زراعت اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے،حکومت کوئی بھی ہو ہم  ۔۔۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی  ثنا ء اللہ مستی خیل نے اپنی ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا 

زراعت اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے،حکومت کوئی بھی ہو ہم  ۔۔۔پی ٹی آئی کے رکن قومی ...
زراعت اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے،حکومت کوئی بھی ہو ہم  ۔۔۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی  ثنا ء اللہ مستی خیل نے اپنی ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ثنا ء اللہ مستی خیل نے کہاہے کہ کسان آخری بار پارلیمان کی طرف دیکھ رہے ہیں،صنعت،شوگر،دودھ والوں اورکسانوں میں فرق کیوں رکھاجاتا ہے؟ابھی بھی دو پاکستان کیوں ہیں؟صنعت، دودھ اور شوگر والوں کے قرضے معاف ہوسکتے ہیں تو کسانوں کے قرضے معاف کیوں نہیں ہوسکتے؟۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتےہوئے  ثنا ء اللہ مستی خیل کا کہنا تھا کہ ہم نے حقائق کے مطابق پالیسیاں نہیں بنائیں،زراعت اس وقت وینٹی لیٹر پرہے،زراعت کوصنعت کا درجہ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کچھ شوگر کی وکالت کرتے ہیں ،کچھ کپاس کی بات کرتے ہیں ،مختلف فصلوں کی زوننگ کی جائے۔ ثنا ء اللہ مستی خیل نے کہا کہ پنجاب حکومت نے 280ارب روپے دیکر کسانوں سے گندم کادانہ دانہ خریدا،کسانوں کی تذلیل کی گئی اور گھروں  میں بھی دس بوری سے زائد بوری گندم رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی ، حکومت کوئی بھی ہو ہم کسان کی تذلیل برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ صنعت، شوگر، دودھ والوں اور کسانوں میں فرق کیوں رکھا جاتا ہے؟ابھی بھی دو پاکستان کیوں ہیں؟صنعت، دودھ اور شوگر والوں کے قرضے معاف ہوسکتے ہیں تو کسانوں کے قرضے معاف کیوں نہیں ہوسکتے؟زرعی قرضوں پر اٹھارہ سے کم کرکے دو فیصد سود کیا جائے۔انہوں نے کہا  کہ کالا باغ ڈیم بنانا وقت کی ضرورت ہے،کالا باغ ڈیم پر تکنیکی بنیادوں پر سیاسی جماعتیں غور کریں،اگر پی پی پی اور ن لیگ ماضی کی غلطیوں سےسبق سیکھتے ہوئےمیثاق جمہوریت کرسکتی ہیں توماضی کی غلطیوں سےسیکھتے ہوئے کالاباغ ڈیم پر بھی بات ہوسکتی ہے،یہ کیسی قانون سازی ہے کہ ایک کمشنر ہماری تضحیک کرتا ہے، یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے جواب دیں۔ 

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -