” حمزہ شہباز بنام چودھری احمد مختار“

” حمزہ شہباز بنام چودھری احمد مختار“
 ” حمزہ شہباز بنام چودھری احمد مختار“

  

 

اپنے چودھری احمد مختار صاب۔۔۔ وفاقی وزیر برائے بجلی و پانی۔ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے اور آپ کا سروس شوز بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہوگا، میں کل آپ کے ایک سٹو ر کے سامنے سے گزرا تو وہاں سیل لگی ہوئی تھی، سوچا ایک جوتا لے لوں، سستا مل جائے گا مگرمجھے اپنی احتجاجی ریلی میں شرکت کی دعوت دینے کے لئے اتنے گھروں میں جانا تھا کہ اتنے گھروں میں تو میں اپنی شادی کا کارڈ دینے بھی نہیں گیا تھا، مصروفیت کی وجہ سے نہ رک سکا مگر میرا وعدہ ہے کہ اگلی سیل پرسروس شوز سے لازماً ایک اچھی سی مکیشن لوں گا۔ لیں جی بات کیا کرنا تھی اور کیا شروع کر دی، اصل میں آپ کا شکریہ ادا کرنا تھا اور مجھے یقین تھا کہ اس مشکل گھڑی میں آپ ہی کام آئیں گے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ کس بات کا شکریہ اور کون سی مشکل گھڑی۔ بات یہ ہے کہ آپ کو تو اچھی طرح علم ہی ہو گا کہ ہم کل سترہ جون کی شام چھ بجے لوڈ شیڈنگ کے خلاف نیلا گنبد لاہور سے ایک احتجاجی ریلی نکال رہے ہیں، یہ وہی ریلی ہے جسے ہم نے چودہ جون کو نکالنا تھا مگر پھر حسب عادت اور حسب روایت تاریخ کو تبدیل کر دیا۔ یہ ریلی پیپلزپارٹی کی حکومت کی طرف سے پنجاب میں کی جانے والی لو ڈشیڈنگ کے خلاف ہے اور مجھے پریشانی یہ لگی ہوئی تھی کہ جب سے ابو جان نے مینار پاکستان پر خیمہ دفتر لگایا ہے ، لوڈ شیڈنگ بارہ تیرہ گھنٹے سے سات ،آٹھ گھنٹے پر آ گئی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ہم نے اٹھائیس اکتوبر کو بھاٹی چوک میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی ریلی کا اعلان کیا تھا تو اس سے پہلے بھی لوڈ شیڈنگ کم ہو گئی تھی اور ہمارے لوگ ایسے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ کی تکلیف کو بھولنے بھالنے لگے تھے لیکن یقین کریں اس مرتبہ تو آپ نے کمال کر دیا ہے میں ایوان وزیراعلیٰ میں بیٹھا جنریٹر سے پیدا ہونے والی روشنی میں آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں تو مجھے عمران گورایہ نے خود آ کے بتایا ہے کہ اس کے ہمسائیوں کے گھر چھ چھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، دوگھنٹے کے لئے بجلی آتی ہے تو چھ گھنٹے کے لئے غائب ہوجاتی ہے۔ دو چار سال پہلے تو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صرف یوپی ایس جواب دیا کرتے تھے مگر اب تو جنریٹروں نے بھی صاف جواب دینا شروع کر دیا ہے۔ کل جمعے کا روز تھا، لوگوں نے نماز جمعہ ادا کرنا تھی تو بڑے عرصے بعد لاہوریوں نے تیمم کر کے نماز ادا کی۔ اب آپ کہیں گے کہ پانی فراہم کرنا تو صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے تو اپنے چودھری صاحب مجھے یقین تھا کہ آپ ایسی چودھریوں والی بات ضرور کریں گے تو اس کا جواب بھی میں نے ایم ڈی واسا جاوید اقبال سے پوچھ رکھا ہے کہ اگر آپ بجلی ہی نہیں فراہم کریں گے تو کیا جنریٹر ہم پھونکیں مار مار کے چلائیں گے۔ ہم نے شہر کے ایک چوتھائی ٹیوب ویلوں کو جنریٹر فراہم کر دئیے ہیں مگر کہیں ڈیزل ختم ہوجاتا ہے اور کہیں جنریٹر کی ہمت۔ ایسے ہی ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال کا شیڈول لے کر اپنے ڈاکٹر جاوید اکرم بھی پرویز ملک صاب کے ساتھ ایوان وزیراعلیٰ آئے تھے اور بتا رہے تھے کہ ان کے ہسپتال میں ایک سو سے زائدآپریشن ملتوی ہو گئے، لیبارٹریوں میں ٹیسٹ نہیں ہو رہے بلکہ بجلی کی آنکھ مچولی سے جدید ترین آلات خراب ہو رہے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں کام ٹھپ پڑا ہوا ہے اور تمام لوگ فون پر فون کرکے پوچھ رہے ہیں کہ ہماری احتجاجی ریلی کب ہے، وہ اس میں شریک ہونا چاہتے ہیں حالانکہ اکتوبر میں ہونے والی ریلی میں شرکت پر لوگوں کو منانے پر میری جان آدھی رہ گئی تھی۔ آپ کو بھی یاد ہو گا جب ہم قومی اسمبلی میں ملے تھے تو آپ نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجھے اتنی محنت کرنے سے منع کیا تھا۔ اب آپ ہی بتائیں جب ابو جان اتنا کام کرتے ہیں تو میں کیسے کام چوری کر سکتا ہوں، ویسے بھی تایا جان کی مہربانی ہے کہ انہوں نے اپنے کپتان صاب کے اعتراضات کے باوجود لاہور میرے حوالے کر رکھا ہے اور اگر لاہور سے ہی رسپانس نہ آئے تو میرے دن کا چین اور رات کا آرام تو حرام ہو ہی جائے گا لہذا میں تو اس ٹینشن کا شکار تھا کہ کہیں لوگ اتنی گرمی میں ریلی میں آنے کی بجائے اپنے گھروں میں نہ بیٹھے رہیں مگر اب نہ بجلی ہوگی اور نہ ہی کوئی گھر بیٹھ سکے گا۔خواجہ عمران نذیر مجھ سے اختلاف کر رہا تھا کہ مجھے آپ کو شکریہ ادا کرنے کا خط نہیںلکھنا چاہئے ورنہ تحریک انصا ف والے شور مچائیں گے کہ وہ نہ کہتے تھے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی والے آپس میں ملے ہوئے ہیں مگر مجھے بزرگوں نے یہی بتایا ہے کہ جو اللہ کے بندوں کا شکر یہ ادانہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ میں نے شبیر گجر سے بھی پوچھا کہ چودھری صاب نے اتنی مہربانی کیوں کی کہ ہماری ریلی سے قبل لوڈ شیڈنگ کے کڑاکے ہی نکال دئیے، شبیر گجر نے خواجہ احمد حسان سے پوچھ کر بتایا کہ آپ نے اصل میں ابھی تک دل سے چودھری شجاعت حسین کے ساتھ اتحاد کو قبول نہیں کیا۔ اب چودھری شجاعت حسین کے ہم بھی مخالف ہیں اور آپ بھی۔ خواجہ احمد حسان اگر چہ آج کل سابق کمشنر لاہور خسرو پرویزکے بیٹے کو قتل کیس میں معافی دلوانے میں بہت زیادہ مصروف ہیں مگراس کے باوجود انہوں نے اپنی مصروفیات سے وقت نکالتے ہوئے یہ تھیوری تفصیل کے ساتھ شبیر گجر کو سمجھائی کہ دشمن کا دشمن بھی دوست ہوتاہے۔ ادھر ایوان وزیراعلیٰ میں ہی ماجد ظہور بھی بیٹھا ہوا ہے، آپ کو سلام بھی کہہ رہا ہے اور بتا رہا تھا کہ یوسف رضا گیلانی نے ایک اجلاس کیا ہے، مجھے معاف کیجئے گا کہ میں یہاں پر یوسف رضا گیلانی کے ساتھ وزیراعظم نہیں لکھ سکتا ورنہ آپ اس خط کو لے کر صدر زرداری کے پاس چلے جائیں گے اور کہیں گے کہ حمزہ شہباز نے تو یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم تسلیم کر لیا ہے۔ بہرحال ماجد ظہور کے مطابق اس اجلاس میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، ماجد ظہو ر کی یہ بات سن کر میری تو آدھی جان ہی نکل گئی تھی مگر بعد میں پتا چلا کہ ماجد ظہور توآج کل لوگوں کو میری سفارش پر نوکریاں دینے میں بہت زیادہ مصروف ہے اور یہ خبر اس کی ڈس انفارمیشن تھی۔ اگر یہ خبر ڈس انفارمیشن نہ ہوتی تو لاہو رمیں بیس سے بائیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نہ ہو رہی ہوتی۔ میں نے خواجہ عمران نذیر کو بتایا کہ اپنے چودھری احمد مختار بہت پکے اور سچے پنجابی ہیں اور ان کا دل بھی پنجاب سے ہونے والی زیادتی پر پھٹ رہا ہوگا، وہ جانتے ہوں گے کہ نندی پور اور چیچوں کی ملیاں پراجیکٹ کے لئے منگوائی گئی مشینری کی وفاقی وزارت قانون نے اجازت نہیں دی جس سے قوم کے ایک سو تیرہ ارب روپے ضائع ہو گئے ، انہوں نے ورلڈ بنک کی یہ رپورٹ بھی پڑھی ہو گی کہ لوڈ شیڈنگ سے چار لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے اور ان کی بہت بڑی تعداد پنجاب سے تعلق رکھتی ہے لہذا وہ بھی چاہتے ہوں گے کہ ہماری لوڈ شیڈنگ کے خلاف ریلی کامیاب ہو اوراسی کے لئے انہوں نے اپنی خداداد ذہانت سے کام لیتے ہوئے گیس اور آئیل کی کمی کو بنیاد بناتے ہوئے ریکارڈ اور تاریخ ساز لوڈ شیڈنگ کر ڈالی ہے۔ اب شائد ہی کوئی لاہوری ہو گا جو ہماری ریلی میں شرکت نہیں کرے گا اور اس کا تمام تر کریڈٹ وفاقی وزیر بجلی و پانی کو ہی جاتا ہے ۔ یہ سب حقائق جان کے اب عمران نذیر بھی مان گیا ہے کہ آپ کی اس مساعی کو خراج تحسین پیش نہ کرنا بہت بڑی زیادتی ہو گی اوراسی لئے میں نے کارکنوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ آپ کے پتلے بھی بنا کر لائیں تاکہ ان کو جلا کے ہم آپ کو آصف علی زرداری کی نظر میں ہیرو بنا سکیں۔ مجھے پتا چلا ہے کہ اس احتجاج میں پیپلزپارٹی کے بہت سارے رہنما بھی شریک ہو رہے ہیں، وہ فریال تالپور صاحبہ کو یہی بتائیں گے کہ وہ یہی دیکھنے کے لئے گئے تھے کہ ہماری ریلی میں کتنے لوگ شامل ہوئے ہیں او ر اگر آپ چاہیںتو آپ بھی کل شام سات بجے نیلا گنبد آسکتے ہیں۔ اس احتجاج میں سٹیج تک آ نے کے لئے میرے لئے مخصوص راستہ آجاسم شریف آپ کے لئے کھول دے گا بلکہ میں خواجہ سلمان رفیق سے کہوں گا کہ وہ آپ کے ساتھ ساتھ رہے تاکہ آپ بھی ہمارے ساتھ مل کر پنجاب سے ہونے والی اس زیادتی کے خلاف ایک پنجابی کے طور پر احتجاج کر سکیں۔ بہرحال ہماری ریلی سے اڑتالیس گھنٹے قبل لاہور میں تاریخی لوڈ شیڈنگ کرنے پر میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ آپ نے ہمارے ساتھ جو غیر معمولی تعاون کیا ہے وہ ہمیشہ اس خط کی طرح خفیہ رہے گا، آپ بالکل پریشان نہ ہوں ، شکرئیے کا یہ خط میں صرف نعیم میر کودوں گا ،وہ اس کے دو چار ہزار لوگوں کو ایس ایم ایس کر کے آپ کی اس عظیم الشان کنٹری بیوشن کو خراج تحسین پیش کر دے گا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ والسلام ۔۔۔ آپ کے لئے دعاگو۔۔ میاں محمد حمزہ شہباز شریف۔

مزید :

کالم -