جمہوریت بہترین انتقام ہے

جمہوریت بہترین انتقام ہے
جمہوریت بہترین انتقام ہے

  



گزشتہ چار سال میں جانے کتنی بار دل میں خیال آیا کہ جس جانب ہم تیزی سے گامزن ہیں،کیا چار سال قبل اِس کا تصور بھی کِیا جاسکتا تھا؟کتنی بڑی کامیابی حاصل کی تھی ہم نے۔ایک ڈکٹیٹرکو دو سال کے مختصر عرصے میں نکال باہر کِیا۔کیا یہ کم کامیابی تھی؟بدقسمت برمیBurmi پچھلی کتنی دہائیوں سے کتنی کوششوں کتنی جانوں کے نذرانوں کے باوجود ملٹری جنتا سے نجات حاصل نہیں کرسکے ،باوجود اِس کے کہ اُن کے پاس آنگ سانگ سوچی جیسی قد آور لیڈر بھی موجود ہو اور ہزاروں لوگوں نے اپنا لہو بھی بہایا ہو۔

کِس کے گمان میں تھا کہ اِس دریا کے پار اور کتنے دریا ہم نے پار کرنے ہیں۔جھوٹ،فریب اور چوری کا ایسا بازار گرم ہے کہ اللہ کی پناہ۔اب تو یہ خوف لاحق ہو گیا ہے کہ شاید ہماری قوم کی سچ پرکھنے کی صلاحیت بھی مفقود ہو چکی ہے۔کوئی بھی ٹی وی چینل دیکھ لیجئے۔ ہرچوری،ہرجرم کو جائز بنانے کی ایسی ایسی تاویلیں پیش کی جاتی ہیں اور ایسی ڈھٹائی کا مظاہرہ کِیا جا رہا ہے کہ انسان کو گھن آتی ہے۔ مَیں سوچتی ہوں کہ ہمارے بچے جب یہ تماشا دیکھتے ہوں گے تو کیا سوچتے ہوں گے؟اگر ہر جرم ہر فریب کو یہ لوگ جائز قرار دے رہے ہیں تو ہماری نئی نسل کی تربیت تو ہو چکی۔جب ریفرنس دینے کا وقت آتا ہے تو مثالیں ہم لاتے ہیں خلفائے راشدین کی اور جب کرنے کا وقت آتا ہے تو یزید سے دو قدم آگے چلے جاتے ہیں۔دُور کیوں جائیں، اعتزاز احسن کو ہی دیکھ لیجئے۔ جب پرویز مشرف کے خلاف پیش ہوئے تو استثناءکے معاملے میں حضرت عمر فاروق ؓ کی مثال پیش کی اور اب وہی اعتزاز احسن اُسی استثناءکے معاملے میں کیا دلائل دے رہے ہیں۔کیا یہی رول ماڈلز ہیں ہماری نئی نسل کے لئے؟

مُلک کی حکمران جماعت کے بارے میں تو کیا لکھنا کیا کہنا، اُنہوں نے شہیدوں،قبروں کی آڑ میں ہر چوری، ہر جھوٹ، ہربے ایمانی کو حلال کرنے کا کیا شاندار وتیرہ اختیار کِیا ہے۔اُن کا بس چلے تو شاید نہیں، بلکہ یقینا ہر اخلاقی قدر کی بنیادی حیثیت ہی تبدیل کر دیں۔ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ اتنا سچ بولو کہ سچ ڈھونڈنا مشکل ہو جائے۔ حکمران جماعت کا موٹو ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ اور جھوٹ کی تمیز ہی مشکل ہو جائے۔ جھوٹ ہی سچ مان لیا جائے۔ گلہ تو اُن سے ہے جو عوام کی خدمت کے بلند بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ابھی یہ ہماری سمجھ میں آنا باقی ہے کہ یہ حکمران ہیں یا اپوزیشن؟

باقی صوبوں کا تو جو حال ہے وہ تو سب کے سامنے ہی ہے۔یہاں گڈ گورننس کے نام پو جو گل کھلائے جارہے ہیں ،ذرا اِن کا احوال ملاحظہ کرلیجئے.... اب مینار پاکستان میں ایک نیا کیمپ آفس کھول کر ہماری نسلوں پر مزید احسان کِیا جارہا ہے۔اگر آپ کو لاہور کے کِسی سرکاری دفتر میں کِسی گریڈ اُنیس بیس کے افسر کے پاس بیٹھنے کا موقع ملے تو آپ کو بھول جائے گا کہ لوڈ شیڈنگ بھی کِسی چڑیا کا نام ہے۔جس بے دردی سے سرکاری وسائل کی بربادی کی جاتی ہے، وہ ایک الگ داستان ہے۔ سوا ارب روپے کے لیپ ٹاپ بانٹنے کی جس طرح سے تشہیر کی جارہی ہے، یوں معلوم ہوتاہے کہ میاں برادران نے سرکاری خزانے سے نہیں اپنے ذاتی اثاثے فروخت کرکے نوجوانوں پر مستقبل کے دروازے کھولے ہیں۔کیا زمانہ آگیا، ہمارے پیسے ،ہم پر خرچے اور احسان بجا۔

ہر موقعے ہر تقریر میں چھوٹے میاں صاحب،صدر آصف علی زرداری کے لتے لئے بغیر نہیں رہ سکتے۔یہ چار سال میںہر پتھر چاٹ چکے ہیں، لیکن قربان جائیے اِن کی سادگی پر کہ جب انرجی کانفرنس ہوتی ہے تو اس میں بھی اُسی زور شور سے شامل ہوجاتے ہیں۔چار سال سے آپ ایک ٹولے کی وعدہ خلافیوں،بے ایمانیوں اور چوریوں کی داستان قوم کو سناتے رہے۔تمام تر انرجی کانفرنسوں کے نتائج سامنے ہونے کے باوجود میاں صاحب کیا سوچ کر پھر اُسی سوراخ سے اپنے آپ کو ڈسوانے چلے جاتے ہیں؟ جتنا میاں صاحب کو عوام کا اب خیال آرہا ہے، اگر پہلے کرتے تو بہتر نہ ہوتا۔ اِن بے کار کانفرنسوں میں وقت کا ضیاع کرنے کی بجائے اگر کوئی ڈھنگ کی حکمت عملی اختیار کرتے تو ہم بہتر نتائج کی توقع کرسکتے تھے۔

بڑے فخر کی بات ہے کہ ہماری حکمران نما اپوزیشن نے یو ایس ایڈ کو خیر باد کہہ دیا، پر کیا ہی اچھا ہوتا کہ جتنے پراجیکٹس اُس ایڈ کے بند ہونے سے ختم ہوگئے، اُن کو مقامی وسائل سے پورا کرنے کی سعی کی جاتی۔ سیاسی نمبرز تو ٹانگ لئے گئے، مگر عوام کو کیا مِلا؟ اُن کی زندگیوںمیں شاید محرومی کے اندھیرے ابھی باقی ہیں۔

 صدر آصف علی زرداری صاحب نے کیا خوب ارشاد فرمایا: ©©” جمہوریت بہترین انتقام ہے“۔ کِس قدر سچائی ہے اِس فقرے میں۔اِس مُلک کے لاچار عوام ہر روز اِس جملے کی نئی حقیقتوں سے متعارف ہوتے ہیں۔ شاید کہیں شعور و لاشعور کی گہرائیوں میں یہ جو سب کچھ ہو رہا ہے کیا ہم سب اپنی ذات کو اِس سے بَری الذمہ ٹھہرا سکتے ہیں؟شاید ہاں شاید ناں۔ہاںاس لئے کہ اِس قوم نے ایسی بے مثال جدوجہد کی عدلیہ کی آزادی اور ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے کے لئے اور ناں اِس لئے کہ ویسی ہی بے مثال جدوجہد یہ اِن ظالموں سے چھٹکارے کے لئے کیوں نہیں کرتے؟....شاید ہم تھک گئے ہیں، سرابوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اور اِس کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر چُپ ہیں یا شاید ابھی ہمیں کچھ اور دریا بھی پار کرنے ہیں، اِس سے پہلے کہ ہم شاد کام ہوں۔ مَیں بھی سوچتی ہوں آپ بھی سوچئے۔ ٭

مزید : کالم