پیشکش قبول ، پاکستان کا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو  کو آج قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ 

  پیشکش قبول ، پاکستان کا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو  کو آج قونصلر رسائی ...
  پیشکش قبول ، پاکستان کا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو  کو آج قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت نے پاکستان کی بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو دوسری بار قونصلر رسائی دینے کی پیشکش قبول کرلی اور دنیا نیوز کے سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی ناظم الاموردفتر خارجہ پہنچ گئے۔سفارتی ذرائع نے بتایا کہ  کلبھوشن یادیوکی موجودگی کی جگہ کو ہی  سب جیل قرار دیدیا گیا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کس جگہ پر ہے ۔ 

نجی ٹی وی چینل کے ذرائع نے بتایا کہ  بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوکوآج ہی  قونصلررسائی دی جائےگی۔یاد رہے کہ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کو ا یک بار قونصلر رسائی دینے کاحکم دیا تھا لیکن پاکستان نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری بار بھی کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کی پیشکش کی جسے بھارت نے قبول کرلیا اور بھارتی حکام دفتر خارجہ پہنچ گئے ۔

 خیال رہے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائی گئی۔ کلبھوشن یادیو پر پاکستان کے خلاف جاسوسی اور اتنشار پھیلانے کا الزام تھا۔ کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پاٹیل  را  کا ایجنٹ تھا۔بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا، کلبھوشن یادیو کو قانون کے مطابق دفاع کا پورا موقع دیا گیا، کلبھوشن سدھیر یادیو کا سروس نمبر 41558 زیڈ تھا۔

واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فورسز نے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا تھا اور اس کے قبضے سے حساس مقامات کی تصویریں، اہم دستاویزات برآمد ہوئی تھیں، کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی میں بھی ملازمت کرتا رہا ہے، کلبھوشن یادیو نے 1987 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی جوائن کی اور 1991 میں بھارتی نیوی میں بحیثیت کمیشن افسر ملازمت کی۔بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہونے کے بعد را کیلئے بھارت میں ہی جاسوسی کے فرائض انجام دیئے، کلبھوشن یادیو گرفتاری کے وقت بھی بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر تھا اور اس کی 2022 میں بطور کمیشن افسر ہی ریٹائرمنٹ ہونا تھی۔

کلبھوشن یادیو نے 2013 میں را میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد بلوچستان، کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے اور علیحدگی کی تحریکیں چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو گرفتار کیا گیا تھا۔بھارتی جاسو س کلبھوشن یادیو نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا تھا اس کی پاکستان آمد کا مقصد بلوچستان اور کراچی میں علیحدگی کی تحریکوں کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قتل و غارت گری بھی کرنا تھا۔

یادرہے کہ اس سے قبل بھارتی جاسوس نے اپنی سزا کیخلاف اپیل کرنے سے بھی انکار کردیا تھا ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان اور ڈی جی جنوبی ایشیا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو کلبھوشن یادیو تک دوبارہ قونصلر رسائی کی پیشکش کی ہے،امید ہے بھارت پاکستان کی پیشکش کا مثبت جواب دے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی عدالت کے من و عن عملدرآمد کیا،پاکستان کا قانون فیصلے کا ازسر نو جائزہ لینے کی اجازت دیتا ہے، مگر کلبھوشن یادیو نے عدالت میں سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے اپنا وکیل پیش کرنے کی درخواست کی ہے جس کو رد کردیا ہے، صرف پاکستانی ہائی کورٹ کے لائسنس یافتہ وکلاء پیش ہوسکیں گے، کلبھوشن یادیو یا اسکا وکیل رحم کی اپیل دائر کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی عالمی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ اور پاکستان آئی سی جے کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے تیار ہے،احمد عرفان کا کہنا تھا کہ بھارت معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -Breaking News -