چینی مین لینڈ پر نوول کورونا وائرس کا کوئی نیا مقامی کیس سامنے نہیں آیا

چینی مین لینڈ پر نوول کورونا وائرس کا کوئی نیا مقامی کیس سامنے نہیں آیا
چینی مین لینڈ پر نوول کورونا وائرس کا کوئی نیا مقامی کیس سامنے نہیں آیا

  

بیجنگ(شِنہوا)چین کے قومی صحت کمیشن نے کہاہے کہ چینی مین لینڈ پر بدھ کے روز نوول کورونا وائرس کی مقامی سطح پر ترسیل کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تاہم ایک درآمدی کیس کی اطلاع موصول ہوئی ہے

۔قومی صحت کمیشن نے جمعرات کے روزاپنی روزانہ کی رپورٹ میں کہاہے کہ بدھ کے روز کوئی بھی نیا مشتبہ کیس سامنے نہیں آیا اور اس بیماری کی وجہ سے کسی ہلاکت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔درآمدی کیس شنگھائی میں سامنے آیاہے۔بدھ کے روز کل 26افراد کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔بدھ کے آخر تک مین لینڈ پر نوول کروناوائرس کے 1ہزار989درآمدی کیسز کی اطلاعات موصول ہوچکی ہیں۔ ان درآمدی کیسز میں سے 1ہزار905کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کیا جا چکا ہے جبکہ 84ہسپتالوں میں ہیں جن میں سے دو شدید بیمار ہیں۔ درآمدی کیسز میں سے کسی ہلاکت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔بدھ تک مین لینڈ پر مجموعی کیسز کی تعداد83ہزار612تک پہنچ گئی جن میں سے 259مریضوں کا تاحال علاج جاری ہے جبکہ 3شدید بیمار ہیں۔

کمیشن نے کہاکہ مجموعی طور پر 78ہزار719افراد کو صحت یاب ہونے پر فارغ کیا جا چکا ہے جبکہ مین لینڈ پر 4ہزار634افراد اس بیماری کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔کمیشن نے کہاکہ 3افراد کے تاحال اس وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہے جن میں سے 2مین لینڈ کے باہر سے آئے ہیں۔کمیشن کے مطابق 3ہزار313قریبی رابطہ کار تاحال طبی نگرانی میں ہیں۔ بدھ کو364افراد کو طبی نگرانی سے فارغ کر دیا گیا۔بدھ کے ہی روز مین لینڈ پر بغیر علامات والے 2نئے کیسز سامنے آئے جن میں سے ایک مین لینڈ کے باہر سے آیا ہے۔ بغیر علامات والے کسی کیس کو مصدقہ کیسز کے درجے میں شامل نہیں کیاگیا۔

کمیشن نے کہاکہ بغیر علامات والے 104کیسز تاحال طبی نگرانی میں ہیں جن میں سے 81مین لینڈ کے باہر سے آئے ہیں۔بدھ تک ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقہ میں 10ہلاکتوں سمیت 1ہزار588مصدقہ کیسز، مکاو¿ خصوصی انتظامی علاقہ میں 46مصدقہ کیسز جبکہ تائیوان میں 7ہلاکتوں سمیت451مصدقہ کیسز سامنے آچکے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقہ میں 1ہزار241مریض،مکاو¿ خصوصی انتظامی علاقہ میں 45جبکہ تائیوان میں 440مریض صحت یاب ہونے پر ہسپتالوں سے فارغ کئے جاچکے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -