ناقدین کی خدمت میں! (2)

ناقدین کی خدمت میں! (2)
ناقدین کی خدمت میں! (2)
کیپشن: abu amar zahid

  

*۔۔۔جامعہ اشرفیہ کے مذکورہ اجلاس کے موقع پر میں مسلسل دو روز ان کی خدمت میں حاضر رہا۔

*۔۔۔جامعہ احسن المدارس کراچی کے معصوم طلبہ کی شہادت کے بعد چند سرکردہ حضرات کا جو اجلاس اسلام آباد میں حضرت مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوا، اس اجلاس میں ان کی خدمت میں میری حاضری ہوئی۔

*۔۔۔17 اپریل 2013ء کو وفاق المدارس کے مسؤلین کا جو اجلاس ملتان میں حضرت مولانا سلیم اللہ خان کی صدارت میں ہوا، اس کی ایک نشست میں مجھے خصوصی طور پر بلایا گیا۔ یہ نشست وفاق المدارس کے زیر اہتمام مجوزہ عالمی اجتماع کی تیاریوں کے لئے تھی۔ اس میں سات رکنی ’’میڈیا کمیٹی‘‘ قائم کر کے مجھے اس کا مسؤل بنایا گیا اور مَیں نے اس حوالے سے اسلام آباد میں باضابطہ اجلاس کر کے سرگرمیوں کا آغاز بھی کر دیا تھا۔

حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ کو یاد ہوگا کہ ملتان کے مذکورہ اجلاس کے بعد میں ان کی مجلس میں بیٹھا تھا تو انہوں نے ایک بات بطور شکوہ فرمائی تھی کہ ’’تم نے وفاق المدارس کے تحت قدیم فضلاء کے امتحان میں فرضی نام سے شرکت کی تھی‘‘۔ مَیں نے عرض کیا تھا کہ نہیں، مَیں اپنے اصل نام کے ساتھ امتحان میں شریک ہوا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ ’’کیا تم نے عبد القیوم کے نام سے امتحان نہیں دیا تھا‘‘؟ مَیں نے عرض کیا کہ نہیں، مَیں نے عبد المتین کے نام سے امتحان دیا تھا اور وہ میرا اصل نام ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا تمہارا نام زاہد الراشدی نہیں ہے؟ مَیں نے اس کے جواب میں اپنا شناختی کارڈ ان کی خدمت میں پیش کیا تھا جس میں میرا نام ’’محمد عبد المتین خان زاہد‘‘ درج ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا: ’’اچھا! مَیں تو اس حوالے سے تم سے بدگمان ہی رہا‘‘۔

مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر اس کے علاوہ کوئی اور ’’بدگمانی‘‘ ان کے ذہن میں ہوتی تو اس کا بھی اظہار فرماتے یا ان تین حاضریوں میں سے کسی موقع پر اس کا ذکر فرما دیتے۔ اس لئے اس ملاقات کے بعد مَیں مطمئن ہوگیا تھا کہ ماضی کے معاملات ماضی کا حصہ بن گئے ہیں اور نظر انداز کر دیے گئے ہیں، چنانچہ مَیں نے بھی سب معاملات بھلادیئے اور حضرت موصوف کے حکم پر ’’میڈیا کمیٹی‘‘ کے مسؤل کے طور پر وفاق المدارس کے لئے پھر سے متحرک ہوگیا ،جس کی رپورٹ ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے جون 2013ء کے شمارے میں شائع ہو چکی ہے۔ اس پس منظر میں میرا خیال تھا اور اب بھی ہے کہ جس ’’فتوے‘‘ پر حضرت مدظلہ سے دستخط لئے گئے ہیں اور پھر ان کے نام پر دوسرے بزرگوں سے دستخط لینے کی مہم چلائی گئی ہے، وہ خود ان کا تحریر کردہ نہیں ہے جس کی تائید اس تحریر کی زبان اور اسلوب سے بھی ہوتی ہے۔ مَیں ان کا پرانا نیاز مند ہوں۔ ان کی بزرگانہ شفقت سے ہمیشہ فیض یاب ہوتا رہا ہوں اور ان کے دینی، علمی اور اخلاقی مرتبہ و مقام سے کچھ نہ کچھ ضرور آگاہ ہوں۔ اس لئے کسی طرح بھی اس تحریر کو ان کے قلم سے باور کرنے کو جی نہیں چاہتا۔

در اصل کچھ لوگوں کا مزاج اور شوق یہ ہوتا ہے کہ وہ بزرگوں سے اپنے مطلب کی بات کہلوانے یا ان کی بات میں اپنی بات شامل کر کے اس کا وزن بڑھانے کے لئے ان کے گرد ’’تلک الغرانیق العلی‘‘ جیسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور جتنا بڑا بزرگ ہوتا ہے، اسی درجہ کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے۔ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس اور ماحول تک کو معاف نہیں کیا گیا تو دوسرا کون اس سے بچ سکتا ہے؟ البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ اس وقت وحی جاری ہونے کی وجہ سے ’’فینسخ اللّٰہ ما یلقی الشیطان ثم یحکم اللّٰہ آیاتہ‘‘ کا اہتمام ہوگیا تھا اور اب وحی کا دروازہ بند ہونے کے بعد اس کا امکان نہیں رہا۔ اب صرف فراست و بصیرت کے ذریعے ہی اس قسم کے ماحول سے بچا جا سکتا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ حضرت والد محترم نور اللہ مرقدہ جب کئی سال سے مسلسل بستر علالت پر تھے اور مَیں وقتاً فوقتاً ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، ایک بار حاضر ہوا تو کچھ نوجوان ان کے گرد بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت والد محترمؒ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا کہ اچھا ہوا، تم آگئے۔ یہ لڑکے دو روز سے میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور کسی تحریر پر دستخط کرانا چاہتے ہیں۔ ذرا دیکھ لو، یہ کیا کہتے ہیں؟ مَیں ان نوجوانوں کو دوسرے کمرے میں لے گیا، وہ تحریر پڑھی جو میرے خیال میں حضرتؒ کے شایان شان نہیں تھی۔ مَیں نے ان نوجوانوں کو ڈانٹا اور کہا کہ دو چار باتیں سنا کر اس بزرگ سے دستخط لینا چاہتے ہو جن کی تحقیق کا معیار یہ رہا ہے کہ جب تک کسی کتاب میں مطلوبہ حوالہ خود نہیں دیکھ لیتے تھے، اس کا ذکر نہیں کرتے تھے اور ایک ایک حوالے کی تلاش میں سینکڑوں میل سفر کر کے لائبریریوں تک رسائی حاصل کرتے تھے؟ یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے کہ دو چار باتیں سنا کر اپنی مرضی کی کسی تحریر پر ان سے دستخط کرا لئے جائیں۔ یہ بات جب مَیں نے والد محترمؒ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ ’’تم نے اچھا کیا ہے‘‘۔

میرا دل اب بھی اس ’’فتوے‘‘ کو حضرت مولانا موصوف کی تحریر نہیں مانتا، لیکن چونکہ انہوں نے اس پر دستخط فرما دیئے ہیں اور اپنے دوسرے خطوط میں ان کی توثیق بھی فرما دی ہے، اس لئے بادل نخواستہ اسے ان کا موقف سمجھ کر مَیں نے بار بار درخواست کی ہے کہ دوسری طرف کا موقف بھی معلوم کر لیا جائے اور دوسرے فریق کو بھی اپنی بات عرض کرنے کا موقع دیا جائے۔ مگر اخبارات و جرائد میں اس سے قبل دونوں طرف سے شائع ہونے والے مضامین کو ہی کافی سمجھ کر مزید تحقیق سے صاف انکار کر دیا گیا ہے۔ مجھے اپنے بزرگوں کی خدمت میں یہ گزارش کرنے کی ضرورت خدا جانے کیوں محسوس ہو رہی ہے کہ اخبارات و جرائد کی تحریریں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی اور مکالمے کا ذریعہ تو ضرور ہو سکتی ہیں، لیکن قضا، فتویٰ یا تحکیم کے لئے کافی نہیں ہوتیں اور نہ ہی کبھی کسی عدالت نے محض اخباری مضامین کی بنیاد پر کوئی فیصلہ صادر کیا ہے۔ فیصلے اور فتوے کا اپنا دائرہ ہوتا ہے اور اس کا صحیح طریقہ کار وہی ہوتا ہے جو مَیں کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ جس کے خلاف الزام ہو، اس سے جواب طلب کیا جائے اور اس کے بعد کوئی فیصلہ صادر کیا جائے۔ اس کے بغیر جاری کئے جانے والا کوئی بھی فیصلہ یک طرفہ ہوتا ہے اور اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہوتی۔

پھر حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے میرے خلاف یہ فتویٰ کسی ’’استفتا‘‘ کے جواب میں دیا ہوتا تو یہ بات سمجھی جا سکتی تھی کہ استفتا میں جو کچھ پوچھا گیا ہے، یہ اس کا جواب ہے، لیکن یہ فتویٰ کسی استفتا کے جواب میں نہیں، بلکہ خود حضرت مدظلہ کی طرف سے ہے۔ اس لئے مَیں یہ عرض کرنے میں حق بجانب ہوں کہ ’’فتوے‘‘ اور فیصلے کے تقاضے پورے کئے بغیر ایک تحریر پر ان سے دستخط کرا لئے گئے ہیں۔

حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ نے اپنے تفصیلی مکتوب میں میرے بارے میں الزامات کی جو فہرست دہرائی ہے، ان میں سے ایک بھی ایسا الزام نہیں ہے جس کا جواب نہ دیا جا چکا ہو۔ مثلاً مجھ پر یہ الزام ہے کہ مَیں عمار خان کا ناجائز دفاع کرتا ہوں۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ مَیں دفاع ضرور کرتا ہوں، مگر ناجائز نہیں کرتا۔۔۔ ایک دوست میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم عمار خان کا دفاع کیوں کرتے ہو؟ مَیں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں مزاج بن گیا ہے کہ ہر اختلاف کو کفر و اسلام کا معرکہ بنا لیا جاتا ہے۔ ہر جھگڑے کو302 کا کیس بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور فرضی طور پر توہین رسالتؐ کا کیس قائم کرنے پر پورا زور صرف کر دیا جاتا ہے۔ ملک میں توہین رسالت کے بیسیوں کیس ایسے موجود ہیں جو مسلکی تعصب کی بنیاد پر درج کرائے گئے ہیں اور بے بنیاد ہیں۔ خود گوجرانوالہ میں متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ ایک حافظ صاحب کو توہین قرآن کریم کا مجرم قرار دے کر سڑک پر گھسیٹ کر مار ڈالا گیا، لیکن جب تحقیق ہوئی تو اس کے پیچھے مسلکی عصبیت کار فرما تھی۔ اس طرز عمل کا ایک شکار ہمارے بھانجے اور جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق سلّمہ بھی ہیں، جنہوں نے گزشتہ سال اسی قسم کے ایک جھوٹے کیس سے بمشکل جان چھڑائی ہے۔ مَیں نے ان صاحب سے پوچھا کہ اگر عمار خان کسی جھگڑے میں دفعہ 151/107 کے درجے کا ملزم بنتا ہو اور اس کے خلاف 302 کی ایف آئی آر کٹوانے کی کوشش کی جائے تو مجھے کس کا ساتھ دینا چاہیے؟ اس پر وہ صاحب خاموش ہوگئے۔

مَیں نے ہمیشہ دوستوں سے کہا ہے کہ عمار خان کے خلاف جس درجے کی بات ہے، اتنی کرو تو مَیں آپ کے ساتھ ہوں۔ اور اگر 151/107کے کیس پر 302 کا پرچہ درج کرانے کی کوشش کی جائے گی تو مَیں اس کے ساتھ ہوں گا اور مجھے اس کے ساتھ ہی ہونا چاہیے۔ یہ صرف عمار خان کی بات نہیں ہے، جس کے ساتھ بھی اس قسم کی زیادتی ہوتی ہے، مَیں نے ماضی میں بحمد اللہ اسی کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی میرا طرز عمل ان شاء اللہ تعالیٰ یہی رہے گا۔ عمار خان کی بعض تحریروں سے مَیں نے بھی اختلاف کیا ہے جو ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہوا ہے۔ اپنے جد مکرم رحمہ اللہ تعالیٰ اور میرے توجہ دلانے پر اس نے بعض مسائل میں رجوع بھی کیا ہے اور وہ بھی ’’الشریعہ‘‘ کے ریکارڈ میں ہے اور اب بھی بعض مسائل پر ہمارے درمیان گفتگو جاری ہے جو ان شاء اللہ تعالیٰ حسب سابق مثبت نتیجے تک ہی پہنچے گی۔ البتہ اس حوالے سے میرا موقف سمجھنے کی ضرورت ہے جو کئی بار وضاحت کے ساتھ پیش کر چکا ہوں:

* ۔۔۔مَیں فکری طور پر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا پیروکار ہوں جنہوں نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں صراحت کی ہے کہ وہ عقائد میں فرق کی بنیاد پر تو کسی کو اہل سنت سے خارج قرار دیتے ہیں، لیکن عقائد کی تعبیرات میں اختلاف کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ: لست أستصح ترفع احدی الفرقتین علی صاحبتہا بانہا علی السنۃ۔ ۔۔۔(مَیں اس بات کو صحیح نہیں سمجھتا کہ کوئی فریق دوسرے پر اس بات میں برتری جتائے کہ میں اہل سنت ہوں اور وہ نہیں ہے)۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اشاعرہ، ماتریدیہ اور ظواہر، تینوں عقائد کی تعبیرات میں بیسیوں اختلافات کے باوجود اہل سنت میں شامل ہیں اور ان میں سے کسی کو اہل سنت سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا۔

*۔۔۔فقہی طور پر بحمداللہ تعالیٰ متصلب اور شعوری حنفی ہوں، لیکن اہل سنت کے دیگر فقہی مذاہب مالکیہ، شوافع، حنابلہ اور ظواہر کو گمراہ اور باطل قرار نہیں دیتا۔ حنفی مذہب کی پابندی کو ضروری سمجھتا ہوں اور اگر کوئی حنفی کسی مسئلے میں اپنے مذہب سے بلا جواز خروج کرتا ہے تو اسے خطا کار کہتا ہوں، لیکن باطل پرست اور گمراہ قرار نہیں دیتا، جیسا کہ فقہی معاملات میں ہمیشہ سے ہوتا چلا آرہا ہے۔

*۔۔۔کسی بھی صاحب علم اور صاحب مطالعہ کا یہ حق سمجھتا ہوں کہ اگر مطالعہ و تحقیق کے دوران اس کی کوئی رائے قائم ہو تو اس کا اظہار کرے، بشرطیکہ صرف رائے کے درجہ میں ہو، اسے حکم یا فیصلے کے طور پر پیش نہ کیا جائے اور اس رائے کا یہ حق ہے کہ اس پر غور کیا جائے اور بحث و مباحثے کے ذریعے اس کے صحیح یا غلط ہونے کے نتیجے تک پہنچا جائے۔

*۔۔۔جمہور اہل سنت کے مسلمات کے دائرے کو حق کا معیار سمجھتا ہوں اور اس سے خروج کو گمراہی قرار دیتا ہوں، مگر اہل سنت میں شوافع، حنابلہ، مالکیہ، اشاعرہ، ماتریدیہ اور ظواہر کو بھی شامل سمجھتا ہوں۔(جاری ہے)

اس دائرے میں میرا فکر و نظر کا توسع صرف عمار خان کے لئے نہیں، بلکہ مطالعہ و تحقیق کا ذوق رکھنے والے تمام حضرات کے لئے ہے۔ بیسیوں حضرات ایسے موجود ہیں، جن کی مَیں نے اس دائرے میں حوصلہ افزائی کی ہے اور اب بھی کرتا ہوں اور اس حق سے عمار خان کو صرف اس لئے محروم نہیں کر سکتا کہ وہ میرا بیٹا ہے۔ یہ میرا اصولی موقف ہے، جہاں تک مسائل کا تعلق ہے، بعض مسائل میں مجھے بھی عمار خان سے اختلاف ہے، لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ وہ حق و باطل کے درجے اور گمراہی کے دائرے کا نہیں ہے۔ احباب سے میری گزارش ہے کہ وہ اس کے موقف کو اس کے قلم سے ملاحظہ کریں اور پھر اس سے اختلاف کریں۔ کسی بھی جائز اختلاف میں وہ مجھے اپنے ساتھ پائیں گے۔ اگر کوئی دوست محاذ آرائی سے ہٹ کر عمار خان کے کسی موقف کے بارے میں افہام وتفہیم کے لہجے میں مجھے سمجھا دیں کہ وہ گمراہی کے درجے کا ہے اور حق و باطل کے فرق کے دائرے میں آتا ہے، تو مَیں اس دوست کا شکرگزار ہوں گا۔ عمار خان کو اس سے رجوع کے لئے کہوں گا اور اگر وہ اس پر ضد کرے گا تو اس کے موقف سے لا تعلقی کا اعلان کرنے میں ذرہ بھر تأمل نہیں کروں گا۔

میرے اس طرز عمل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مَیں خود اس مرحلہ سے گزر چکا ہوں اور میرے بزرگوں نے میرے بارے میں وہی طرز عمل اختیار کیا تھا جو مَیں آج کئے ہوئے ہوں۔ جمعیت علمائے اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ کے دو دھڑوں میں تقسیم ہوئی اور باہمی بیان بازی اور محاذ آرائی کا بازار گرم ہوا تو اس محاذ آرائی اور بیان بازی میں درخواستی گروپ کی طرف سے میں پیش پیش تھا۔ یہ گرم بازاری جب بہت زیادہ بڑھ گئی تو دوسری طرف کے چند اکابر بزرگ جو سب کے سب میرے مخدوم و محترم ہیں اور جن میں حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ ، حضرت مولانا سید محمد شاہ امروٹیؒ ، مولانا سید امیر حسین گیلانیؒ اورمولانا محمد لقمان علی پوریؒ شامل تھے، میرے خلاف شکایت لے کر حضرت والد محترمؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ کے پاس آئے اور فرمایا کہ مجھے اس حد تک آگے جانے سے روکا جائے۔ دونوں بزرگ اس گروپ بندی میں حضرت درخواستیؒ کے ساتھ تھے، بلکہ حضرت والد محترمؒ تو اس وقت بھی جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر تھے۔

دونوں بزرگوں نے ان محترم بزرگوں کی بات سنی اور معذرت کر دی۔ حضرت والد محترمؒ نے تو مجھے اس سلسلے میں کچھ کہنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی، البتہ حضرت صوفی صاحبؒ نے مجھے بعد میں بلایا اور بتایا کہ یہ بزرگ تشریف لائے تھے۔مَیں نے ان سے عرض کیا ہے کہ اگر زاہد نے جماعتی معاملے میں کوئی مالی بد دیانتی کی ہے یا کسی بزرگ کی شان میں گستاخی کی ہے یا کوئی اور بد اخلاقی کی ہے تو مَیں اسے ابھی آپ بزرگوں کے سامنے بلا کر ڈانٹوں گا اور سختی کے ساتھ منع کر دوں گا، لیکن اگر مسئلہ صرف رائے کا ہے تو مَیں اسے کچھ نہیں کہوں گا، اس لئے کہ اپنی رائے اختیار کرنا اگر دوسرے لوگوں کا حق ہے تو اس کا بھی اتنا ہی حق ہے اور وہ اپنی رائے میں مکمل آزاد ہے۔ یہ فرما کر حضرت صوفی صاحبؒ نے مجھے کہا کہ کسی اور معاملے میں شکایت کا موقع نہ دینا تو رائے کے معاملے میں ہم کوئی دخل نہیں دیں گے۔

اسے میری کمزوری سمجھا جائے یا مجبوری کہ مَیں نے ان بزرگوں کے سائے میں تربیت پائی ہے جو جائز حدود میں اختلاف کا حق دیتے تھے، بات کو سنتے تھے، دلیل کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے اور اپنی رائے مسلط کرنے کا راستہ اختیار نہیں کرتے تھے۔ اب جو ماحول ہمیں فراہم کرنے کی تگ و دو کی جا رہی ہے، وہ کم از کم میرے لئے اجنبی ہے۔ اس لئے کہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ ، حضرت مولانا محمد عبدا للہ درخواستیؒ ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ میں سے کسی کا مزاج اور ذوق ایسا نہیں تھا۔ مَیں جو کچھ بھی ہوں، ان بزرگوں کے فیض و برکت سے ہوں اور دنیا و آخرت میں انہی کے ماحول اور زمرے میں رہنا چاہتا ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔

بعض حلقوں کی طرف سے میرے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے ،بلکہ اس پر ایک بڑی پروپیگنڈہ مہم کی بنیاد رکھی جا رہی ہے کہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد ان کے راستے سے ہٹ گیا ہوں اور مَیں نے ان سے متضاد طرز عمل اختیار کر لیا ہے۔ جبکہ اہل خاندان اور دیگر متعلقین و احباب سب جانتے ہیں کہ دینی، تعلیمی، سیاسی، تحریکی اور صحافتی حوالوں سے میرا طرز عمل آج بھی وہی ہے جو حضرت والد محترمؒ کی زندگی میں تھا اور انہیں یہ سب کچھ معلوم تھا، بلکہ بہت سے معاملات میں مجھے ان کی رفاقت اور سرپرستی بھی حاصل تھی۔ مَیں اس وقت بھی وہی ہوں جو ان کی زندگی میں تھا اور میرے نظریات و افکار، طرز عمل اور کردار میں سرِمو کوئی فرق نہیں آیا۔ اگر کسی ایک بات کی بھی نشاندہی کر دی جائے جو مَیں اب کہہ یا کر رہا ہوں اور ان کی زندگی میں نہیں کرتا تھا تو نشاندہی کرنے والے دوست کا ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات میں شکریہ ادا کروں گا۔

مثال کے طور پر سردست ان میں سے دو باتوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو بطور خاص بیان کی جا رہی ہیں۔ ایک یہ کہ ’’الشریعہ‘‘ کو علمی و فکری مسائل پر آزادانہ بحث و مباحثہ کا فورم بنایا گیا ہے جو ان ناقد دوستوں کے نزدیک درست نہیں ہے اور انہیں ا س بارے میں اپنی رائے قائم کرنے کا حق ہے، لیکن یہ واقعہ ہے کہ ہم نے اکتوبر1989ء میں شائع ہونے والے پہلے شمارے سے ہی اصولی طورپر یہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اگر ابتدائی قارئین کو یاد ہو تو ہم نے ’’الشریعہ‘‘ میں اس آزادانہ علمی بحث و مباحثے کا آغاز شیخ الازہر الشیخ جاد الحق علی جاد الحق رحمہ اللہ تعالیٰ کے ایک تفصیلی مقالے سے کیا تھا جو انہوں نے راقم الحروف کے سوالات کے جواب میں تحریر فرمایا تھا اور اس میں چند ایسے مسائل پر اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کیا تھا جو فقہی دنیا میں اب بھی مختلف فیہ ہیں۔ ان کا تفصیلی مضمون ہمارے محترم دوست پروفیسر غلام رسول عدیم کے اردو ترجمے کے ساتھ ’’الشریعہ‘‘ کے پہلے شمارے کی زینت بنا تھا اور تب سے ہماری پالیسی یہ ہے کہ کسی بھی علمی، فقہی یا فکری مسئلے پر مختلف نقطہ ہائے نظر کو شائع کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ قارئین کے سامنے مسئلے کے ضروری پہلوؤں کے بارے میں سب کا موقف اور دلائل پیش کر دیئے جائیں، تاکہ انہیں کسی نتیجے پر پہنچنے میں آسانی رہے۔

یہ مکالمہ ہماری علمی روایت کا حصہ ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کی علمی مجلس اسی مکالمے اور آزادانہ بحث و مباحثے پر مشتمل ہوتی تھی اور حضرت امام ابو جعفر طحاویؒ کی معرکہ آراء تصنیف ’’شرح معانی الآثار‘‘ اسی فقہی مکالمے اور مجادلے کی نمائندگی کرتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ہم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی ’’میلہ خداشناسی‘‘ میں شرکت اور ان کے خطاب کا تو فخر سے ذکر کرتے ہیں جو پبلک جلسے میں ہندو، عیسائی اور دیگر مذاہب کے مذہبی پیشواؤں کے ساتھ براہ راست مکالمے کی صورت میں ہوتا تھا اور اس میں عامۃ الناس کے ہجوم میں غیر مسلم مذہبی رہنماؤں کے خطابات غور سے سنے جاتے تھے اور ان کے جوابات دیئے جاتے تھے، لیکن مسلمانوں کے مختلف طبقات کے درمیان فکری اور علمی مکالمے سے ہمیں وحشت ہونے لگتی ہے۔ والد محترمؒ شروع سے ’’الشریعہ‘‘ کے قاری تھے۔ انہیں یہ شکایت رہتی تھی کہ ’’الشریعہ‘‘ کا کمپوزنگ پوائنٹ باریک ہے جو آسانی سے پڑھا نہیں جاتا اور اپنے مخصوص لہجے میں انہوں نے متعدد بار فرمایا کہ:’’زاہد! تمہاری شریعت پڑھی نہیں جاتی، اس کا پوائنٹ بڑا کرو‘‘۔

آخری عمر میں نظر کمزور ہو جانے کے باعث وہ ’’الشریعہ‘‘ کے مضامین دوسروں سے پڑھوا کر سنتے تھے اور ان پر اظہار خیال کرتے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے ایک مضمون کے بارے میں فرمایا کہ اس میں مخالف کے دلائل کا جو جواب دیا گیا ہے، وہ کمزور ہے، اس پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے، لیکن ایک بار بھی انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ اس مکالمے کی ضرورت نہیں ہے یا اسے بند کر دینا چاہیے۔ ہاں، عزیزم محمد عمار خان ناصر کی بعض انفرادی آرا پر انہوں نے ضرور تبصرہ کیا ہے، بلکہ اسے بلا کر سمجھایا ہے۔ بعض امور میں اس نے وضاحت کی ہے اور حضرت شیخؒ کی رائے کے مطابق رجوع بھی کیا ہے، لیکن علمی و فکری مکالمے کی پالیسی پر انہوں نے کبھی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا، جبکہ یہ پالیسی ان کی زندگی میں اور ان کے علم میں سال ہا سال تک جاری رہی اور اسی تسلسل سے اب بھی جاری ہے۔ اس لئے اگر کسی بزرگ یا دوست کو اس طرز عمل پر اشکال ہے تو یہ ان کا حق ہے، لیکن ہر دوست کے ہر اشکال کو دور کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا، چنانچہ اب بھی ہماری پالیسی یہی ہے کہ کسی بھی مسئلے پر اگر ایک طرف کا نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے تو دوسری طرف کا موقف بھی پیش کر دیا جائے تاکہ توازن رہے۔

دوسری بات جس کا شد و مد کے ساتھ تذکرہ کیا جاتا ہے، وہ مشترکہ تحریکات میں میری شرکت اور مختلف مکاتب فکر کے مراکز اور محافل میں میرا آنا جانا ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے یہ میرے معمولات کا حصہ ہے کہ مَیں دوسرے مکاتب فکر کے ایسے جلسوں اور میٹنگوں میں جاتا ہوں جو کسی مشترکہ قومی اور دینی موضوع پر ہوتے ہیں، بلکہ ان کے ساتھ مشترکہ قومی اور دینی تحریکوں میں شریک ہوتا ہوں اور بھرپور کردار ادا کرتا ہوں۔ میرا یہ طرز عمل اور کردار والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا، بلکہ اس میں مجھے ان کی رفاقت اور سرپرستی بھی حاصل تھی۔مَیں نے جامعہ نصرۃ العلوم سے فراغت کے بعد جب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ تعالیٰ کے نائب خطیب کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا تو1974ء کی تحریک ختم نبوت میں مجھے گوجرانوالہ شہر کی کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا سیکرٹری جنرل چنا گیا اور مَیں نے جلسوں اور جلوسوں میں بھرپور شرکت کی۔ حضرت والد محترمؒ نے نہ صرف سرپرستی فرمائی، بلکہ بہت سے جلسوں سے خطاب بھی کیا، جبکہ مجلس عمل میں بریلوی، اہل حدیث، جماعت اسلامی اور شیعہ مکتب فکر کے رہنما بھی شریک تھے، بلکہ بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم دین مولانا ابو داؤد محمد صادق مجلس عمل کے صدر تھے۔

کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا مَیں اس کے بعد سے مسلسل حصہ چلا آرہا ہوں اور کافی عرصے تک مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی ذمہ داریاں بھی میرے سپرد رہی ہیں۔ ہر مرحلے میں حضرت والد محترمؒ کی بھرپور رفاقت اور سرپرستی سے بہرہ ور رہا ہوں ا ور انہوں نے تحریک ختم نبوت کے ہر مرحلے میں عملی کردار ادا کیا ہے۔1977ء کی تحریک نظام مصطفیؐ کی قیادت میں ہر سطح پر نمایاں بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث، جماعت اور شیعہ رہنما شریک تھے۔ مَیں پاکستان قومی اتحاد صوبہ پنجاب کا سیکرٹری جنرل تھا اور صوبے بھر میں مسلسل متحرک تھا۔ حضرت والد محترمؒ بھی جمعیت علمائے اسلام ضلع گوجرانوالہ کے امیر کی حیثیت سے پاکستان قومی اتحاد کا حصہ تھے۔ اسی تحریک میں انہوں نے گرفتاری پیش کی تھی اور ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ باقی بہت سی ایسی تحریکوں کو نظر انداز کرتے ہوئے حضرت والد محترمؒ کے ایام علالت کے ایک مشترکہ فورم کا ذکر کرنا چاہوں گا جو ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ اس کی قیادت میں بھی اہل تشیع سمیت تمام مکاتب فکر کے اکابرین شامل تھے۔

گکھڑ کے قومی اسمبلی کے حلقے سے جماعت اسلامی کے ضلعی امیر جناب بلال قدرت بٹ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار تھے۔ حضرت والد محترمؒ نے علالت اور صاحب فراش ہونے کے باوجود نہ صرف متحدہ مجلس عمل کی کھلم کھلا حمایت کی بلکہ جناب بلال قدرت بٹ کی عملی سپورٹ بھی کی تھی۔مَیں آج بھی اسی طرز عمل پر قائم ہوں اور زندگی بھر اسی پر قائم رہنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ حوصلہ اور استقامت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔۔۔ میرے اس مسلسل طرز عمل اور پالیسی پر حضرت والد محترمؒ کو کوئی اشکال نہیں تھا۔ وہ مجھے ہر مرحلے میں سرپرستی ،بلکہ رفاقت سے نوازتے رہے، اور اس سب کچھ کے باوجود انہوں نے بے حد شفقت اور اعتماد کے ساتھ اپنی علمی، تدریسی اور روحانی ذمہ داریاں وفات سے پہلے میرے سپرد فرمائیں۔۔۔ فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔۔۔

اس کے باوجود اگر کچھ حضرات اسے موضوع بحث بنا کر ملک میں منفی مہم چلا رہے ہیں تو وہ یہ مہم صرف میرے خلاف نہیں چلا رہے ،بلکہ حضرت والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ کے خلاف بھی بے اعتمادی کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ یہ مہم دیکھ کر مجھے وہ تاریخی واقعہ یاد آرہا ہے جس کا تذکرہ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ نے ’’امام ابو حنیفہؒ کی سیاسی زندگی‘‘ میں تفصیل کے ساتھ کیا ہے کہ جب مشہور خارجی کمانڈر ضحاک نے کوفہ پر قبضہ کر لیا تو اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت کوفہ کی جامع مسجد میں تلواریں تان کر بیٹھ گیا اور اعلان کیا کہ کوفہ کے سب لوگ مرتد ہیں، اس لئے میرے سامنے آکر توبہ کریں اور جو توبہ نہیں کرے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اس سے قبل انہی خارجیوں کا ایک گروہ بصرہ پر قابض ہو کر ہزاروں افراد کو شہید کر چکا تھا، اس لئے اس کے اس اعلان سے کوفہ میں سراسمیگی پھیل گئی۔ اس موقع پر حضرت امام ابوحنیفہؒ کا حوصلہ و تدبر کام آیا۔ وہ ضحاک کے سامنے پیش ہوئے اور پوچھا کہ وہ کس بنیاد پر کوفہ کی آبادی کے قتل کا اعلان کر رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ وہ مرتد ہوگئے ہیں، اس لئے اگر توبہ نہیں کریں گے تو مَیں انہیں قتل کر دوں گا۔

حضرت امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ مرتد اسے کہتے ہیں جو اپنا دین ترک کر کے دوسرا دین اختیار کر لے، جبکہ کوفہ کی آبادی تو اسی دین پر ہے جس پر وہ پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنا دین ترک نہیں کیا، انہیں مرتد کیسے کہا جا سکتا ہے؟ ضحاک خارجی نے امام صاحبؒ سے کہا کہ وہ اپنی بات پھر دہرائیں۔ امام صاحبؒ نے دوبارہ اپنے موقف کی وضاحت کی تو ضحاک نے یہ کہہ کر اپنی تلوار کا رخ زمین کی طرف کر دیا کہ أخطأنا، ہم سے غلطی ہوگئی ہے اور باقی لشکر کو بھی تلواریں جھکانے کا حکم دے دیا جس پر اہل کوفہ کی جان بخشی ہوگئی۔ ایک بزرگ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کوفہ کی ساری آبادی ابوحنیفہؒ کے آزاد کردہ غلام کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے کہ ان کی وجہ سے وہ قتل ہونے سے بچ گئے ہیں۔اس وقت کے ’’ضحاک‘‘ کو تو یہ سادہ سی بات سمجھ آگئی تھی اور اس نے أخطأنا کہہ کر تلواریں جھکا لی تھیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہمارے آج کے ’’مہربان‘‘ بھی اس بات کو سمجھنے کے لئے تیار ہوجائیں گے؟(ختم شد)

مزید :

کالم -