پنجاب اسمبلی میں گانے و ’کھانے‘ اور رولز کی بے بسی

پنجاب اسمبلی میں گانے و ’کھانے‘ اور رولز کی بے بسی
پنجاب اسمبلی میں گانے و ’کھانے‘ اور رولز کی بے بسی

  

پنجاب اسمبلی پریس گیلری (نوازطاہرسے) پنجاب اسمبلی میں بجٹ پر بحث جاری ہے جس میں ارکان کی عدم دلچسپی کے ساتھ ساتھ من مانی اور سپیکر کے رویے میں دن بدن نرمی بڑھ رہی جس نے رولز کو روندھنا شروع کردیا ہے۔ اگرچہ رولزپہلی بار نہیں روندھے جا رہے بلکہ کسٹوڈین کی من مانی کا شکار ہونےوالے رولز کی بے بسی بھی کئی بار دیکھی گئی ہے البتہ ماضی کی اسمبلی میں یہ بے بسی ایسے نہیں دیکھی گئی ماسوائے آئین اور رولز کے اس قتل کے جب فوجی صدر ضیائالحق نے یہاں خطاب کیا اور دوسرے فوجی صدرپرویزمشرف کی وردی کے حق میں قرارداد منظور ہوئی۔ جمعہ کو اجلاس کسی بھی جماعت کے پارلیمانی لیڈر اور وزیر کی غیر موجودگی میں شروع ہوا تاہم کارروائی شروع ہونے کے کچھ دیر بعد وزیرقانون اور وزیر خزانہ ایوان میں پہنچ گئے۔ پیپلز پارٹی کے اراکین ’ بے قیادت “ ہی رہے۔جمعرات کو ساتھی رکن کی بدسلوکی کا سامنا کرنے والے پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت بسراءبھی ایوان سے غائب رہے۔آج سپیکر نے جب ایجنڈے کی کارروائی کے اعلان کیا تو اس میں بتایا کہ 84اراکین بحث کرینگے لیکن جب بحث کیلئے متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر علی حیدر نورخاں نیازی کا نام پکارا گیا تو وہ ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اس کے بعد سپیکر نے درجن بھر سے زائد اراکین کے نام پکارے ان میں سے بھی کوئی رکن موجود نہ ہونے پرحکومتی رکن تنویر احمد ناصر نے بحث کا آغاز کیا۔ تقریرکے دوران جب انہوں نے جمعرات کو تقریر کرنے والے ایک پارلیمانی سیکرٹری کی طرح صدر زرداری کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرنے کی کوشش کی تو سپیکر رانا محمد اقبال نے انہیں سختی سے روک دیا اور واضح کیا کسی جماعت کا کوئی رکن بھی کسی سیاسی قیادت کے بارے میں منفی بات نہیں کرے گا ۔ انہوں نے کارروائی نوٹ کرنے والے اسمبلی کے رپورٹرز کو بھی ہدایت کی اگر کوئی رکن کسی کی قیادت کے بارے میں کوئی منفی لفظ استعمال کرے تو اسے ریکارڈ نہ کیا جائے۔اس طرح سپیکر کی بروقت مداخلت سے ماحول خراب ہونے سے بچ گیا۔تنویر ناصر کے بعد ایک بار پھرتقریر کے خواہشمند غیر حاضر اراکین کی طویل لسٹ پڑھی گئی اسی دوران باربار اپنی باری کا مطالبہ کرنے والی پیپلز پارٹی کی رفعت سلطانہ ڈار کا نام آنے پر سپیکر نے کم و بیش اپنی ہم عمر رکن کا نام زوردار آواز میں پکارا تو ایون میں قہقہہ بھی زوردار لگا ۔ رفعت سلطانہ ڈار نے سادہ گھریلو خواتین والے اپنے مخصوص انداز میں تقریر شروع کی تو اس سے ایوان میں مسکراہٹیں  بکھرتی رہیں۔ حکومتی خواتین کے نعرہ زن گروپ کی جانب سے بار بار ٹوکے جانے پر رفعت سلطانہ ڈار کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اٹکتی رہیں۔ جب سپیکر نے انہیں کہا کہ وہ دوسروں کی باتوں کو نظر انداز کرکے اپنی بات جاری رکھیں تو رفعت سلطانہ ڈار نے ان خواتین کی طرف اشارہ کرکے برجستہ جواب دیتے ہوئے سپیکر سے کہا کہ ”آپ کی’بنجمن سسٹرز‘ رکیں گی تو میں بات کرونگی “ تو ایوان کا ماحول پھر سے خوشگوار ہوگیا۔ تقریر کے دوران رفعت سلطانہ ڈار نے حکومتِ پنجاب پر تنقید کی اور تجویز پیش کی کہ توانائی کا بحران وفاقی اور صوبائی حکومت کو مل جل کر حل کرنا چاہئے مگر ن لیگ والے توانائی بحران پر بات کرتے ہوئے ’تیلی‘ لگاتے ہیں۔رفعت سلطانہ ڈار نے صدر زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کیلئے منظوم تعریف کرتے ہوئے ان کے لئے ” میں بسم اللہ پڑھاں “ردھم میں گایا تو سپیکر نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ اسمبلی کو سٹودیو نہ بنائیں ، مقدس ایوان ہی رہنےدیں لیکن رفعت ڈار نے سنی ان سنی کردی اور قواعد کے برعکس اپنی نشست سے پانی کا گلاس اٹھا کر دوگھونٹ پینے کے بعدپھر سے گنگنانا شروع کردیا جس کے جواب میں ن لیگ کی خواتین نے پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ’جاندے جاندے اک ہور جھوٹا لارا لا کے رول جا“ کافقرہ چست کیا تو سپیکر نے انہیں بھی منع کردیا۔مسلم لیگ ق کی آمنہ الفت نے جب لمبی تقریر کی اور سپیکر نے انہیں آگاہ کیا کہ ان کا وقت ختم ہوگیا ہے تو انہوں نے احتجاج کیا، واک آﺅٹ کا اعلان کر کے تھوڑا سا گھوم کر دوسری نشست پر مائیک سنبھال لیا، سپیکر کے منع کرنے کے باوجود وہ مسلسل بولتی رہیں یہاں تک کہ ایک رکن عمران ظفرکی تقریر بھی مکمل نہ ہونے دی جبکہ وزیرقانون کی سفارش پر سپیکر نے انہیں کچھ وقت اضافی بھی دیا تھا ۔ آمنہ الفت کو خاموش کرانے کے عمل کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ محسوس کیا گیا کہ سپیکر انہیں چپ کرانے کیلئے سارجنٹ ایٹ آرمز بلائیں گے لیکن سپیکر نے پھر تحمل کا مظاہرہ کیا اور مائیک بند کرادیے لیکن آمنہ الفت دیر تک بولتی رہیں جس دوران سپیکر افسوس کا اظہار کرتے رہے کہ ان کی بات نہیں مانی جارہی۔ سپیکر نے جس طرح یہ پارلیمانی "بداخلاقی"برداشت کی اور تحمل کا مظاہرہ کیا اس پر پریس گیلر ی میں تبصرہ کیا گیا کہ سپیکر آخری پارلیما نی سال میں کسی رکن کو ایوان سے باہر نکالنے کی "بدنامی "سے گریز کررہے ہیں۔ بحث کے دوران کالا باغ بنانے کا مطالبہ بھی گونجتا رہا لیکن یہ مطالبہ کرنے والے میاں رفیق کی دہائی ’ نقارخانے میں طوطی کی ا ٓواز ‘ثابت ہوئی ۔بجٹ پر خوشامدی اور تنقیدی جموں کے سوا کوئی قابلِ ذکر بات نہ ہو سکی ۔ واضح رہے کہ ایوان میں اخبار پڑھنے ، کچھ کھانا پینا اور خوش گپیاں لگانا قواعد کے منافی ہے لیکن اراکین اور وزیر خزانہ ایوان میں چیونگم ، بادام ، ٹافیاں چباتے اور پانی پیتے بھی دیکھے گئے۔ یہی نہیں بلکہ ڈپٹی سپیکر ایوان کے کسٹوڈین ہونے کے باوجود دو دن پہلے اجلاس کی طویل صدارت کے دوران چنے اور بادام کی گریاں چباتے رہے ۔

مزید :

لاہور -