مقبوضہ کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں ایک اور شہری قتل ،4روز میں4شہری قتل

مقبوضہ کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں ایک اور شہری قتل ،4روز میں4شہری قتل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سری نگر (کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں عام شہریوں کے قتل کا سلسلہ جاری ہے ۔ پیر کے روز بھی 38سالہ اعجاز احمد ریشی نامی شہری کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔گزشتہ چار دنوں مین 4 شہریوں کو قتل کر دیا گیا ہے ۔ پیر کے روز سوپور میں 38سالہ اعجاز احمد ریشی ولد عبدالرحیم کو نامعلوم بندوق برداروں نے گولی مار دی ، واقعے کے بعد نامعلوم بندوق بردار فرار ہوگئے جبکہ اعجاز احمد کو ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا دیا ۔ اتوار کو 37سالہ معراج الدین ڈار ولد محمد احسن کو قتل کر دیا گیا تھا۔۔ اس سے قبل خور شید احمد بٹ اور شیخ الطاف الرحمان کو قتل کیا جا چکا ہے۔ قصبے میں25مئی سے نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں ہلاکتوں کی تعداد 5ہوگئی ہے۔
ان واقعات کے خلاف سید علی گیلانی کی اپیل پر اتوار کو قصبے میں مکمل احتجاجی ہڑتال رہی جبکہ پیر کے روز بھی احتجاجی جلسے جلوس اور مظاہرے ہوے۔ بٹہ پورہ ،مسلم پیر،کرانکشون کالونی ،عش پیر اور اسکے گرد ونواح میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کیا۔۔احتجاج میں شدت آنے کے دوران مظاہرین اورپولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں ۔اس ہلاکت کے بعد قصبے میں خوف و دہشت کا ماحول ہے ۔ اس دوران پولیس اور فورسز نے قصبے میں تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کردیا ہے ۔ادھرڈی آئی جی شمالی کشمیر غریب داس نے کہا ہے کہ ان پراسرار ہلاکتوں کے حوالے سے کچھ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اور تحقیقاتی عمل جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ہلاکت خیز واقعات کی تحقیقات ابتدائی مراحل میں ہے، اس لئے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔واضح رہے کہ سوپورقصبے میں موبائل سروس بند کرانے کے حوالے سے گذشتہ ماہ لشکر اسلامی نامی ایک غیر معروف عسکری تنظیم نے موبائل سروس بند کرنے کیلئے دھمکی آمیز پوسٹر چسپاں کئے تھے۔موبائل کاروبار سے منسلک افراد کو اپنا کاروبار بند کرنے کیلئے بھی کہا گیا تھا۔ دھمکی آمیز پوسٹروں کے بعدقصبے میں واقع بی ایس این ایل کے ایک نجی شوروم پر25مئی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس میں ایک شخص لقمہ اجل اور دو دیگر شدید زخمی ہوئے تھے۔اس واقعہ کے دو دن بعد قصبے کے ڈورو علاقے میں موبائل ٹار کیلئے زمین کرایہ پر دینے والے ایک شخص کو گولی مار کر ابدی نیند دسلا دیا گیاجبکہ پٹن میں بھی اس طرح کا ایک واقعہ رونما ہوا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہو ا۔9جون کو نامعلوم بندوق براداروں نے پیشے سے فارماسسٹ اور تحریک حریت رکن الطاف احمد شیخ کو گولیوں کا نشانہ بناکر جاں بحق کیا۔ اس واقعہ کے تین دن بعد 12جون کو سوپور کے مضافاتی علاقہ بمئی میں مقامی ٹریڈرز فیڈریشن کے جوان سال صدر کو نا معلوم اسلحہ برداروں نے گولیاں مار کر جاں بحق کردیا۔ادھر حریت کانفرنس گ کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سوپور میں قتل کے واقعات پر اپنے زبردست صدمے اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی سرکاری بندوق برداروں کے ہاتھوں مسلسل ہلاکتوں کا معاملہ انتہائی سنگین رخ اختیار کرگیا ہے اور یہ ایک ریاست گیر احتجاج کا متقاضی بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریت اس پورے معاملے پر مشاورت کے بعد عوام کو آگاہ کرے گی کہ اس نازک صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں کون سی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ گیلانی نے کہا کہ شہریوں کو دن کی روشنی میں بھرے بازاروں میں قتل کیا جارہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمد سعید میں ذرہ برابر ضمیر اور غیرت نام کی چیز موجود ہے تو شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہونے کے بعد انہیں اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو لوگ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ کشمیریوں کو قتل کرنے کے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے منصوبے کو مفتی محمد سعید کی پوری پوری حمایت حاصل ہے اور وہ اس منصوبے کو عملانے میں اعانت کار کا رول نبھارہے ہیں۔ حریت چیئرمین نے قتل کئے جارہے شہریوں کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیااور کہا کہ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -