بروٹس.... تم بھی؟

بروٹس.... تم بھی؟
بروٹس.... تم بھی؟

  

ہم سب جانتے ہیںکہ بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض حسین صاحب کس شہرت کے مالک ہیں.... صدر اور وزرائے اعظم صاحبان سے دوستی، تمام اہم سیاسی جماعتوںسے قریبی تعلقات، سابقہ جنرل اور اَ ئیرمارشلز اُن کے ادارے کے ملازمین ، ریاست کے چوتھے ستون کا جھکاﺅ ان کی طرف اور سب نہیں تو کچھ اہم میڈیا پرسنز اُن کی دریا دلی سے فیض یاب۔ چنانچہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ نہر سویز کے اِس پار ان جیسا شاطر شخص کوئی خال خال ہی ہوگا....تاہم اس موجودہ کیس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے.... لیکن چیف جسٹس صاحب، جو کوئی عام جج نہیں بلکہ ہم جیسے بہت سوںکے لئے استقامت اور انصاف کی علامت ہیں اور جن کے لئے ہم نے شاہراہ دستور پر جلوس نکالے، کے صاحبزادے اس گروہ کے درمیان کیوں پائے گئے؟اس معاملے میںسب سے قابل ِ غور بات یہی ہے۔ اس بات پر کچھ دیر کے لئے دھیان دیجئے! افتخار چودھری صاحب کا بیٹا ملک ریاض صاحب سے تحائف وصول کرتا رہا ہے اپنے اور اہل ِ خانہ کے لئے لندن کے درجہ اول کے ٹکٹ ، مہنگی رہائش ، لاہور اور کراچی کے”صاحب ِ ذوق“ حلقوں کی جانی پہچانی ایک خوبروحسینہ کے ہمراہ مونٹی کارلو (یورپ کی ایک اعلیٰ درجے کی تفریح گاہ جو اپنے جوا خانوںکے لئے مشہور ہے) کی سیاحت ، قیمتی تحائف اور ساتھ سکہ رائج الوقت یہی کچھ 32 کروڑ روپے ؟ملک صاحب کے لئے یہ رقم معمولی سی ریزگاری کے مترادف ہو گی، مگر زیادہ تر پاکستانیوں کے لئے یہ بہت بڑی رقم ہے۔ ارسلان صاحب پریہ عنایات چیف صاحب کی 2009 ءمیں دوسری مرتبہ بحالی سے لے کر 2011 ءکے اختتام تک کی گئیں۔ پھر خیال آتا ہے کہ ایک نوجوان پر یہ عنایات کرنے میںکیا مضائقہ ہے ؟

مشہور برطانوی مصنف اور سیاست دان ایڈمنڈ برک بنگال کے اٹھارہویں صدی کے گورنر جنرل وارن ہیسٹنگ، جن پر بدعنوانی کے بہت سے الزامات لگے، کے بارے میں لکھتے ہیںکہ ابھی گورنر صاحب نے ”ہتھ ہولا“ ہی رکھا۔ اس کا مطلب ہے کہ مسٹربرک کی توقع کے مطابق وہ اور بھی بہت کچھ کر سکتے تھے۔ مسٹر ارسلان کے کیس میں ایسا کوئی ” خدشہ “ نہیںہے۔ اگر سپریم کورٹ میں ملک ریاض صاحب کی طرف سے پیش کردہ دستاویزات کو درست مان لیا جائے تو حمایت لینے یا دینے میں(اُن کے نزدیک )کوئی تشویش کی بات نہیں ہے۔ جب کاروبار کیا تو ڈرنا کیا اور ملک صاحب کے ہاتھ کے کنگن کس آرسی کے محتاج ہیں؟

اب صورت ِ حال یہ ہے کہ ماتحت یا اعلیٰ عدلیہ اپنے بارے میںجو بھی نظریات رکھتی ہو، زیادہ تر پاکستانی اُن کی طرف مایوسی سے ہی دیکھتے ہیں۔ اس سرزمین کے قرطاس پر عدالتی ناکامیوںکی ایک طویل داستان رقم ہے۔ چنانچہ اگر یہ الزامات کسی بھی جج صاحب کے بیٹے کے بارے میںہوتے تو زیادہ تر پاکستانی اس کو کندھے اچکاتے ہوئے نظر انداز کر دیتے کہ ”سب چلتا ہے“ ....مگر ارسلان افتخار، افتخار محمد چودھری صاحب کا بیٹا۔ یہ بات ایک صدمے سے کم نہیںہے اور ناقابل ِ یقین لگتی ہے کہ اُس نے ایک نہایت شاطر شخص سے تحائف وصول کئے۔ایسا لگتا ہے کہ بروٹس نے چھپ کرقوم کی توقعات کے سیزر کی پشت میں خنجر گھونپ دیا ہو۔

 کیا ہم زرداری صاحب کی شہرت کی داستانیں سن کر صدمے کی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں،یا چودھری پرویز الٰہی کے صاحب زادے مونس الٰہی ، جس پر زمین کا کیس ہے ، یا وزیر ِ اعظم کے فرزندان ِ ارجمنداور دیگر اہل ِ خانہ یا ماضی اور حال کے سیاسی طبقے کی بدعنوانی کی داستانیںسن کر ہم سورج کو سوا نیزے پردیکھتے ہیں؟لیکن چودھری افتخار محمد صاحب کا بیٹا بھی اسی ”زاد ِ راہ “ کے ساتھ انہی راہوں پر؟ اسی حمام میں؟.... اس کڑوے گھونٹ کو حلق سے نیچے اتارنے کے لئے تو دختر ِ انگور کی ضرورت ہے۔ جب آپ یہ بات سنتے ہیں تو آپ ہاتھ بلند کرتے ہوئے آسمان سے دریافت کرتے ہیں کہ اب کیا ہونے والا ہے ؟ ملک ریاض صاحب کے الزامات سے قطع نظر مَیں تو سخت مایوس ہوا ہوں۔ یقینا میرے بہت سے دوست بھی اسی صدمے کی کیفیت سے دوچار ہوںگے۔ اس صدمے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میں چیف جسٹس صاحب کو معصوم عن الخطا سمجھتا تھا ۔ ایسی بات نہیں ہے اور بطور انسان اُن میںبھی بشری کمزوریاںپائی جاتی ہوںگی، لیکن بہر حا ل بطور جج وہ ایک بہت مختلف شخص ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میںپہلی مرتبہ عوام کی اکثریت سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کے سامنے اُس وقت روشنی کی امید بن کر کھڑے ہوئے، جب ہر طرف اندھیرے کا راج تھا اور ہم میںسے بہت سوں نے ، گو کہ اُن کی بشری لغزشوںسے آگاہ تھے، اُن کو ہیرو کا درجہ دے دیا۔

اس حقیقت کے باوجود کہ دیگر جج صاحبان کی طرح افتخار محمد چودھری صاحب نے بھی پرویز مشرف صاحب کے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھااور وہ بذات ِ خود اُس بنچ کا حصہ تھے، جس نے پرویز مشرف کے اقتدار کی توثیق کی تھی،مگر ہم نے اُن کے ماضی کو فراموش کردیا، کیونکہ ہم ماضی میں ہویدا ہونے والے امکانات ، جو کہ نظر آرہے تھے، پر یقین رکھتے تھے۔ ہم نے صرف اُس کئے گئے فیصلے کو نہ صرف بھلا دیا، بلکہ ہمیں چیف صاحب کی صورت میںایک ”امام خمینی “ نظر آرہے تھے اور ہمیں امید تھی کہ انصاف کی غیر جانبدار تلوار کے ساتھ اس سرزمین سے جبر اور بدعنوانی کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ جب بیرسٹر اعتزاز احسن صاحب ڈرائیونگ سیٹ پر تھے ، پُرجوش وکلاء”چیف تیرے جانثار“ کے نعرے لگارہے تھے، جبکہ لاکھوںکا اژدھام راستے کے دونوںطرف کھڑے ہو کر پاکستان کی ایک نئی تاریخ کو رقم ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا، سب کی آنکھوںمیںایک انجانی چمک اور وارفتگی تھی۔

 ....اور اب یک لخت جیسے خواب چکنا چور ہوگیا ہے، اُن کا بیٹا ملک ریاض کے پھولوںسے سجے ایسے گدلے پانی میں اتر گیا، جس میں شارک مچھلیاں اور آکٹوپس اُس کی گھات میںتھے۔ یہ سن کر ذہن صدمے سے پھٹا جاتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ چیف صاحب ارسلان کی سرگرمیوںسے ناواقف تھے !اس بیان کا اس ملک کے اعلیٰ ترین جج ، جو ایک رومانوی ہیرو کا درجہ حاصل کرچکے تھے، کی طرف سے آنا جچتا نہیںہے۔ کیا ایک باپ کے دل میں اپنے بیٹے کے مہنگے لباس ، غیر ملکی تفریحی دوروں، جدید ترین گاڑیوں اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے ہونہار فرزند سے بھی کم عرصے میں دولت مندہوتا دیکھ کر کوئی خیال نہیںآیا ہوگا؟کیا یہ کوئی الف لیلیٰ کی کہانی کا باب ہے ؟ایک ایسے والد صاحب جو بطور جج دوسروںکے کیسوں کو اعلیٰ ترین اخلاقی اصولوںکے معیار پرپرکھتے ہوں، بدعنوانی کو ہرگز برداشت کرنے کے روادار نہ ہوں، بہت تاریخ ساز فیصلے کرچکے ہوں، اس ملک کے ایسے اداروںکو بھی عدالت کے روبروکرچکے ہوں، جن کا نام لیتے ہوئے زبان کٹتی تھی،کے لئے بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ ”اول خویش“....!

کیا کسی کو امریکی پادری ٹیڈ ہیگرڈ کا واقعہ یاد ہے؟ یہ چند سال پہلے کی بات ہے۔ وہ پادری صاحب ہم جنس پرستی کے شدید مخالف تھے اور اس پر برملا تنقید کیا کرتے تھے۔ ایک دن کسی صاحب نے ”Denver Post“ میں لکھا کہ ٹیڈ ہیگرڈ کے اُس کے ساتھ ”تعلقات “ ہیں۔ اُن پادری صاحب نے فوراً ہی اپنا عہدہ چھوڑ دیا اور خود کو عوام کی خدمت کے لئے وقف کردیا۔ مَیں یہ نہیں کہہ رہا کہ موجودہ کیس میں بھی ہم یہی توقع کرتے ہیں، مگرجب آپ کسی اُونچی جگہ پر ہوںتو لغزش ِ پا کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ اگر ہم اسی نظریے پر اعتبار کریںکہ یہ سپریم کورٹ پاکستان میں عدل کی نشاة ثانیہ ہے اور اب غیر جانبدار انصاف ہمارے عدالتی نظام کا سرمایہ ¿ افتخار ہے تو پھر اعلیٰ اخلاقی پیمانوں کا اطلاق اس کی کارکردگی پر بھی ہوگا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ارسلان کے گناہوں پر اُس کے والد کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے.... مگر ایبٹ آباد آپریشن کو یاد کریں۔ بن لادن کی پاکستان میں طویل پناہ پر پاکستانی خفیہ ایجنسیوںکو مورد ِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ، مگر کیا اس واقعہ کے بعد ہماری خفیہ ایجنسیوںکی کارکردگی اور اہلیت پر سوالات نہیں اٹھائے گئے ؟ یہ بات کچھ ہضم نہیںہوتی کہ ایک باپ دوسروںکی بدعنوانی پر تو کڑی نظر رکھے، مگر اپنے قریبی افراد کی برائی اُسے نظر نہ آئے ۔

یہ بات تسلیم کرنا آسان تو نہیںہے، مگر حقیقت ہے کہ ملک ریاض صاحب کم از کم اس معاملے میں ایمانداری سے کام لے رہے ہیں۔ وہ یہ ہرگز نہیں کہہ رہے ہیںکہ اُنہوںنے یہ رقم ارسلان کو کسی رفا ہی مقصد یا برائی کے خلاف جہاد کے لئے دی تھی ۔ وہ دوٹوک الفاظ میں فرمارہے ہیںکہ یہ رقم اُنہوںنے ارسلان کو بطور رشوت دی تھی تاکہ عدالت میں اُن کے کیسوں میں رعایت حاصل ہو سکے۔ یہ ایک طرح سے کسی اور جرم کا اعتراف بھی ہے اور یہ اُ ن کو مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف ارسلان اپنی بے گناہی کا اعلان کررہا ہے، جبکہ چیف جسٹس صاحب اپنی لا علمی کا۔ کچھ اور افراد جن کی قوت ِ شامہ کے ماند ہونے کا کوئی امکان نہیںہے ، اس معاملے میں سازش کی بو سونگھ رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ بھی ٹھیک ہوں۔ چیف صاحب نے بہت سے طاقتور افراد کا چین برہم کر رکھا تھا، اس لئے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اُن کے دشمن بہت طاقتور ہوںگے، تاہم قابل ِ غور بات یہ ہے کہ جب ارسلان اُن کو ”وار“ کرنے کا موقع فراہم کررہا تھا تو وہ اس کو ہاتھ سے کیسے جانے دیتے ؟ یہ پاور پالیٹکس ہے، تذکرة اولیاء نہیںہے۔ طاقت کے اس کھیل میں آنکھ کے بدلے آنکھ اور حمایت کے بدلے میں حمایت طلب کی جاتی ہے اور اس کھیل کے اصول غیر متبدل ہوتے ہیں۔ یہاں معصوم اور سادہ لوح افراد کی کوئی جا نہیںہے ....اب سپریم کورٹ حملے کی زد میںہے اور اس میں کسی کو بھی کوئی شک نہیںہے، تاہم ا ب دفاع کا ہتھیار بھی اس کے اپنے ہاتھوں میں ہی ہے۔ یہ طوفانی بادل چھٹ جائیںگے، اگر یہ تاثر چلا جائے کہ یہاں انصاف غیر جانبدار ہوتا ہے اور یہ ادارہ کسی سے کوئی ذاتی رنجش نہیںرکھتا.... مزید یہ کہ چیف جسٹس صاحب اب خود کو بحریہ ٹاﺅ ن کے جتنے بھی مقدمات ہیں، ان سے الگ کر لیں تو بہتر ہوگا، کیونکہ اب چاہے غیر جانبداری برتی جائے، شک کا سانپ سر اٹھاتا نظر آئے گا۔ مصنف، معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں

مزید :

کالم -