نان الیکٹڈلوگ حکومت چلارہے ہیں جس کی وجہ سے عوام تک ثمرات نہیں پہنچ رہے،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے حکومت میں نان الیکٹڈکی شمولیت پرسوالات اٹھادیئے

نان الیکٹڈلوگ حکومت چلارہے ہیں جس کی وجہ سے عوام تک ثمرات نہیں پہنچ رہے،چیف ...
نان الیکٹڈلوگ حکومت چلارہے ہیں جس کی وجہ سے عوام تک ثمرات نہیں پہنچ رہے،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے حکومت میں نان الیکٹڈکی شمولیت پرسوالات اٹھادیئے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پٹرولیم مصنوعات کی قلت سے متعلق درخواستوں پرسماعت کے دوران چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے حکومت میں نان الیکٹڈکی شمولیت پرسوالات اٹھادیئے ،چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وہ لوگ جوعوامی نمائندے ہیں ان کی سوچ عوام کی فلاح ہے،جوعوامی نمائندہ نہیں انکی سوچ عوام کے مفادنہ ہی ریاست کیلئے ہے،ان کی سوچ صرف کمپنی کامفادہے،نان الیکٹڈلوگ حکومت چلارہے ہیں،عوام تک ثمرات نہیں پہنچ رہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہورہائیکورٹ میںپٹرولیم مصنوعات کی قلت سے متعلق درخواستوں پرسماعت ہوئی، چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل، ڈپٹی اٹارنی جنرل اسدباجوہ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن آغاعدالت میں پیش ہوئے، پٹرول بحران پر اٹارنی جنرل نے کابینہ کے میٹنگ منٹس عدالت پیش کردیئے ،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے حکومت میں نان الیکٹڈکی شمولیت پرسوالات اٹھادیئے ،چیف جسٹس قاسم خان نے کہاکہ وہ لوگ جوعوامی نمائندے ہیں ان کی سوچ عوام کی فلاح ہے،جوعوامی نمائندہ نہیں انکی سوچ عوام کے مفادنہ ہی ریاست کیلئے ہے،ان کی سوچ صرف کمپنی کامفادہے،نان الیکٹڈلوگ حکومت چلارہے ہیں،عوام تک ثمرات نہیں پہنچ رہے۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ وفاقی کابینہ کے مطابق پٹرول کی قلت مصنوعی تھی،اگریہ قلت مصنوعی تھی توکس کیخلاف ایکشن لیاگیا؟، عدالت نے کہاکہ نان الیکٹڈکاکہناہے پٹرول کی قیمتوں کے طریقہ کارمیں تبدیلی پربحران آیا،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ عوامی نمائندے کا کہناہے قیمتیں کم ہوں یازیادہ فائدہ کمپنیزکاہے،پرنسپل سیکریٹری شایدوزیراعظم کوخوش کرنے کیلئے یہ منٹس بنارہاہے،میٹنگ منٹس میں جہاں کابینہ لکھاہوناچاہیئے وہاں ہرجگہ وزیراعظم لکھاہے۔

چیف جسٹس قاسم خان نے کہاکہ اتنی بڑی سطح پراتنی بڑی غلطی کی امیدنہیں تھی،جولوگ ووٹوں سے آئے ہیں ان کاکام عوام کی خدمت کرناہے،معاون خصوصی عوام کے مفادنہیں،کمپنیوں کاسوچتے ہیں،جولوگ ووٹ لےکرآتے ہیں وہ اپنے لوگوں کاسوچتے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیاکہ قیمت میں اضافہ کیسے ہوتاہے؟،اٹارنی جنرل نے کہاکہ پہلے اوگرا کہتاہے پھروزارت سمری تیارکرتی ہے،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ کیااوگرانے کہاقیمت 26 تاریخ سے بڑھادیں؟،اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ اوگرانے نہیں کہا،عدالت نے کہاکہ تو 26 تاریخ کو کیسے قیمت بڑھادی جب اوگرانے تجویزہی نہیں کیا؟،اٹارنی جنرل نے کہاکہ وزارت پٹرولیم نے ٹیلیفون پر اوگراسے بات کی،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے کہاکہ کیایہ ملک کےساتھ مذاق چل رہاہے؟،اگرقیمت پہلے بڑھانی تھی تواس کیلئے ٹھوس وجہ چاہئے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ مجھے جیسے بتایاگیاویسے ہی بتارہاہوں،کسی کادفاع نہیں کررہا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -