قرضے کہاں خرچ ہوئے؟

قرضے کہاں خرچ ہوئے؟
قرضے کہاں خرچ ہوئے؟

  

 خوشنما دعوو¿ں اور وعدوں کا بجٹ منظور ہوگیا ہے، لیکن معیشت کی تصویر اچھی نہیں ہے۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اس وقت سب سے کم سطح، یعنی60 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ مزید قرضے بھی لئے گئے ہیں۔ گورنر سٹیٹ بنک ایک خود مختار اور انتہائی ذمہ دار افسر ہوتا ہے، لیکن بقول ان کے انہیں خود مختاری تو حاصل ہے ، لیکن اس قدر نہیں کہ حکومت کے جاری کردہ چیکوں کی ادائیگی نہ کریں۔ حکومت امیروں کے ٹیکس نہ دینے کا رونا روتی رہتی ہے، مگر عملی طور پر یہ صورت حال بدستور جاری ہے اور کمی کی بجائے تمام بوجھ غریب پر ہی پڑ رہا ہے۔ حکومت نے امیروں پر ٹیکس وصولیاں بڑھانے کی بجائے مرکزی بنک سے قرضے لینے میں اضافہ کر دیا ہے ۔ حکومت اب تک 442 ارب روپے قرض لے چکی ہے۔ غیر ملکی اور ملکی قرضے اس کے علاوہ ہیں۔ خود وزیر خزانہ نے بڑی بڑی اُمیدیں دلانے کے بعد تسلیم کر لیا ہے کہ معاشی ترقی سمیت معیشت کا کوئی ہدف پورا نہیں ہو سکا، بلکہ عوام پر مزید63 ارب کے ٹیکس عائد کر دئیے گئے۔ حکومت کا موجودہ راستہ خون خرابے جیسے انقلاب کی طرف بڑھ رہا ہے، مگر حکمران اس اہم عوامی مسئلے سے بے خبر نظر آتے ہیں۔ سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ دوسرے 80 فیصد سے زائد عوام کیسے زندہ رہیں گے؟ جن کی آمدنیوں میں اضافے کا امکان نہیں ہے؟ وزیراعظم فرماتے ہیں کہ تین سال میں مہنگائی کم ہوئی ہے، مگر کبھی وہ اور دوسرے وزراءبذاتِ خود بازاروں میں جا کر مہنگائی اور بے روزگاری کا جائزہ لیں تو انہیں سچ اور جھوٹ کا فرق معلوم ہو جائے گا۔ وزیر خزانہ کو یہ علم ہی نہیں ہوگا کہ گزشتہ سالوں میں بڑے ڈیم نہ بنانے سے500ارب کا نقصان ہو رہا ہے اور پانی سے محرومی الگ ہے۔ نئے نوٹ چھاپنے اور معاشی انحطاط کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قیمت روز بروز گر رہی ہے۔ یہ ہمارے ملک کی معیشت کی بھیانک تصویر ہے، جہاں حکمران اور با اثر افراد آج بھی بادشاہوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ وزیراعظم یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ”عوام کو بجٹ میں خوش خبریاں“ ملیں گی، مگر صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو عوام کو صرف بھوک، بدحالی اور خودکشیاں ہی ملی ہیں۔ پاکستان کو پھر ایک بار کشکول لے کر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ چار سال پہلے جو قرضے چار کھرب تھے، آج وہ آٹھ کھرب سے زائد ہو چکے ہیں۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اس قدر بھاری قرضوں اور امداد کی یہ رقم کہاں گئی؟ کیونکہ عوام کی زندگی میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی، بلکہ مزید بدتر ہوگئی ہے۔ کوئی ٹھوس ترقیاتی منصوبہ بھی نظر نہیں آتا، پارلیمینٹ میں کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ یہ پوچھے کہ قومی قرضوں اور لوٹ کھسوٹ کے یہ خزانے کہاں غائب ہوگئے ہیں؟ روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔ مزید قرضے لینے کے بعد آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث عوام کا زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔ ملک کی معیشت، سیاست اور آئین وقانون کی صورت روز بروز بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، مگر حکومت اپنے مفادات سے باہرنہیں نکل رہی۔ آخر اس ملک کے امیر کب ٹیکس دیں گے؟ اور ان سے ٹیکس کون وصول کرے گا....؟

مزید :

کالم -