حسنی مبارک کی آخری سانسیں

حسنی مبارک کی آخری سانسیں
حسنی مبارک کی آخری سانسیں

  

وقت وقت کی بات ہے، عرب جمہوریہ مصر جو ہم سے گیارہ گنا گندم پیدا کرنے والا ملک ہے اور جہاں کی سب سے بڑی آمدنی اس کی زرعی پیداوار کی ایکسپورٹ ہے آج جن سیاسی حالات سے دوچار ہے ٹھیک و یسے ہی حالات ہمارے ہاں بھی ہونے جا رہے ہیں۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ حسنی مبارک30سال تک بلا شرکت غیرے مصر کے سیاہ و سفید کے مالک صدر تھے اور 11 فروری2011ءکو انہوں نے پہلی بار اس وقت اپنے استعفا کا اعلان کیا جب تحریر چوک میں لاکھوں لوگ ان کے خلاف نعرے لگا کر شور مچا رہے تھے کہ ”گو حُسنی گو“ اس وقت اگر حسنی مبارک صحیح معنوں میں ان لاکھوں لوگوں کے مطالبہ کی دستک سن لیتے تو یہ دستک صرف اتنی تھی کہ2005ءسے ملک میں مسلسل ایمرجنسی تھی، ملک بھر میں کوئی قانون نہ تھا۔ کسی کو بھی ریاستی ادارے یا سیکیورٹی ادارے گرفتار کر لیں تو کسی عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا جا سکتا تھا۔ ایسے ہزاروں سیاسی کارکنوں کو جیل میں ڈالا جا چکا تھا جو حسنی مبارک اور اس کی سیاسی پارٹی کے مخالف تھے۔ اُن کے خلاف 2005ءمیں صدارتی الیکشن لڑنے والے امیدوار ڈاکٹر ایمان نور کو جو کہ ایک لاغر اور بیمار بوڑھا شخص تھا جیل میں ڈال دیا گیا۔24دسمبر2005ءواشنگٹن وائٹ ہاﺅس کے ترجمان نے اپنے ایک سرکاری بیان میں اس سزا کی مذمت کی تھی اور مصر پر زور ڈالا تھا کہ وہ اس بوڑھے شخص کو فوراً رہا کر دے۔ مصر میں عدالت نام کی کوئی شے نہیں تھی، بلکہ سب عدالتیں حسنی مبارک کی شخصی غلام تھیں۔ بیورو کریسی صرف نوٹ دو اور کام لو کی سیاست میں یقین رکھتی تھی، متوسط طبقہ ختم کر دیا گیا تھا۔ غریب تھے اور یا پھر لامتناہی جائیدادوں کے مالک امیر۔ بغیر پیسوں کے کسی کا م کا سرے سے تصور ہی نہیں تھا۔

 آج جب2005ءسے2011ءتک کی مصر میں حالات کی کیفیت کا موازنہ میں پاکستان کے حالات سے کرتا ہوں تو خدا کا شکر ہے کہ ابھی ہمارے حالات اتنے خراب نہیں، جس قدر حالات وہاں خراب تھے۔ یہاں پر کم از کم آپ کو انصاف مہیا ہے۔ آپ کی گرفتاری بغیر کسی جرم کے ممکن نہیں اور یہاں آپ اپنے سیاسی اختلافات روزانہ ملک کے اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر پیش بھی کر سکتے ہیں، جبکہ مصر میں تو سنسر شپ بھی مسلسل نافذ رہی اور میڈیا کا کوئی سرے سے تصور ہی نہیں تھا (اور شاید آج بھی صورت حال وہی ہے) ماسوائے اس کے اب ایمرجنسی ختم کر دی گئی ہے اور سنسر شپ بھی اُٹھا لی گئی ہے۔

30سال تک حکمرانی کرنے والے بلکہ مَیں تو کہوں گا کہ37سال تک حکمران رہنے والے کیونکہ صدر بننے سے پہلے وہ1975ءمیںنائب صدر بنے اور اس سے قبل چیف ایئر مارشل اور ایئر فورس کے کمانڈر کی حیثیت سے وفاقی وزیر دفاع بھی تھے۔ آج حسنی مبارک کے بارے میں خبر آئی ہے کہ وہ کومے میں ہیں اور آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ حسنی مبارک مضبوط اعصاب کے مالک انسان ہیں۔ وہ دو بار جرمنی سے کینسر کا آپریشن بھی کرا چکے ہیں اور کومے میں جانے کی اُن کی یہ حالت آج کی نہیں، بلکہ بقول امریکی سفیر متعین مصر اب ایک عام روٹین ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ صحت کی خرابی اور اُن کے ممکنہ وا رث کے بارے میں مصر میں متعین سفیر گزشتہ کئی سال سے اپنی رپورٹیں واشنگٹن ڈی سی کو ارسال کرتے رہے ہیں، لیکن حسنی مبارک اپنے حالات پر بلکہ اپنی صحت کے معاملات پر بھی قابو پا لیتے تھے اور آج بھی شاید ان کی وہی کیفیت ہے۔2جون کو انہیں اس بات پر سزا دی گئی کہ جب تحریر چوک قاہرہ میں فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کی تو یہ صورت حال13گھنٹے تک مسلسل جاری رہی اور اس میں ایک ہزار سے زائد مصری عوام ہلاک ہو گئے۔ عدالت میں استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ فائرنگ کا حکم صدر حسنی مبارک نے جاری کیا تھا لیکن حسنی مبارک ہر لمحہ باخبر تھے، لہٰذا اس وقت انہوں نے اس فائرنگ کو روکنے کا حکم جاری نہ کر کے سنگین لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ اگر وہ یہ فائرنگ روکنے کا حکم جاری کرتے تو ہزار سے زائد انسانی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں، اس جرم میں عدالت نے حسنی مبارک کو عمر قید کی سزا سنائی ، جو مصر کے قوانین کے مطابق ایسی سزا ہے کہ جس میں قیدی کبھی جیل سے باہر آ ہی نہیں سکتا۔ حسنی مبارک نے جو کہ عدالت میں پیشی کے دوران ہسپتال کے بنائے ہوئے ایک لوہے کے پنجرے میں بند تھے اس سزا کے خلاف کافی چیخ و پکار کی، لیکن شاید وہ خدا کی اس لاٹھی کی آواز سے بے خبر تھے، جو اس روز سے انتظار میں تھی جب انہوں نے2005ءمیں اپنے خلاف الیکشن لڑنے والے بوڑھے ڈاکٹر ایمان نور کی چیخوں میں سنی تھی۔ اس وقت وہ اقتدار کے ایسے نشے میں چور تھے کہ شاید اقتدار کے سورج کو ہمیشہ ہی اپنے سر پر چمکتے دیکھنے میں یقین رکھتے تھے، لیکن ہر کمال رازوال کے مصداق فرعون مصر بھی آخر ایک روز غرق آب ہوا تھا، لہٰذا وہ اس واقعہ کو بھی بھلا چکے تھے۔آج جب الجزیرہ پر ایک بار پھر اُن کے”کومے“ میں جانے کی خبر سنی تو حسنی مبارک کے اقتدار کی پوری تصویر آنکھوں میں گھوم گئی۔

1928ءمیں پیدا ہونے والے حسنی مبارک نے فوجی تربیت میں گریجوایشن کی۔ دو سال روس میں بھی تربیت کی اور مصر کی ایئر فورس سے منسلک ہو گئے۔ چند ہی برس میں وہ بیس کمانڈر تک جا پہنچے۔1973ءمیں مصر اور اسرائیل جنگ میں ایئر فورس کی کارکردگی کو بے حد سراہا گیا اور اس کے کریڈٹ میں انہیں ایئر فورس کمانڈر بنا دیا گیا۔ یہیں سے اُن کی زندگی میں سیاست نے داخلہ لیا وہ وزارت دفاع سے بھی منسلک ہو گئے اور کابینہ کے اجلاسوں میں بھی معاونت کے لئے جانے لگے۔ اگلے ایک سال میں وہ چیف ایئر مارشل مقرر ہو گئے اور باقاعدہ کابینہ کا بھی حصہ بنے۔ 1975ءمیں انور سادات نے انہیں اپنا نائب صدر بنا لیا اور وہ فوجی زندگی سے سیاسی زندگی میں داخل ہو گئے۔ 1981ءمیں جب انور سادات پر قاہرہ میں ایک پریڈ کے دوران قاتلانہ حملہ ہوا تو اس میں انور سادات قتل ہو گئے جبکہ نائب صدر حسنی مبارک بھی زخمی ہوئے تاہم ان کی جان بچ گئی اور انہیںصدر منتخب کر لیا گیا۔اُن کے بیٹے جمال مبارک اور اعلیٰ مبارک ہیں، جن میں سے جمال مبارک کو ایسی سیاسی تربیت دی گئی کہ وہ اپنے باپ کا عہدہ سنبھال سکیں، تاہم مصر میں سیاسی گھٹن اس قدر زیادہ کردی گئی کہ شہری آزادیاں سلب تھیں۔پورے ملک میں ایمرجنسی تھی۔صرف حکمران ان کے ٹوڈی اور بیورو کریسی یا فوج ہی حکمرانی کر رہے تھے۔عام آدمی تو انصاف کا سرے سے تصور ہی نہیں کرسکتا تھا،تاہم غیر ملکی سرمایہ دار وہاں بہت آسانی میں تھے۔کیونکہ وہ پیسہ رشوت میں دے کر اپنی صنعتیں لگاتے تھے۔مرضی کے نرخ اپنی مصنوعات کے رکھتے تھے اور دنوں میں ہی اپنا سرمایہ کئی گنا کرتے چلے جاتے تھے۔اس صورت حال میں صرف اور صرف عام شہری پس رہے تھے۔مہنگائی کا عالم یہ تھا کہ ہر سال ضروریات زندگی کی اشیاءمیں 100فیصد سے زیادہ اضافہ ہو جاتا تھا اور رہی معاوضوں یا سرکاری ملازموں کی تنخواہوں کی بات تو اس میں گزشتہ دس سال میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں کیا گیا تھا،چنانچہ ہر سرکاری ملازم مجبور تھا کہ وہ رشوت کے بغیر کام کرنے سے انکار کردے۔

یہ ساری صورت حال امریکی دورے پر حسنی مبارک کے علم میں بھی لائی گئی اور وہاں پر انہیں جوبریفنگ دی گئی۔ اس میں انہیں مصر کے عوامی جذبات سے بھی آگاہ کیا گیا اور بہت سی فلمیں بھی دکھائی گئیں، لیکن دورے سے واپسی پر حسنی مبارک نے عوام پر مزید سختی کے قوانین نافذ کردیئے،جس میں صدر کے خلاف کسی پارک، سنیما ہال، ٹرین، بس یا کام کرنے کی جگہ پر بات کرنے پر بھی سنگین سزائیں مقرر کی گئیں۔ایسے سزا یافتہ لوگوں کے لئے اپیل کی بھی گنجائش نہیں تھی، چنانچہ پورے ملک کو پولیس سٹیٹ بنا دیا گیا۔ وہاں پر فوج اور پولیس میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ پولیس کا محکمہ فوج ہی بناتی ہے، وہی بھرتی کرتے ہیں، وہ پوسٹنگ ٹرانسفر کرتے ہیں، لہٰذا مصری شہریوں کی حالت ان 30 برسوں میں یہ تھی کہ ایک کے بعد ایک نسل نے یہ سارا عرصہ یا تو کانپ کانپ کر گزارا یا پھر وہ جیل میں رہے اور یا وہ مصر کو چھوڑ کر دوسرے دوست ممالک میں کام پر چلے گئے۔ حسنی مبارک کی آخری سانسیں اب کب تک ان کا ساتھ دیتی ہیں، لیکن جب تک یہ چل رہی ہیں،دنیا بھر میں عبرت کی ایک ایسی داستان کو عام کررہی ہیں ،تمام اہل سیاست کو بہت ہی سنجیدگی سے سمجھنا اور جاننا چاہئے اور سبق بھی حاصل کرنا چاہئے۔

پاکستان کے بعض فوجی اور کچھ سول حکمرانوں نے بھی اپنے اپنے دور میں ایسی کوششیں کی تھیں کہ ان کا اقتدار جاری اور ساری رہے۔ ہمارے حکمرانوںپر لازم ہے کہ وہ ہر لمحہ عوام کے جذبات سے باخبر رہیں اور حسنی مبارک جیسے مضبوط اعصاب کے مالک شخص کے انجام کو سامنے رکھیں۔  ٭

مزید :

کالم -