پاکستان کا  18 اور 19 جولائی کو  افغانستان پر امن کانفرنس بلانے کا اعلان

    پاکستان کا  18 اور 19 جولائی کو  افغانستان پر امن کانفرنس بلانے کا اعلان

  

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں تیزی سے بدلتی سکیورٹی صورتحال پر تشویش ہے فغان مسئلے کاپرامن حل مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بھارت لاہور حملے کے منصوبہ بندی کرنے والوں کو گرفتار کرے۔ پاکستان   18 اور 19  جولائی کو  افغان پیس کانفرنس کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے،کانفرنس کے ملتوی ہونے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں کانفرنس میں افغان طالبان کو مدعو نہیں کیا گیا، افغان قیادت کے لیے ضروری ہے وہ اپنی تمام تر توانائیاں افغان امن عمل کو آگے بڑھانے میں صرف کریں ہم ہمیشہ سے افغانستان میں امن کے حامی ہیں ہم مسئلے کے سیاسی حل کے حامی ہیں،کو شش ہو گی کہ جلد از جلد اسپن بولدک کی سرحدی گزرگاہ کو کھولا جائے بھارت دہشت گردی کو ریاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہاہے،بھارت کی دہشت گردی کے ثبوت فراہم کر دئیے گئے ہیں، اقوام متحدہ  اور انسانی حقوق  کی تنظیمیں  کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل عام کی تحقیقات کریں،  اپر کوہستان بس دھماکے کی تحقیقات ہوررہی ہیں، کسی بھی آپشن کو  مسترد نہیں کر سکتے۔ ان خیالات کا اظہار صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے  کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا  وزیر اعظم عمران خان ازبکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح وفد بھی ہے اس دورے میں مختلف علاقائی باہمی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔وزیر اعظم کا پہلے ازبک بزنس فورم سے خطاب بھی ایجنڈا میں شامل ہے۔وزیر  خارجہ نے ایس سی او کے وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔اس میں اس خطے کے جیو اکنامک صلاحیت  اور علاقائی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ایس سی او کی سائیڈ لائنز پر وزیر خارجہ نے تاجکستان، چین، روس قزاقستان اور ازبکستان کے ہم منصبوں سے بھی ملاقات کی وزیر خارجہ نے کووڈ 19 کے مشترکہ مقابلے پر زور دیا ترجمان دفترخارجہ  کا کہناتھا  وزیر خارجہ سے امریکی وزیر خارجہ نے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ بات چیت میں افغانستان اور علاقائی  صورتحال  پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا  یقین رکھتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا حل افغانوں نے ہی تلاش کرنا ہے۔انہوں نے کہا افغان پیس کانفرنس کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے۔17 جولائی کو شرکاء  پاکستان پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔18 اور 19  جولائی کو کانفرنس کا انعقاد ہو گا۔اس کانفرنس کے ملتوی ہونے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔کانفرنس میں افغان طالبان کو مدعو نہیں کیا گیا۔ وہ ماضی پاکستان آتے رہے ہیں ہماری ان سے بہت سی نشستیں ہوتی رہی ہیں۔ہم نے اس میں افغان قیادت کو مدعو کیا ہے۔  افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ہم مزید افغان مہاجرین لینے کے متحمل نہیں ہو سکتے ہم افغانستان میں عسکری ٹیک اوور کے خلاف ہیں۔ہماری کوشش ہو گی کہ جلد از جلد اسپن بولدک کی سرحدی گزرگاہ کو کھولا جائے۔پاکستان افغانستان مین امن کے لیے افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم مسئلے کے سیاسی حل کے حامی ہیں افغان مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔ سپن بولدک کی کراسنگ سے روزنہ 20 ہزار افغان سرحد کے آر پار جاتے ہیں۔ہماری کوشش ہو گی کہ ہم سرحدی گزرگاہ کھولی جا سکے۔پاکستان ترکی کی جانب سے افغانستان میں امن کے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ایک سوال  کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان نے بھارت کے پاکستان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کا معاملہ اٹھایا ہے۔پاکستان نے ماضی میں بھی اس حوالے سے ناقابل تردید شواہد پیش کیے۔ بھارت دہشت گردی کو ریاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہاہے۔  ترجمان دفترخارجہ  کا کہناتھا  مقبوضہ کشمیر میں ایک ادھیڑ عمر خاتون کو بھارتی فوج کی گاڑی نے کچل دیا۔ہم اقوام متحدہ  اور انسانی حقوق  کی تنظیموں پر کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل عام کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔   ترجمان نے مزید کہا کہ وزارت خارجہ میں برہان وانی کی شہادت کے موقع پر کنسرٹ نہیں ہوا۔اس روز ایک بک لانچ اور قوالی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا برہان مظفر وانی شہید کے شہداء کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔برہان وانی کو ماورائے عدالت شہید کیا گیا۔برہان وانی کی تصاویر پر سوشل میڈیا اکاونٹس بند ہونے کا معاملہ متعلقہ انتظامیہ سے اٹھا رہے ہیں اپر کوہستان حادثہ کے فوتی بعد چینی سفارت خانہ اور بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ سے رابطہ کیا۔شدید زخمیوں کو فوری طور پر سی ایم ایچ راولپنڈی منتقل کیا گیا۔جونہی مزید تفصیلات موصول ہوں گی آگاہ کریں گے۔ہم واضح کہہ رہے ہیں کہ اپر کوہستان بس دھماکے میں کسی بھی آپشن کو رول آوٹ نہیں کر سکتے۔ 

ترجمان دفتر خارجہ 

مزید :

صفحہ اول -