عمران خان کا خاکہ

عمران خان کا خاکہ
عمران خان کا خاکہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 عمران خان نے زندگی میں سب کچھ پایا اور بہت کچھ کھودیا ، وہ کل تک عوام کی آنکھ کا تارا تھے اور آج ہر جگہ ایک ہی سوال پوچھاجاتا ہے کہ ان کی گرفتاری کب ہوگی ؟ ان کی شخصیت کے اتنے پہلو ہیں کہ ہر پہلو سے ایک نیا عمران خان برآمد کیا جا سکتا ہے ،ان کے سامنے آئینے کے سو ٹکڑے بھی کردیئے جائیں تو وہ ایک میں بھی تنہا اور سو میں بھی اکیلے نظر آئیں گے،۔بعض ایک کے لئے وہ امید کا وہ دیا ہیں جسے جہاں رکھ دیا جائے اس کے گرد روشنی کا ہالہ بن جائے اور بعض ایک کے نزدیک وہ اندھیری سرنگ ہیں جس کے آخر میں بھی روشنی کی امید نہ ہو انہوں نے اپنی مقبولیت کو اس قدر کشید کیا ہے کہ اب اس میں سے بھی خون ٹپکتا ہے اور اپنے چہرے کی جلد کو اس قدر کھنچوایا ہے کہ ان کے وکیلوں کو لکھ کر دینا پڑتا ہے کہ وہ سترے بہترے ہو گئے ہیں مگر رینجرز والوں کو یقین نہیں آتا انہوں نے اس قدر اداکاری کی ہے کہ اب وہ پاﺅں پر چلتے ہیں تو بھی وہیل چیئر پر بیٹھے محسوس ہوتے ہیں ، ان کے ہاتھ میں تسبیح بھی ان کے اندر چھپے کو نہیں چھپا سکی اور جب وہ نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں تو ان کے چہرے کا جھوٹ عیاں ہو جاتا ہے۔ 
طاہرالقادری کے بعد وہ پاکستان کے دوسرے لیڈر ہیں جن کا اپنی پارٹی پر اپنا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا ہوگا۔وہ سب کے فیورٹ ہیں مگر ان کا کوئی فیورٹ نہیں ، آج جس کے دوست ہیں کل اسی کی دشمنی میں تمام حدیں پار کرجائیں گے ، انہیں لوگوں کی نہیں لوگوں کو ان کی ضرورت رہتی ہے ۔وہ بیک وقت لیڈر اور گیدڑکہلائے جاتے ہیں ۔ وہ پہلے کرکٹر تھے پھرسیاستدان بن گئے۔ پہلے سیلیبریٹی تھے پھر سٹیٹس مین بن گئے ۔ پہلے خوبرو حسیناﺅں کے ہاتھ پکڑے پھرا کرتے تھے پھر تسبیح پکڑلی۔ شوکت خانم بنانا تھا تو خدمت خلق کا نمونہ بن گئے اور وزیر اعظم بننا تھا تو تقریروں میں اسلامی ٹچ دینے لگے۔ ووٹوں کی ضرورت پڑی تو قادیانیوں کے مرکز جا پہنچے اور پیسوں کی ضرورت پڑی تو یہودیوں، ہندوﺅں اور صیہونیوں سے بھی لیتے پائے گئے۔ وہ جس قدر اچھے اتنے ہی برے ، جتنے امن کے پرچارک اتنے ہی فتنہ پرور ۔مرحومہ عاصمہ جہانگیر انہیں بونگی خان کہا کرتی تھیں ۔
ان کا پہلا تعارف ایک گھمنڈی اور مغرور کرکٹر کا تھا، پھر پلے بوائے کے طور پر مشہور ہوگئے ، پھر ہارے ہوئے ٹورنامنٹ میں سے کرکٹ کا ورلڈ کپ اٹھا لائے ، شوکت خانم بنانے کا اعلان کیا تو انہیں لوگوں نے زیورات اور روپے پیسے سے لاد دیا ۔ نواز شریف کا دم چھلا بن کر شوکت خانم اسپتال کے لئے سرکاری جگہ لے لی ، قاضی حسین احمد کی گود میں سوار ہوکر جنرل مشرف کی پولنگ ایجنٹی قبول کرلی ۔ الیکشن لڑنا شروع کئے تو اپنے سوا اپنے نام پر کسی اور جتوا نہ سکے لیکن جنرل پاشا کے لاڈلے بنے توان کے نام پر کھمبوں کو بھی ووٹ پڑنے لگا۔ عدالتوں کے لاڈلے بنے تو 2018کا الیکشن ہی سویپ کرگئے ۔ جنرل فیض حمید کے اشاروں پر چلے تو جنرل باجوہ کی تعریفوں کے پل باندھنے لگے ۔ ان پر تنقید شروع کی تو ان کے ہر کام میں کیڑے نکالنے لگے ، حتیٰ کہ جنرل عاصم منیر کی تعیناتی کے بھی خلاف ہوگئے ۔
کبھی چین کی مدح سرائی تو کبھی ٹرمپ کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر گھومنا ، کبھی مہاتیر محمد کے پہلو میں جا ٹکنا تو کبھی طیب اردوان کی ہمرکابی کرنا ، کبھی محمد بن سلمان کی ڈرائیوری کرنا تو کبھی پیوٹن کی حمائت میں روس جا پہنچنا ،کبھی برطانیہ کے وزیر اعظم کے ساتھ سیلفی کھنچواناتو کبھی جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ملانا ، کبھی ایران اور سعودی عرب میں صلح کا چمپیئن بننا تو کبھی افغانستان سے طالبان کو لا کر سوات میں لا چھپانا، عمران خان سے جو بن پایا کرتے چلے گئے ۔ ان کا یہی نظریہ ہے کہ کوئی نظریہ نہیں ، کوئی انہیںعزیز نہیں ، وہ کسی کا دم نہیں بھرتے ، کسی کے ساتھ زیادہ دور تک چل نہیں سکتے تو کسی کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتے، وہ جس کی دوستی کا دم بھرتے ہیں اسی کے گندے کپڑے بیچ چوراہے میں لاپھینکتے ہیں، وہ ہر کسی کی پراکسی ہیں ،ہر خفیہ منصوبے کا دیباچہ اورہر سازش کا مہرہ ہیں ۔ ان کی مثال اس لڑکی ہے جو تب تک اپنے آشناپر مہربان رہتی ہے جب تک وہ اسے کھلاتا رہتا ہے اور جونہی ہاتھ کھینچتا ہے ،اسے بیچ بازار میں ننگا کردیتی ہے۔ 
عمران خان نیا پاکستان کیا بناتے ، ملک سے کرپشن کیا ختم کرتے ، انصاف کا بول بالا کیا کرتے ،ایک تعلیمی نصاب کیا دیتے ،دو نہیں ایک پاکستان کیا بناتے ،سبز پاسپورٹ کی عزت کیا کرواتے اورپاکستانی کرکٹ کو چار چاند کیا لگاتے کہ ان سے تو کرکٹ کا ڈھانچہ نہ بن سکا اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈومیسٹک کرکٹ کا بیڑہ غرق کردیا، ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرکے سینکڑوں کرکٹروں کو آن واحد میں بے روزگار کردیا، انہیں نوجوانوں کی امید بننا تھامگر وہ خواتین کی امید بنے رہے، ان کی پارٹی بچوں کی پسندیدہ پارٹی سمجھی جاتی ہے مگر پھر وہی بچے بڑے ہوکر عقل مند ہو جاتے ہیں ، البتہ کچھ ظلے شاہ جیسے معصوم اور سائیں لوک پھربھی ان کا دم بھرتے دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
عمران خان کی صرف ایک خوبی ہے کہ وہ مقبول ہیں ، اس ایک خوبی کو لے کر ان کے حواری ہر شام انہیں پاکستان کیا امریکہ چین کا الیکشن بھی جتواکر سوتے ہیں ۔ یہی ان حلقوں کی بے وقوفی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن جیتنے کے لئے صرف مشہور ہونا کافی ہوتا ہے ۔ انہیں ان کی بے وقوفی میں مست رہنے دیا جائے !

مزید :

رائے -کالم -