مسئلہ کشمیر کا حل استصواب رائے اور سہ فریقی مذاکرات میں پنہاں ہے ‘ آغا حسن بڈ گامی

مسئلہ کشمیر کا حل استصواب رائے اور سہ فریقی مذاکرات میں پنہاں ہے ‘ آغا حسن بڈ ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سری نگر (کے پی آئی)انجمن شرعی شیعان کے سربراہ آغا حسن نے استصواب رائے یا سہ فریقی مذاکرات کو تنازعہ کشمیر کا راہ حل قرار دیا اور ہندو پاک قیادت پر زور دیا کہ وہ جنوب ایشیائی خطے کے وسیع ترین مفاد میں مسلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدام کریں تاکہ دو ممالک کی 70 سالہ مخاصمانہ تاریخ کا اختتام ہوکر امن ودوستی کا ایک نیا دور شروع ہوسکے۔نجمن شرعی شیعان کی مرکزی کمیٹی اور مجلس عاملہ کے اراکین کا مشترکہ اجلاس تنظیم کے سربراہ آغا سید حسن کی صدارت میں صدر دفتر پر منعقد ہوا جس میں تنظیمی امورات اور تازہ ترین تحریکی صورتحال کو زیر بحث لایا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا ہے کہ شیعیان کشمیر روز اول سے ہی کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کے قراردادوں کی عمل آوری کے مطالبے کو دہراتی چلی آرہی ہے۔
اور گزشتہ 22 سال سے رواں جدو جہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے دیگر حریت پسند تنظیموں کے شانہ بشانہ ہر سطح پر اپنا موثر کردار ادا کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تنظیم کی تحریک سے وابستگی ایک پتھر کی لکیر ہے اور تحریک کے بنیادی اصولوں سے سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آغاصاحب نے تنظیم کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنازعہ کشمیر کے قابل قبول حل تک تنظیم اپنی تحریکی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری قوم ایسا کوئی بھی حل قبول نہیں کرے گی جو کشمیری قوم کی لامثال قربانیوں اور تنازعہ کشمیر کے تاریخی اور زمینی حقائق سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ انجمن شرعی شیعیان ایک دیرینہ تبلیغی تنظیم اور شہدائے کشمیر کے مشن کی ایک موثر آواز ہے جوکسی بھی طرح کے مشکل حالات میں خاموش نہیں ہوسکتی ۔ اجلاس میں تنظیمی امورات اور تازہ ترین تحریکی صورتحال کو زیر بحث لاتے ہوئے حریت کانفرنس ع سے انجمن شرعی شیعیان کی علحیدگی کے فیصلے کو صحیح سمت کی جانب قد م سے تعبیر کیا گیا۔فورم سے انجمن شرعی کے سربراہ آغا سید حسن کی رکنیت کی منسوخی کے حوالے سے حریت ( ع ) کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیکر واضح کیا گیا کہ آغا حسن نے غیر اعلانیہ طورپر گزشتہ چار ماہ سے فورم سے دوری اختیار کی تھی اور 10 جون کو تنظیم نے باضابطہ طورپر فورم سے علحیدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کرکے اسی روزحریت ( ع ) کواپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔11 جون 2015 کو یہ خبر مقامی اخبارات میں شائع ہوئی ۔ چار روز بعد حریت کی طرف سے آغا سید حسن کی رکنیت کی منسوخی کا اعلان کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -