سٹیل ملز سے متعلق بنایاگیا منصوبہ صرف تباہی ہے ،زیادہ ہوشیاری سٹیل ملز انتظامیہ کے گلے پڑجائے گی ،چیف جسٹس پاکستان کے دوران سماعت ریمارکس

سٹیل ملز سے متعلق بنایاگیا منصوبہ صرف تباہی ہے ،زیادہ ہوشیاری سٹیل ملز ...
سٹیل ملز سے متعلق بنایاگیا منصوبہ صرف تباہی ہے ،زیادہ ہوشیاری سٹیل ملز انتظامیہ کے گلے پڑجائے گی ،چیف جسٹس پاکستان کے دوران سماعت ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سٹیل ملز ملازمین کی ترقیوں سے متعلق کیس میں چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سٹیل ملز سے متعلق بنایاگیا منصوبہ صرف تباہی ہے ،زیادہ ہوشیاری سٹیل ملز انتظامیہ کے گلے پڑجائے گی ،پاکستان سٹیل ملز تمام ملازمین کو نہیں نکال سکتی ۔

میڈیارپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں سٹیل ملز ملازمین کی ترقیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،چیف جسٹس پاکستان نے سٹیل ملز انتظامیہ پراظہاربرہمی کرتے ہوئے کہاکہ سٹیل ملز سے متعلق بنایاگیا منصوبہ صرف تباہی ہے ،زیادہ ہوشیاری سٹیل ملز انتظامیہ کے گلے پڑجائے گی ۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ پاکستان سٹیل ملز تمام ملازمین کو نہیں نکال سکتی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ کابینہ نے سٹیل ملز کے تمام ملازمین کو نکالنے کافیصلہ نہیں کیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ملازمین کو اس طرح نکالا تو 5 ہزار مقدمات بن جائیں گے ،ایسا ہوتو پاکستان سٹیل ملز چت ہوکر رہ جائے گی ۔

وکیل سٹیل ملز نے کہاکہ ملازمین کی برطرفی کیلئے 40 ارب درکار ہوں گے، چیف جسٹس نے کہاکہ ایسا نہ ہو سٹیل ملز انتظامیہ کو برطرف کئے گئے ملازم ہی دوبارہ رکھنے پڑیں ،وکیل سٹیل ملز نے کہا کہ انڈسٹریل ریلیشن قانون کی شق 11 آڑے آئے گی ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ قانون آپ کے آڑے نہیں بلکہ پورا آئے گا،عدالت نے وفاقی حکومت سے پاکستان سٹیل ملز سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -