قومی ٹیم کا نیا امتحان

قومی ٹیم کا نیا امتحان
 قومی ٹیم کا نیا امتحان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان قومی کرکٹ ٹیم ان دنوں سری لنکا میں موجود ہے جہاں آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تحت کھیلی جانے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آج سے آغاز ہو رہا ہے۔سیریز کے آغاز سے قبل سری لنکا کے معاشی حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اس کے باوجود آسٹریلین کرکٹ بورڈ اور  پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیمیں بھیج کر اس کے زخموں کر کچھ مرہم رکھنے کی کوشش کی ہے۔پاکستان کی سیریز کا آج سے آغاز ہونے کے بعد اور اختتام پر سیر لنکا میں شیڈول ایشیاء کپ کی میزبانی بھی سری لنکا کے سپرد ہے دیکھنا یہ ہے کہ آسٹریلیا کے کامیاب دورے کے بعد اور سری لنکا کے موجودہ حالات کے پیش نظر پاکستان کرکٹ ٹیم کی میزبانی کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کے بعد امید کی جا سکے گی کہ ایشیاء کپ سری لنکا میں ہی ہو گا ورنہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ایشیاء کپ کے انعقاد کے حوالے سے اپنی تیاریاں مکمل کر چکا ہے بس گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دینے کی ضرورت ہے لیکن جہاں تک میری معلومات ہیں سری لنکا میں مالی بحران اپنی جگہ مگر تمام ایشائی کرکٹ بورڈ سری لنکا میں ٹورنامنٹ کے انعقاد اور اپنی ٹیمیں بھیجنے پر رضا مند ہیں جس میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ بھی شامل ہے تاہم بگڑتی صورتحال کے پیش نظر انہوں نے متبادل کے طور پر انتظامات مکمل کر رکھے ہیں۔


پاکستان قومی کرکٹ ٹیم ان دنوں غیر معمولی کار کردگی کے باعث عالمی افق پر بلند پرواز جاری رکھے ہوئے ہے لیکن کرکٹ کا مزاج بدلنے سے قومی کرکٹ ٹیم کے مزاج میں بدلی نہیں آسکی۔کھلاڑی آج بھی دفاعی کرکٹ کھیلنے مین مگن ہیں اس کا سب سے بڑا ثبوت پاک آسٹریلیا سیریز میں قومی ٹیم کی ٹیسٹ سیریز میں شکست سے لگایا جا سکتا ہے جہاں قومی کرکٹ ٹیم نے محض تین سینکڑوں پر مشتمل ہدف کو اپنے لئے نا ممکن بنا دیا اور ایسا دفاعی انداز اپنایا کہ اس چکر میں ٹیم سیریز سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی۔قومی کرکٹ ٹیم کو سری لنکا کے خلاف فتح اور عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اوپر آنے کے لئے اپنے باقی ماندہ سات میچز جیت کر ٹاپ پوزیشن پر آنا پڑے گا جس کے قومی ٹیم کو سخت محنت کے ساتھ جارحانہ کرکٹ کھیلنا پڑے گی۔اس کے لئے قومی کرکٹ ٹیم کی مینجمنٹ اور کپتان کو سر جوڑ کر حکمت عملی بنانا ہو گی۔ون ڈے اور مختصر دورانیہ کی ٹی ٹونٹی کرکٹ ضرور ہیں مگر کرکٹ کا حسن نہیں۔اس حسن میں اپنے آپ کو نکھارنے کے لئے محنت درکار ہے جو ہماری ٹیم کے مجودہ ممبران کر رہے ہیں مگر ان کی محنت اس وقت رنگ لائے گی جب ان کا مزاج بھی بدلے گا۔اس کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی بہادرانہ فیصلے کرنا ہوں گے آپ ایک کھلاڑی سے ہر طرز کی کرکٹ میں سو فیصد کارکردگی کی امید نہیں کر سکتے۔


قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ٹیم کے لئے مسلسل خوش بختی کی علامت ثابت ہو رہے ہیں بہت سے لوگوں کو ان کی ذاتی کارکردگی سے اختلاف اس وجہ سے ہے کہ وہ ابھی تک میچ وننگ کھلاڑی ثابت نا ہو سکے حالانکہ بابر اعظم مسلسل رنز سکور کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ان میں یہ کوالٹی نا آسکی ایک یا دو میچ وننگ پرفارمنس پر آپ انہیں میچ ونر نہیں کہہ سکتے۔لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ ہمیں ان کا حوصلہ بڑھانے کی ضرورت ہے بابر اعظم کے کھیل میں نکھار کے ساتھ ان کی کپتانی میں بھی نکھار آرہا ہے۔موجودہ کرکٹ ٹیم میں بابر اعظم کے ساتھ چند ایک کھلاڑی ایسے ہیں جن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ان میں موجود فخر زمان،محمد رضوان،امام الحق،شاہین آفریدی،یاسر شاہ وغیرہ موجود ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں اور سری لنکا کے خلاف شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کر سکتے ہیں مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ قومی ٹیم اپنے پہلے میچ میں کس حکمت عملی کے تحت میدان میں اترتی ہے اور کپتان بابر اعظم کی زیر قیادت کیسی پرفارمنس دیتی ہے بلاشبہ سری لنکا اپنے ملک میں اپنے ملک میں آسان حریف نہیں ہوگی جیت کے لئے سخت محنت درکار ہوگی۔ 

مزید :

رائے -کالم -