پی ٹی آئی کا گراف اور پولی گراف

پی ٹی آئی کا گراف اور پولی گراف
پی ٹی آئی کا گراف اور پولی گراف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

یہ منڈی بہاؤالدین میں کیا ہو گیا اور یہ گلگت بلتستان میں بھی کیا ہوا؟ وہی ہوا جو کچھ ہفتے پہلے ننکانہ صاحب اور ملتان میں ہوا تھا۔ وہاں کیا ہوا تھا؟ وہاں وہی ہوا تھا، جو مُلک بھر میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں ہوا تھا۔ ہر جگہ پی ٹی آئی کی شکستوں کا ایک سلسلہ ہے، جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ عمران خان کی گاڑی کو جو ریورس گیئر لگا ہوا ہے اسے بریکیں کیوں نہیں لگ رہیں، کیا ان کی پارٹی کی بریکیں فیل ہو گئی ہیں؟ پارٹیاں عام طور پر حکومت میں آنے کے بعد اپنی مقبولیت کھوتی ہیں، کیونکہ آج کل کے حالات میں عوام کی توقعات کو پورا کرنا مریخ پر راکٹ بھیجنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ ان حالات میں تو عام طور پر حکومت کا گراف نیچے جاتا ہے،اپوزیشن کی مقبولیت بڑھتی جاتی ہے اور اس کا گراف اوپر کی طرف جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے شیر جوان وہ انمول ہیرے ہیں، جو اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی تیزی سے گہنا رہے ہیں۔ ہے نہ بالکل انہونی بات۔۔۔ کوئی تو وجہ ہے کہ عوام کو اب پی ٹی آئی سے الرجی ہوتی جا رہی ہے۔


گلگت بلتستان کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) نے میدان مار لیا ہے اور اسمبلی میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اب وہاں مسلم لیگ(ن) کی حکومت بنے گی۔ چلیں گلگت بلتستان کو فی الحال رہنے دیں کہ وہاں کون سی پی ٹی آئی کی حکومت تھی،لیکن یہ منڈی بہاؤالدین کی سیٹ این اے108 پر تو پی ٹی آئی والے ایک صاحب چودھری اعجاز ہی براجمان تھے، الیکشن ٹریبونل نے پتہ نہیں اچھا کیا کہ بُرا، ان کی جعلی ڈگری کی وجہ سے انہیں پارلیمنٹ سے اُٹھا کر گھر بھیج دیا۔ویسے مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ جعل ساز کو گھر جانا چاہئے یا اسے جیل یاترا پر بھیجنا چاہئے۔ پتہ نہیں مُلک کا قانون جعلی ڈگری ہولڈرز کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ اگر کچھ کہتا ہے تو ان جعل سازوں کو سزا کیوں نہیں ہوتی اور اگر کچھ نہیں کہتا تو کیوں نہیں کہتا؟ چودھری اعجاز تو گزشتہ الیکشن آزاد امیدوار کے طور پر جیتے تھے اور قومی اسمبلی کے حلقے میں وہی آزاد امیدوار جیتتاہے، جس کے اپنے کم از کم40،50یا60ہزار سے زیادہ ووٹ ہوتے ہیں۔ چودھری اعجاز کے یہ ووٹ کہاں گئے؟ آزاد الیکشن جیتنے کے بعد وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ چودھری اعجاز کے پی ٹی آئی میں جانے سے ان کے ووٹر ان سے ناراض ہو گئے تھے کہ آٹھ جون کے الیکشن میں منڈی بہاؤالدین کے ووٹروں نے اپنا غصہ پی ٹی آئی کے امیدوار طارق تارڑ پر نکال دیا ، جو 37ہزار سے بھی زائد ووٹوں کے بھاری مارجن سے شکست کھا گئے ہیں۔


ویسے منڈی بہاؤالدین میں مسلم لیگ (ن) کی فتح کا زیادہ کریڈٹ حمزہ شہباز شریف کو جاتا ہے، جنہوں نے وہاں بیٹھ کر زبردست سیاسی نیٹ ورکنگ کی، کئی ناراض گروپوں کو منا کر واپس لائے اور مسلم لیگ (ن) کو پورے ضلع میں متحد کر دیا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی اب ضلع منڈی بہاؤالدین میں انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ پیپلزپارٹی کا اب ہر جگہ سے بوریا بستر گول ہو رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی اب اکثر جگہوں پر تنظیمی مشکلات کا شکار ہے، اس میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کا گراف جتنی تیزی سے نیچے جا رہا ہے،حیران کن بھی ہے اور سیاسیات کے طالب علموں کے لئے ایک دلچسپ تھیسس بھی۔پتہ نہیں کیوں آج میرا گراف سے زیادہ پولی گراف پر بات کرنے کا دِل کر رہا ہے۔ گراف کا تو چلیں مان لیا کہ سب کو پتہ ہے، یہ پولی گراف کیا چیز ہوتی ہے؟ جناب جھوٹ پکڑنے والی مشین کو پولی گراف کہتے ہیں اور تفتیشی ادارے اپنی تفتیش کے دوران اس مشین کی مدد سے سچ اور جھوٹ کا پتہ چلاتے ہیں۔۔۔۔ جب زیرِ تفتیش شخص کو اس مشین کے سامنے بٹھا کر اس کا بیان لیا جاتا ہے، تو پولی گراف اس کا جھوٹ فوراً پکڑ لیتی ہے۔ لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کا گراف بھی اتنا تیزی سے نیچے اس لئے جا رہا ہے کہ پے در پے ہونے والے الیکشن اس کے لئے پولی گراف کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ جھوٹ ۔۔۔ لیکن کون سا جھوٹ؟


جناب وہ تمام جھوٹ جو پی ٹی آئی کے قائدین 126دن تک اسلام آباد کے ڈی چوک میں کنٹینر پر کھڑے ہو کر بولتے رہے ہیں۔ مُلک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے، لیکن جن سیاست دانوں کی وجہ سے پاکستان کے مہینوں پر مہینے ضائع ہو گئے تھے اب عوام ان معاف کرنے کے موڈ میں بالکل نہیں۔ یہ پاکستان کے ساتھ کتنا بڑا ظلم ہے کہ گزشتہ سال کا دوسرا نصف بے مقصد احتجاجی سیاست کی نذر ہو گیا۔ مُلک کے اس نقصانِ عظیم کا بدلہ اب عوام اس طرح لے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کو ہر الیکشن میں آئینہ دکھا دیتے ہیں۔ دھرنے سے پہلے پی ٹی آئی کے حالات اور تھے،ناکام دھرنے کے بعد سے اور ہیں۔۔۔ انتہائی مایوس کن اور شرمندہ شرمندہ۔پی ٹی آئی کے زیادہ تر کارکنان اور سپورٹر نوجوان اور جوشیلے ہیں۔ اگر کوئی بات ان کی مرضی کے خلاف ہو تو یہ مخالفین کے خلاف زبان درازی پر اُتر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کا طوطی بولتا ہے۔ پروگراموں میں ہلڑ بازی اور کھابوں میں میزوں کی میزیں الٹ دینے میں یہ پیپلزپارٹی کے روایتی جیالوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ جلسوں کے اختتام پر یہ انتظامیہ کی بچھائی ہوئی کرسیاں اُٹھا کر گھر لے جاتے ہیں(ذرا قصور کے جلسے کا تصور کریں یا کسی دکیل کی وڈیو کلپ دیکھیں)،جہاں تک ان کی پارٹی، یعنی پی ٹی آئی کا تعلق ہے تو یہ انتظامی طور پر شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔۔۔۔ پارٹی چیئرمین نے پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں توڑ دی ہیں اور اب ایڈہاک نامزدگیوں سے کام چلایا جا رہا ہے۔ بڑے طمطراق سے کرائے گئے پارٹی الیکشن قصہ پارینہ بن چکے ہیں اور اب صرف بڑی بڑی تجوریوں والے چند سیٹھ ہی پارٹی چیئرمین کے قریب رہ گئے ہیں۔


عام طور پر تجزیہ نگار کسی بھی جماعت کے بارے میں اس طرح بتاتے ہیں کہ اس کا گراف اوپر جا رہا ہے یا نیچے۔۔۔ پچھلے تین ساڑھے تین سال سے بتایا جا رہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کا گراف اوپر جا رہا ہے، لیکن پہلے جب عام انتخابات ہوئے تو یہ پارٹی ٹھس ہو گئی، لیکن اس کا اصل زوال دھرنے کے بعد شروع ہوا اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں ان علاقوں میں بھی جھاڑو پھر گیا ہے، جہاں انہوں نے عام انتخابات میں سیٹیں جیتی تھیں۔ ملتان کے ضمنی الیکشن میں شاہ محمود قریشی کے حلقے کی نیچے والی صوبائی سیٹ بھی ہار جاتے ہیں اور منڈی بہاؤالدین کی اپنی ہی چھوڑی ہوئی سیٹ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ پچھلے دو سال سے پی ٹی آئی گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کا واویلا کر رہی ہے۔ اس نے ان دو برسوں کا بڑا حصہ مُلک میں سیاسی انتشار پھیلانے میں ہی صرف کیا ہے۔ اب اپنی ہی سیٹیں ہارنے کا کیا مطلب لیا جائے؟ عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت کے اپنے حق میں بہتر ہو گا کہ وہ منفی سیاست چھوڑ کر مثبت سیاست کا انداز اختیار کریں اور عوام سے قیمتی وقت ضائع کرنے پر معافی کے طلب گار بھی ہوں، ورنہ عوام تو بہترین منصف ہوتے ہیں اور پولی گراف مشین کی طرف جھوٹ پکڑنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے۔ پہلے کنٹونمنٹ بورڈ، ننکانہ صاحب اور ملتان میں عوام نے پی ٹی آئی کے ساتھ جو سلوک کیا تھا، وہی سلوک اب منڈی بہاؤالدین اور گلگت بلتستان میں بھی کر دیا ہے۔

مزید :

کالم -