کیسز ، مشتبہ کیسز ، شدید نوعیت کے حامل کیسز ، صحت یاب ہونے والے مریضوں ، انتقال کر جانے والے اور قرنطین کئے جانے والوں کی تعداد بھی شامل ہے۔ دنیا میں کیسز کی تعداد ایک کروڑ سے زائد اور چین میں نہایت کم ہونا بھی ایک اعتراض ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چینی حکومت نے وبا کے نسبتاً ابتدائی مرحلے میں وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لئے انتہائی جامع ، مکمل اور سخت ترین اقدامات اختیار کئے۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی عوام بھی قابل تعریف ہیں جنہوں نے اپنی حکومت کے فیصلوں کا بھرپور احترام کیا اور وبا کی روک تھام کی کوششوں میں اپنی حکومت کا مکمل ساتھ دیا۔

یہ دعوی کرنا غلط ہے کہ چین نے لاک ڈاؤن میں تاخیر کی ، جس کی وجہ سے وائرس پھیل گیا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ، چین کا لاک ڈاؤن انتہائی تیز اور موثر تھا۔یہ بات ذہن میں رکھیں کہ کووڈ-19 انسانی تاریخ کا ایک بالکل نیا وائرس ہے ، لہذا یہ قدرتی بات ہے کہ کسی بھی ملک کو اس کی روک تھام کے ساتھ ساتھ اس کا شکار ہونے والوں کے علاج کی کوششیں بھی کرنا ہیں۔ جب تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بہت کم ہو تو فوری لاک ڈاؤن نہیں کیا جا سکتا۔در حقیقت ، چینی حکومت نے 23 جنوری ، 2020 کو "ووہان کے لاک ڈاؤن" کا اعلان کیا ، یہ اعلام نامعلوم وائرس کے پہلے کیس کی اطلاع آنے کے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں کیا گیا۔ اس کے سات روز بعد 30 جنوری کو عالمی ادارہ صحت نے اس وبا کو "پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آف انٹرنیشنل کنسرسن" کانام دیا ، جس نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہےکہ چین طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔

اس سے قبل کے دیر ہو جائےدنیا کے ارباب اختیار کو دانش کو اس حقیقت سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وائرس کو سیاست نہیں آتی تو اس مقابلہ بھی سیاست ترک کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -