ذرا اپنے” گریبانوں“ میں....!

ذرا اپنے” گریبانوں“ میں....!
ذرا اپنے” گریبانوں“ میں....!

  



حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں کہ ایک مسئلے کے بارے میں سوچیں تو فوراً ہی دوسرا معاملہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، ہم نے ملک ریاض اور عدالت عظمیٰ کے حوالے سے گریز کی پالیسی اختیار کی کہ شروع دن ہی سے ہمیں یقین تھا کہ اس سارے معاملے میں مفادات کی جنگ شامل ہے اور خصوصی مائنڈ سیٹ کا طعنہ دینے والے خود ایک خصوصی مہم کا حصہ ہیں، چنانچہ ہم نے بہت کچھ جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی دانستہ لکھنے سے پرہیز کیا، لیکن اب تو بات خود ہمارے اپنے پیشہ صحافت تک آ گئی اور نامور حضرات اپنے گندے کپڑے سربازار دھونے لگے ہیں۔ یہی نہیں خود ایک دوسرے کو ننگا کر کے بتا رہے ہیں کہ اس حمام میں ننگے والا محاورہ یوں ہی نہیں ۔ ایک حقیقت ہے اور ہم نقاد بھی اسی حمام میں شامل ہیں۔ ویب پریس پاکستان پر بعض اوقات ناگوار بحث شروع ہوتی تو جذبات یا عداوت پر عقل بھی حاوی ہو جاتی ہے اور چند لوگ یقینا ایسے ہوتے ہیں جو یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں پر الزام تراشی کرنے والوں کو آئینہ ضرور دیکھ لینا چاہئے۔ ہم ایک عرصہ سے الیکٹرانک میڈیا پر بعض پرانے دوستوں اور بعض”حادثاتی صحافیوں“ کے بڑے بڑے دعوے اور اُن کی طرف سے مدعوئین کی توہین کے مناظر دیکھتے رہے ہیں اور اپنے اندر دُکھ محسوس کرتے رہے کہ چھاج تو بولے یہ چھلنیاں بھی بولنے لگی ہیں اور آج ملک ریاض اور ڈاکٹر ارسلان افتخار کے چکر میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ دو ٹی وی چینلوں کے درمیان کھل کر محاذ آرائی شروع ہو گئی اور ٹاک شو کے وقفہ کے دوران ہونے والی گفتگو منظر عام پر لے آئی گئی ہے اور پارسائی کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ادھر یہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف بحریہ ٹاﺅن کے ایک لیٹر پیڈ پر اینکروں اور صحافیوں کے نام چلے کہ ان حضرات نے بحریہ ٹاﺅن سے بڑے بڑے مفادات حاصل کئے ہیں اور ناموں کو چھوڑیئے اس میں ایک نام مظہر عباس کا بھی ہے، جو پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کی طرف گئے اور ہماری باوقار تنظیم کے مسلسل دو بار سیکرٹری جنرل رہ چکے اس سے پہلے بھی وہ مختلف عہدوں پر منتخب ہوئے اور ہمارے ساتھ آزادی ¿ صحافت کی جدوجہد میں شریک رہے۔ انہی مظہر عباس نے پی ایف یو جے کے صدر کو خط لکھ کر احتجاج کیا اور کسی مالی منفعت کی تردید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پی ایف یو جے اس پورے معاملے کی تحقیق کرائے۔ ہماری وفاقی انجمن کے صدر اور سیکرٹری نے بجا طور پر مطالبہ کیا کہ بحریہ ٹاﺅن کی انتظامیہ وضاحت کرے اگر کسی کو کچھ دیا گیا ہے تو اس کا باقاعدہ ثبوت پیش کیا جائے کہ موجودہ صورت حال میں پورا پیشہ بدنام ہو رہا ہے۔ حسب توقع بحریہ ٹاﺅن کی طرف سے اس خط سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا گیا کہ جس لیٹر پیڈ پر یہ پروپیگنڈہ کیا گیا وہ بحریہ ٹاﺅن انتظامیہ کا ہے ہی نہیں۔یہ سب اپنی جگہ، سوال پھر بھی باقی رہتا ہے یہ الزام موجود ہے اور اس کے شواہد بھی مل جاتے ہیں کہ پیشہ صحافت اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے مخصوص حضرات مالی مفادات اور دیگر مراعات حاصل کرتے رہے اور کرتے ہیں، اُن کا ر ہن سہن اُن کی سابقہ اور حالیہ مالی پوزیشن اور اُن کے دورے سب کچھ ظاہر کر دیتے ہیں۔ خصوصاً اسلام آباد کے حلقوں میں تو یہ امر زیر بحث رہتا ہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے اور بہت ثقہ حضرات کہتے ہیں کہ بڑا بننے کے لئے خفیہ ایجنسی سے منسلک ہونا بہت ضروری ہے۔ آج کے بعض بڑے ناموں میں سے دو حضرات کے بارے میں تو ہم بھی گواہی دے سکتے ہیں کہ جب وہ لاہور میں اپنے کیریئر کے آغاز میں تھے تو خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ صحافیوں کے تعلقات کی وکالت کیا کرتے تھے اور اس دلیل کو رَد کر دیتے تھے کہ ایک بار جو کسی ایجنسی کے ساتھ منسلک ہو جائے وہ ساری زندگی چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتا اور یہ ایجنسیاں اگر کبھی کوئی خبر دیتی بھی ہیں تو اکثر اوقات اپنی پسند کی مہم چلانے کے لئے بھی اپنی”فہرست والے“ صحافی بھائیوں ہی کو استعمال کرتی ہیں۔ بہرحال ہمیں مظہر عباس کی یہ تجویز پسند آئی ہے کہ ایک انتہائی غیر جانبدار اور نمائندہ کمیشن بنا کر اسے وسیع اختیارات دیئے جائیں اور وہ پیشہ صحافت سے متعلق تمام طبقات اور افراد کے بارے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے کہ میڈیا کی ذمہ داری کا اب اندازہ ہی مشکل ہے۔یہ معاملہ اپنی جگہ اب ہمیں ایک اور گزارش کرنا ہے اور وہ یہ کہ ہمارے وکیل بھائی کیا کر رہے ہیں،کیا اُن کے پیشہ کا تقاضہ نہیں ہے کہ جب کوئی سا عمل اُن کے پاس آئے اور وکالت کا طلب گار ہو تو وہ اپنے پیشہ ورانہ اصولوں اور فرائض کے مطاق اس کی نمائندگی کریں اور یہ اُن کی تعلیم، اُن کے حلف اور روزی کابھی تقاضہ ہے، لیکن یہاں تو پرانے ادوار کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ بار ایسوسی ایشن کے برسر اقتدار گروہ اپنے ناپسندیدہ موکل کو وکالت کی سہولت ہی نہیں دینا چاہتے، جبکہ خود عدالت عظمیٰ کے ڈویژن بنچ نے یہ قرار دیا کہ وکیل کرنا ملزم کا حق ہے اور اسے دفاع کا پورا موقع ملنا چاہئے، لیکن یہاں تو وکالت کرنے والوں اور وکالت سے انکار کرنے والے دونوں طرح کے وکلاءکی مذمت کی گئی اور اُن کے بار روموں میں داخلے پر پابندی عائد کر کے رکنیت منسوخ کرنے تک کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا چودھری اعتزاز احسن محض اس لئے قابل گردن زدنی ہو گئے کہ وہ وزیراعظم کے وکیل ہیں اور زاہد بخاری اس لئے قبول نہیں کہ انہوں نے حسین حقانی اور ملک ریاض حسین کی وکالت کی۔ اس کے علاوہ اب بار ایسوسی ایشن ایک ادارے کے طور پر ملک ریاض حسین کی وکالت سے انکار کر رہے ہیں۔ یہاں بھی یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس عدالت عظمیٰ کے لئے یہ کیا جا رہا ہے اس کی فل بنچ نے خود ملک ریاض کو دفاع کا حق دیا ہے اگر عدالت نے دیا تو بار ایسوسی ایشن کیوں انکار کر رہی ہے؟ یہ غور کرنے کی بات ہے۔ویسے بھی ہمیں وہ تمام ادوار یاد ہیں جب بار ایسوسی ایشن ہی تقسیم ہوئی تھیں۔ ایوب اور پھر جنرل ضیاءالق کے ادوار میں ایسی تقسیم ہوئی۔ ان زمانوں کے سید احمد سعید کرمانی اور ہمارے دوست ڈاکٹر خالد رانجھا آج بھی معزز رکن ہیں، اسی طرح سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میں بھی دراڑیں پڑتی رہی ہیں۔ بہتر عمل یہ ہے کہ ایسی نوبت نہ آئے اور وکلاءاحتیاط کا مظاہرہ کریں۔ اس وقت ایسی کوئی صورت نہیں کہ اتنی بڑی تحریک کھڑی کی جائے، عدلیہ اپنی حفاظت اور تحفظ خود کر رہی ہے۔اس بات کو ایک مثال دے کر یہیں ختم کرتے ہیں کہ لاہور میں ایک بیرسٹر صاحب کی اہلیہ کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ یہ بیرسٹر تعلیم حاصل کر کے یہاں مقیم ہوئے۔ ایک (مرحوم) معروف اخبار نویس کے بھائی تھے اُن کی اہلیہ جرمن تھیں، مقدمہ بریگیڈیئر(ر) گل مواز کے صاحبزادے قیصر مواز اور فوزی علی کاظمی کے خلاف درج ہوا۔ ہم پیشہ بھائی کے خلاف زیادتی کی وجہ سے لاہور بار ایسوسی ایشن نے بھی وکالت نہ کرنے کا فیصلہ کیا، چنانچہ بریگیڈیئر گل مواز کو گجرات کے مشہور فوجداری وکیل حکیم چراغ دین کو لاہور لانا پڑا اور فوزی علی کاظمی کی۔ وکالت سید احمد سعید کرمانی نے کی تھی۔ یوں اُن کو بھی یہ حق مل گیا۔ ملزموں کو سزا ہو گئی تھی، اس لئے بار والے بھائیوں کو ایسے اقدامات سے اجتناب کرنا چاہئے جو آج نہیں تو کل خود اُن کی صفوں میں اختلافات کا باعث بن جائیںہم نے گزشتہ سے پیوستہ کالم میں کچھ افواہوں کا ذکر کیا وہ اب تیز ہو گئی ہیں۔ ایک خاص میڈیا گروپ نے پھر سے مہم شروع کر دی اور کہا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش ماڈل پر پھر سے کام شروع ہو گیا ہے۔ آج کے حکمرانوں کو بھی بہت سے معاملات اور اپنے ہی لوگوں کے رویوں پر بھی غور کرنا ہو گا۔ بابر اعوان آج سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان کرتے ہیں، کل یہ صاحب متحارب گنے گئے اور ابھی تک ان کا لائسنس بحال نہیں ہوا۔ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ وزیراعظم لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہیں، اجلاس بلا کر کمیٹی بناتے ہیں،واپڈا والے50ارب مانگ لیتے ہیں، اجلاس کے بعد یہ اصلاح ہوتی ہے کہ لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، پہلے ایک گھنٹے بجلی جاتی تھی اب دو گھنٹوں کے لئے جانے لگی ہے۔ یہ سب غور کرنے کی باتیں ہیں۔  ٭

مزید : کالم