باراک اوباما اوربل گیٹس سمیت دنیا کے معروف ترین لوگوں کے ٹویٹر اکاﺅنٹ نوسربازوں نے ہیک کرلیے، ناقابل یقین واقعہ

باراک اوباما اوربل گیٹس سمیت دنیا کے معروف ترین لوگوں کے ٹویٹر اکاﺅنٹ ...
باراک اوباما اوربل گیٹس سمیت دنیا کے معروف ترین لوگوں کے ٹویٹر اکاﺅنٹ نوسربازوں نے ہیک کرلیے، ناقابل یقین واقعہ

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ٹوئٹر جیسی سوشل میڈیا ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز محفوظ ترین خیال کی جاتی ہیں جنہیں شاذ ہی کوئی ہیکر ہیک کر پاتا ہے لیکن دو روز قبل ہیکرز نے ایسے طریقے سے ٹوئٹر کو ہیک کر لیا اور دنیا بھر کی اعلیٰ شخصیات کے اکاﺅنٹس کو استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں لوگوں کو بھاری رقوم سے محروم کر دیا کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ میل آن لائن کے مطابق دو روز قبل ہیکرز نے ٹوئٹر پر ہیکنگ کا ایک ایسا منظم حملہ کیا جس میں انہوں نے ٹوئٹر کے اندر سے ایک شخص کو اپنے ساتھ ملایا ہوا تھا۔ ٹوئٹر کے اپنے ملازم کی مدد سے ہیکرز نے سسٹم تک رسائی حاصل کی اور بڑی بڑی شخصیات کے ٹوئٹر اکاﺅنٹس کو ہیک کرکے ان سے ایک ٹویٹ کی جس میں انہوں نے لکھا کہ ”کورونا وائرس کی وجہ سے ہم اپنی کمیونٹی کو رقم دینا چاہتے ہیں۔ آپ ہمیں بٹ کوائن (ڈیجیٹل کرنسی) بھیجیں، ہم آپ کو ڈبل کرکے واپس بھیجیں گے۔اگر آپ 1ہزار ڈالر مالیت کے بٹ کوائنز بھیجیں گے تو آپ کو 2ہزار ڈالر مالیت کے بٹ کوائنز واپس ملیں گے۔آپ کے پاس بٹ کوائنز بھجوانے کے لیے صرف 30منٹ کا وقت ہے۔“ اس ٹویٹ میں ہی ہیکرز نے وہ ایڈریس بھی دے رکھا تھا جس پر بٹ کوائنز ٹرانسفر کرنے تھے۔

رپورٹ کے مطابق جن لوگوں کے اکاﺅنٹس ہیک کیے گئے ان میں سابق امریکی صدر باراک اوباما، موجودہ صدارتی امیدوار جوبائیڈن، جیف بیزوس، ایلن مسک، بل گیٹس اور دیگر بڑی شخصیات شامل ہیں۔ ان شخصیات کے علاوہ ایپل اور اوبر جیسی کمپنیوں کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ بھی ہیک کیے گئے۔ بیشتر صارفین نے ان بڑی شخصیات کے اکاﺅنٹس سے ایسی ٹویٹ آنے پر سمجھ لیا کہ ان کے اکاﺅنٹ ہیک ہو چکے ہیں لیکن کچھ لوگ سمجھ نہ پائے اور اسے حقیقت سمجھتے ہوئے واقعی ہیکرز کو ’بٹ کوائنز‘ بھیج دیئے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق مختلف ممالک سے300کے لگ بھگ لوگوں نے ہیکرز کو رقم بھجوائی۔ اس واقعے پر ٹوئٹر کے حصص کی قیمت میں 4فیصد کمی واقع ہو گئی اور اس کی فی حصص قیمت 35.67ڈالر سے 34ڈالر پر آ گئی۔ سکیورٹی ماہرین کا اس واردات پر کہنا ہے کہ ”اس بات کو خوش قسمتی سمجھنا چاہیے کہ ہیکرز نے یہ حملہ صرف رقم کے لالچ میں کیا۔ ورنہ ان کے مقاصد اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے تھے اور ہیکنگ کی یہ واردات تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔“

مزید :

بین الاقوامی -سائنس اور ٹیکنالوجی -