”آئیڈیل“ کی موت

”آئیڈیل“ کی موت
”آئیڈیل“ کی موت

  

بچپن میں ہمارے سکول کے نصاب میں محمد بن قاسم پر مضمون تھا، جس میں ایک مسلمان عورت نے حجاج بن یوسف کو پکارا تھا، جواب میں حجاج نے محمد بن قاسم کو راجہ داہر سے لڑنے بھیجا۔ بس اسی وقت حجاج بن یوسف ہمارا پہلا ”آئیڈیل“ بن گیا۔ ذرا بڑے ہوئے، تاریخ کے طالب علم بنے تو انکشاف ہوا کہ ہمارا ”آئیڈیل“ تو ایک خوفناک شخص تھا، بے شمار لوگوں کا قاتل جس میں اہل علم اور بزرگ سبھی شامل تھے، اس ”آئیڈیل“ کی موت ہماری زندگی کا بڑا حادثہ ہے، اس کے بعد ایک ”بت شکن“ ہمارے آئیڈیل بنے وہ بھی تاریخ کے اوراق میں ”وعدہ شکن“ نکلے۔ ہم نے سوچا کہ اب زندہ انسانوں میں کوئی ”آئیڈیل“ ہونا چاہئے۔ جلد ہی اللہ نے ہماری سن لی اور جناب اعتزاز احسن ہمارے ”آئیڈیل“ ٹھہرے۔ دانشور، اصول پرست، انصاف پرست، انسانی حقوق کے علمدار۔ کافی عرصہ ہم نے اس مورتی کی پوجا کی مگر پھر ہمیں کسی بدخواہ کی نظر لگ گئی اور یہ مورتی بھی ”ٹٹ گئی تڑک کر کے“ جس طرح بعض لوگ بیوی کے مرنے کے بعد دوسری شادی کئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، اسی طرح ہمیں بھی دوسرے ”آئیڈیل“ کی تلاش ہوئی۔ اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں سو ہمیں جلد ہی ایک اور ”آئیڈیل“ مل گیا۔ ہماری معلومات کے مطابق ایک سیلف میڈ انسان، عام اور معمولی سطح سے انتہائی قابل رشک ہمالیہ سے بھی اونچے مقام تک پہنچنے والا، رفاہی کاموں میں حصہ لینے والا، صومالیہ کے اغوا کاروں کو تاوان دے کر بحری عملہ چھڑانے والا۔ ایک ”آئیڈیل“ کے لئے اس قسم کی ایک ہی خوبی کافی ہے، یہاں تو خوبیوں کا ڈھیر ہے اور نام بھی رعب دار ہے ”ملک ریاض“ ہم اپنے ”آئیڈیل“ کے انتخاب پر خوش اور مطمئن تھے اور دوستوں کو کہتے پھرتے تھے کہ بننا ہے تو ”ملک ریاض“ بنو۔ دنیا میں کچھ سیکھنا ہے تو ”ملک ریاض“ سے سیکھو۔

لیکن پھر ٹی وی پر جو ”بریکنگ نیوز“ آئی، اس نے نیوز کو کیا ”بریک“ کرنا تھا، ہمارے دل کو ہی ”بریک“ کر دیا۔ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ کوئی ٹکڑا ادھر گرا، کوئی گلی میں اور کوئی ہمسایوں کے گھر۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہمارا ”آئیڈیل“ اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے کسی کے بے وقوف اور پنجابی میں ”چڈو برانڈ“ بیٹے کو استعمال کرے گا۔ ہمارے دماغ میں مسلسل یہ سوالات کلبلا رہے ہیں۔

بظاہر دوستی کے پردے میں کسی کو بلیک میل کرانے کی منصوبہ بندی کرنا اور تین سال تک اس پر کروڑوں خرچ کرنا اور ساتھ ہی ساتھ اس کی فائلیں اور فلمیں بنانا۔ خود پیچھے رہنا اور داماد کو آگے کرنا۔ اپنے منہ سے اقرار کرنا کہ ایسا اس لئے کیا کہ باپ پر اثر انداز ہو کر مقدمات کا فیصلہ اپنے حق میں کرایا جائے۔ گویا انصاف کے نام پر ”بے انصافی“ کرانا۔

ایک من دودھ میں اگر پیشاب کی ایک چھینٹ بھی شامل ہو جائے تو سارا دودھ نالی میں بہا دیا جاتا ہے تو کیا جو دولت رشوت دے کر، بلیک میلنگ کر کے کمائی جائے وہ ناجائز نہیں ہو جائے گی اور ناجائز کمائی سے دیئے گئے صدقے خیرات رد نہیں کر دیئے جائیں گے۔

نہیں نہیں جناب ملک صاحب! ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ کو زیب نہیں دیتا۔ اب ہم ٹوٹے ہوئے ”آئیڈیل“ کو ”ایلفی“ لگا کر جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن.... !

مزید :

کالم -