”صاحبزادے“ حکومت کے سپرد

”صاحبزادے“ حکومت کے سپرد

  

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے جو جسٹس جواد خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل تھا، بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض حسین اور چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان افتخار کے معاملے پر لئے جانے والے سو موٹو نوٹس کو نبٹا دیا اور کسی بھی قسم کی براہ راست کارروائی کرنے کے بجائے گیند حکومت کی کورٹ میں پھینک دی۔یاد رہے کہ یہ بنچ سماعت کے آغاز میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں کام کر رہا تھا۔ چیف جسٹس نے میڈیا میں گردش کرنے والی ان قیاس آرائیوں اور الزام تراشیوں کا نوٹس لیا تھا، جن میں ملک ریاض حسین کے حوالے سے ارسلان افتخار پر پیسے بٹورنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ ملک صاحب سے یہ بات منسوب کی گئی تھی کہ انہوں نے (بقول خود) ارسلان پر34کروڑ روپے کی ”انوسٹمنٹ“ اِس یقین دہانی پر کی کہ وہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت اُن کے مقدمات میں اُن کو ریلیف دلائے گا۔ ملک صاحب کے بقول اُن کا پیسہ ”ڈوب“ گیا کہ چیف جسٹس نے اُنہیں کسی بھی طرح کی کوئی ریلیف نہیں دی اور یوں ارسلان نے اُن کے ساتھ دھوکہ دہی کی عظیم واردات کی۔

سپریم کورٹ نے ارسلان افتخار اور ملک ریاض کو بھی نوٹس جاری کئے تو ارسلان افتخار نے اپنے بیان میں ملک صاحب کے الزامات کی شدت سے تردید کی۔ ملک صاحب اولاً تو بیرون ملک چلے گئے اور اُن کی بیماری کی خبریں عام کر دی گئیں، لیکن چند روز بعد واپس تشریف لے آئے اور عدالت کے حضور پیش ہو گئے۔ اِس دوران اٹارنی جنرل کے اعتراض پر چیف جسٹس خود کو بنچ سے الگ کر چکے تھے کہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے ضابطہ ¿ اخلاق کے تحت کوئی بھی جج اپنے کسی عزیز کا مقدمہ نہیں سن سکتا۔ چیف جسٹس کے اِس فیصلے کے بعد سہ رکنی بنچ، دو رکنی رہ گیا۔

ملک ریاض حسین نے عدالت میں جو تحریری بیان پیش کیا، اُس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا تھا، نہ ہی اُن کے بارے میں کوئی شکایت کی گئی تھی، سو عدالت نے انتہائی دانشمندانہ انداز میں اِس معاملے کو نبٹا دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملک ریاض حسین کے تحریری بیان کے بعد، یہ معاملہ عدالت اور اس کے وقار سے متعلق نہیں رہا۔ اِس لئے حکومت قانون کے مطابق اِن دونوں اور ملک ریاض کے داماد (جن کے ذریعے ادائیگیاں کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے) کے خلاف اقدام کرے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کے لکھے ہوئے فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں، اس لئے دونوں ہی سزا کے مستحق ہیں زیر بحث معاملے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات383(بھتہ خوری) 415 اور 420(دھوکہ دہی) اور احتساب آرڈیننس کی دفعہ9کے تحت کاروائی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل یر پہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ وہ قانونی کارروائی کے لئے ضروری اقدامات کریں۔

کئی نکتہ دان یہ نکتے اُٹھا رہے تھے کہ سپریم کورٹ میں کسی شخص کے خلاف براہ راست مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا کہ یہ ”ٹرائل کورٹ“ نہیں، اپیل کی عدالت ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ یا ایجنسی نہیں ہے کہ اس طرح کے معاملے کی چھان پھٹک شروع کر دے۔ یہ نکتہ بھی زیر بحث لانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ چیف جسٹس کے بیٹے کے ساتھ غیر معمولی سلوک کیوں ہو، انہیں ان تفتیشی مرحلوں سے کیوں نہ گزارا جائے اور ان کے ساتھ وہ معاملہ کیوں نہ ہو، جو دوسرے عالی نصب ”صاحبزادگان“ کے ساتھ کیا گیا یا کرنے کی کوشش کی گئی۔ سپریم کورٹ نے ان سب نکتوں اور سوالوں کو یکسر ختم کرتے ہوئے ”صاحبزادہ ارسلان“ کو حکومت کے سپرد کر دیا ہے کہ جہاں چاہے اور جس طرح چاہے، انہیں سپرد تفتیش کر دے۔ یہ نیب کی تحویل میں دیئے جائیں یا ایف آئی اے کے سپرد، ان کا معاملہ کیا جائے، یا پولیس سے کام لیا جائے، حکومت جو مناسب سمجھے فیصلہ کرے، ہاں شرط یہ ہے کہ دوسرے ملزمان بھی اُن کے ساتھ ہوں۔ اگر اُن کی کلائی میں ہتھکڑی لگے تو دوسرے دو ملزمان کی کلائیاں بھی اس سے سج جانی چاہئیں۔

نیب کے ترجمان نے اولاً تو خوشی خوشی کہا تھا کہ ملزموں کو اُن کے سپرد کیا جا سکتا ہے، اٹارنی جنرل بھی یہی فرماتے رہے تھے، لیکن بعد میں چیئرمین نیب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری کا یہ بیان سامنے آ گیا کہ یہ معاملہ نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ یہ دو افراد کا ”آپس کا معاملہ ہے“ ان میں سے کوئی بھی”کارِ سرکار“ پر مامور نہیں ہے۔ کئی قانون دان اُن کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جس طرح” ڈبل شاہ“ کو نیب نے اپنی تحویل میں لیا تھا، اسی طرح مذکورہ بالا تینوں ملزموں سے بھی نبٹ سکتی ہے، لیکن یہ بہرحال نیب اور حکومت کا معاملہ ہے۔ اٹارنی جنرل جانیں اور اُن کا کام۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کے فیصلے پر جسٹس خلجی عارف حسین نے ایک الگ نوٹ بھی لکھا ہے، جس میں بچوں کے حوالے سے والدین کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ارسلان افتخار کے معاملے سے چیف جسٹس کی علیحدگی اور بریت کے اعتراف کے باوجود، معاشرے میں یہ سوال زیر بحث آیا ہے کہ اعلیٰ مناصب کے حاملین کو(خاص طور پر) اپنے بالغ بچوں پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں یہ اُن کے نام کو استعمال تو نہیں کر رہے یا کہیں اُن کے نام کو دھندلانے کے لئے ان بچوں کو ورغلایا یا جال میں پھنسایا تو نہیں جا رہا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک پیچیدہ بحث کا خاتمہ کر دیا ہے، جن عناصر کی یہ تمنا تھی کہ عدلیہ کو اِس دلدل میں پھنسا کر وہ بانسری بجائیں گے اُن کے ہاں نوحے ضرور پڑھے جا رہے ہوں گے، لیکن وہ لوگ (جو بے حد بھاری اکثریت میں ہیں) عدلیہ کی آزادی کی تحریک کے جذبے کو باقی (اور جاری) رکھنا چاہتے ہیں، انہوں نے اس پر اطمینان کا سانس لیا ہے۔

سی این جی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، مستحسن فیصلہ

 حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کے بعد اندرون ملک تیل کی مصنوعات 16جون سے سستی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، جبکہ وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر سی این جی کی قیمت میں بھی کمی کر دی گئی۔ ذرائع کے مطابق پٹرول پر ٹیکس کی شرح پہلے ہی اپنی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے اور حکومت کے پاس از روئے قانون پٹرولیم نرخوں میں مزید اضافے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اِس لئے اسے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرنے کا فائدہ صارفین کو منتقل کرنا پڑا۔ یاد رہے گزشتہ ماہ کے آخر میں بھی اوگرا نے تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی کے پیش نظر مقامی طور پر پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کی تجویز دی تھی جسے حکومت نے مسترد کر کے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے 5بلین روپے کا فوری فائدہ اُٹھا لیا تھا مگر اِس بار قانون میں حکومتی منافع کی شرح میںمزید اضافے کی گنجائش نہ ہونے کے باعث کمی کر دی گئی ہے۔ مہنگائی کے مارے عوام کے لئے یہ ایک اچھی خبر ہے، مگر اب حکومت کو چاہئے کہ ان تمام چیزوں کی قیمتیں بھی کم کروائے جن پر تیل کی قیمتوں کے ساتھ اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ بالخصوص ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری کمی کروائی جائے، جن میں ہونے والا ہوش ربا اضافہ عام مسافروں کے لئے باعث آزار بنا ہوا ہے۔

سرکاری ہسپتالوں کی نااہل انتظامیہ

سروسز ہسپتال لاہور کے بچہ وارڈ نرسری میں شارٹ سرکٹ کے باعث ہونے والی آتشزدگی میں معصوم بچوں کے جھلسنے اور ہلاک ہونے کا سانحہ رونما ہونے کے بعد صوبے کے تمام ہسپتالوں سے ہر ہسپتال کے ہر وارڈ میں کئے جانے والی بجلی کی وائرنگ سمیت دیگر ٹیکنیکل تنصیبات کی فٹنس کے بارے میں سر ٹیفکیٹ طلب کئے گئے تھے مگر حیرت انگیز طور پر کسی بھی ہسپتال کی انتظامیہ یہ مطلوبہ سر ٹیفکیٹ پیش کرنے سے قاصر رہی کیونکہ کسی بھی ہسپتال میں عمارت میں ہونے والے تکنیکی کاموں کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں، یہاں تک کہ بے شمار عمارتوں میں بجلی کی تنصیبات کے لئے کئے گئے ضروری کام کی رپورٹس اور نقشہ جات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ وقت اور ضرورت کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کی انتظامیہ اپنی مرضی سے عمارتوں کو سنٹرلی ایئر کنڈیشنڈ کرواتی رہی ہے ،مگر بیشتر جگہ ضروری وائرنگ کروانے پر دھیان نہیں دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ لوڈ برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے پرانی تاریں پگھل کر خوفناک آتشزدگی جیسے حادثات کا باعث بنتی ہیں۔ اس پس منظر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہسپتالوں کے ارباب بست و کشاد کس قدر محتاط اور ذمہ دار ہیں؟ مبینہ طور پر یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ اکثر ہسپتالوں میں تکنیکی عملہ باقاعدہ تربیت یافتہ اور مطلوبہ اہلیت کا حامل نہیں، بلکہ سفارش پر بھرتی ہونے والے غیر ہنرمند لوگ بجلی کی تنصیبات جیسی خطرناک چیزوں کی دیکھ بھال پر مامور ہیں۔ حساس نوعیت کے ان کاموں کے لئے سفارش پر کی گئی بھرتیوں کی وجہ سے اربوں روپے مالیت کی سرکاری ہسپتالوں کی عمارتیں اور ان میں زیرعلاج مریض نااہل سفارشی اہلکاروں کے رحم و کرم پر ہیں جن میں سے اکثر وقت سے پہلے خطرے کی بُو سونگھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں۔ حکومت کو ہسپتالوں کی انتظامیہ کی اس غفلت، نااہلی اور فرائض سے کوتاہی کا فوری نوٹس لے کر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے ہسپتالوں کی انتظامیہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنی چاہئے۔ نااہل اور غیر ہنر مند افراد کی جگہ مطلوبہ قابلیت کے حامل اہل ہنر مندوں کو تعینات کر کے مستقبل میں سروسز ہسپتال جیسے حادثات سے بچنے کی سعی کرنی چاہئے۔

مزید :

اداریہ -