ایف بی آر کو بڑا جھٹکا ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےسخت برہمی کااظہارکرتےہوئےایسی تفصیلات طلب کرلیں کہ افسران کے ہوش ہی اڑ جائیں گے

ایف بی آر کو بڑا جھٹکا ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےسخت برہمی ...
ایف بی آر کو بڑا جھٹکا ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےسخت برہمی کااظہارکرتےہوئےایسی تفصیلات طلب کرلیں کہ افسران کے ہوش ہی اڑ جائیں گے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی مانیٹرنگ اور عمل درآمد کمیٹی نے ایف بی آر حکام کی جانب سے کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ کنونیئر سردار ایاز صادق نے کہا کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کی جائے،معاملہ مرکزی کمیٹی میں لے کر جاوں گا،غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے افسران کو ملازمت سے ہٹانے کی سفارش کریں گے۔کمیٹی نے ایف بی آر کے دس دس سال سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات پر اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو طلب کر لیا،کمیٹی نے ایف بی آر سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔

کمیٹی کا اجلاس سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو۔ا اجلاس میں ایف بی آر ان لینڈ ریونیو کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین ایف بی آر جاوید غنی نے پی اے سی ذیلی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2005سے 2010تک کے آڈٹ پیراز کی ڈی اے سی کی گئی جس میں گیارہ پیرازکی سٹیلمنٹ ہوئی ہے،کمیٹی نے ہدایات پر عمل نہ کرنے پر ایف آئی اے اور ایف بی آر پرشدید اظہا برہمی کیا۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ پی اے سی کی ہدایات پر عمل نہ کرنےوالے افسران کی نشاندہی کی جائے،معاملہ پی اے سی کی مرکزی کمیٹی میں لے کر جاوں گا،غیرذمہ داری کامظاہرہ کرنے والے افسران کوملازمت سےہٹانےکی سفارش کریںگے،ایف بی آر کےعدالتوں میں دس دس سال سےمقدمات زیر التوا ہیں ، اٹارنی جنرل بتائیں، ایف بی آر اور حکومتی کیسز میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟عدالتوں سے درخواست کی جائے کہ اربوں روپے کے مقدمات کا جلد فیصلہ سنایا جائے،اس موقع پر سردار ایاز صادق نے پی اے سی کے اگلے اجلاس میں اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو طلب کر لیا جبکہ چیئرمین ایف بی آر نےہدایات پر عمل درآمد کیلئے مزید وقت مانگ لیا۔

ایف بی آر حکام کا کہناتھا کہ جب تک آڈٹ مکمل نہ ہوجائے پیرازسیٹل نہ کیے جائیں ،حکام کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں اربوں روپےکےکیسزپڑے ہیں جن میں بعض پرسٹے چل رہا ہے۔سردار ایاز صادق نےکہاعدالتوں سے درخواست کریں کہ ہمارے کیس خصوصی طور پر سنے جائیں،72 ملین ریکور کرنے کیلئے 78ملین خرچ ہوا ہوگا,ایسی پریکٹس ہورہی ہیں جن کا نہ سر ہے نہ پاؤں, چیئرمین ایف بی آر اور آڈٹ حکام مل بیٹھ کر حل نکالیں۔سردار ایاز صادق کا کہناتھاکہ سیکرٹری قانون کو پی اے سی کے اجلاس کے دوسرے دن کہا گیامگر انہوں نے 22جون کو خط لکھا ،اگلے اجلاس میں سیکرٹری قانون بتائیں کہ ملک بھر کے ٹریبنولز میں کتنی سیٹیں خالی ہیں؟دس سال سے ڈی اے سی ہوتی رہیں مگر اس میں سے کچھ نہیں نکلا، جس پر وزارت کے حکام نے بتایا سمری وزیر اعظم کو بھیجی ہوئی ہے مگر ابھی تک جواب نہیں آیا۔

ممبر کمیٹی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہم بیس سال پہلے کے آڈٹ ہیروز لیکر بیٹھے ہوئے ہیں،اس طرح کا معاملہ گڈگورننس کے منافی ہے،محکمے ہمیں تجاویز دیں تاکہ ہم بہتری کی طرف جا سکیں،ساری دنیا میں ایسے کیسز ہوتے ہوں گے،انکی سٹڈی کریں اور کمیٹی کو بریف کریں۔ایف بی آرحکام نے کمیٹی اجلاس کو بتایا کہ ڈاکومنٹس ملک بھر سے اکٹھے کرنے ہوتے ہیں انکو کو چیک کرنے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے۔کمیٹی نے ایف بی آر سے عدالتوں میں زیر التوامقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -