بو سنیا، برما اور 5000 لباس

بو سنیا، برما اور 5000 لباس
بو سنیا، برما اور 5000 لباس

  

ہزاروں افراد اقوام متحدہ کے احاطے میں موجود تھے۔جب ملادک کی قیادت میں بوسنوی سرب فوج نے 11 جولائی 1995 کو علاقہ پر حملہ کر دیا۔ دو دن بعد نیدر لینڈز کی امن فوج نے سرب فوجی دستوں کے دباؤ میں آکر ہزاروں مسلمان خاندانوں کو اقوام متحدہ کے احاطے سے باہر دھکیل دیا۔ سرب افواج نے مسلمان مردوں اور لڑکوں کو چن چن کر قتل کیا۔ آٹھ ہزار کے لگ بھگ لاشوں کو جلدی میں کھو دی گئی اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا۔ انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل فار یوگوسلاویہ (ہاگ) نے قتل عام کو نسل کشی سے تعبیر کیا۔ ملادک کے خلاف ٹرائل کا آغاز کیا گیا۔ اس قتل عام میں حسن کا بھائی اور باپ بھی مارے گئے۔ ریزو نامی الیکٹریشن بھی مارا گیا۔ حسن اور ریزو دونوں ڈچ امن دستوں کے ہاں مقامی ملازم تھے۔ جبکہ حسن کا بھائی اور باپ ملازم نہ تھے۔ حسن اور ریزو کے رشتہ داروں نے ڈچ امن فوج کے خلاف نیدر لینڈز کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ڈچ امن دستوں کو ان تینوں کی حفاظت کرنی چاہئے تھی۔

ڈچ سپریم کورٹ نے کہا کہ ڈچ دستے اس قتل میں شریک ہیں۔ اگر انہوں نے اقوام متحدہ کے احاطہ میں پناہ گزین افراد کے قیام کو یقنی بنایا ہوتا تو یہ لوگ زندہ رہتے۔2014 میں عدالت نے کہا ہے کہ نیدر لینڈز کی حکومت 300 متاثرہ افراد کے نقصان کا ازالہ کرے۔ اس فیصلے نے ان آٹھ ہزار افراد کے لئے بھی دروازہ کھول دیا جن کے عزیز اس قتل عام میں مارے گئے۔حسن نے فیصلے کے بعد کہا " میں اپنے خاندان کو بارے میں سوچ رہا ہوں ، وہ اٹھارہ سال قبل موت کے گھاٹ اتر چکے۔ یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی ، مگر شاید کچھ انصاف ہو سکے، اس فیصلے کو برسوں پہلے صادر ہو جانا چاہئے تھا۔"

اب میانمار (برما) کا منظر دیکھتے ہیں۔ ٹائم میگزین نے اپنی ایک اشاعت میں سرورق پر ویراتھو کی تصویر چھاپی ہے اور ساتھ"بدھ دہشت کا چہرہ" کی سرخی جمائی ہے۔برما کے دوسرے بڑے شہر منڈالے کی ایک بدھ عبادت گاہ میں سینکڑوں افراد ہاتھ جوڑے بیٹھے ہیں اور ویراتھو کی طرف متوجہ ہیں۔ ویراتھو کہتا ہے:"اب سکون سے بیٹھنے کا وقت نہیں ، بلکہ اب اٹھنے کا وقت ہے۔" ویراتھو ایک اور بیان میں کہتا ہے"اگر ہم کمزور ہیں تو ہماری زمین مسلمان ہو جائے گی۔ آپ محبت اور الفت سے بھرپور ہو سکتے ہیں مگر آپ ایک پاگل کتے کے ساتھ نہیں سو سکتے۔" ویراتھو مسلمانوں کا حوالہ دے کر کہتا ہے۔ ویراتھو کا کہنا ہے کہ فسادات میں اس کا کوئی حصہ نہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی تبلیغ تشدد کو ضرور ابھار رہی ہے۔

روہنگیا مسلمانوں کو مظلوم ترین اقلیت قرار دیا جا رہا ہے۔ 2012 سے لیکر اب تک ہزاوروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ بے شمار قتل ہو چکے۔ ان کو میانمار سے نکال دینے کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ان کے لئے زمین پر کوئی جگہ نہیں ہے۔بانس ،لکڑی اور گھاس پھونس سے تعمیر کردہ گھر جلائے جا چکے ہیں۔ دھوئیں کے بادل بلند ہوتے رہے۔گھر کے برتنوں سے انڈیلا گیا پانی بھلا آگ کو کیسے بجھا سکتا تھا!"وہ ہمیں مار رہے ہیں۔ وہ ہمیں خلیج بنگال میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔" ایک آواز اُبھری۔ یہ دس ہزار افراد کی ایک آبادی تھی۔ جہاں روہنگیا مسلمان آباد تھے ، برباد کر دی گئی۔ صرف چند گھر نہیں بلکہ پوری کی پوری بستی کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔ اس دھرتی پر آشیانوں کی فصل بھی کٹتی ہے۔"اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ایسا ہوگا تو میں اسے کبھی نہ جانے دیتی۔" بیوہ نے درد بھرے لہجے میں کہا۔ اس کے شوہر کو قتل کر دیا گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک کر رخساروں پر تڑپ رہے تھے۔

روہنگیا کو سفید شناختی کارڈ جاری کیا جاتا ہے، اور شہریت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جبکہ دیگربرمی باشندوں کو سرخ شناختی کار ڈ جاری کیا جاتاہے اور شہری کا درجہ جاتا ہے۔ روہنگیا کو 2014 کی مردم شماری میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔"ہم اپنی مرضی سے شادی نہیں کر سکتے۔ ہمیں شادی کے لئے درخواست دینی پڑتی ہے۔ اگردرخواست منظور ہوجائے تو پھر شادی کرتے ہیں۔"اس نے لرزتے ہونٹوں سے انکشاف کیا۔ برما میں ایک لاکھ چالیس ہزارں روہنگیا مسلمان آئی ڈی پیز کی صورت میں بے گھر ہیں۔ یہ بے کس لوگ خیموں میں گزر بسر کر رہے ہیں۔کھلے میدان میں سینکڑوں کی تعداد میں خیمے ہیں۔ معیار زندگی انتہائی پست ہے۔ نہ چھت مناسب ہے اور نہ کھانے کا انتظام۔ پانی صاف نہیں۔"ہمیں دن میں صرف ایک بار کھانا ملتا ہے۔نہ ناشتہ نہ دوپہر کا کھانا"۔ ایک خاتون نے دکھ کا اظہار کیا۔لباس سے عاری بچے ملیریا، یرقان اور پیچش سے نبرد آزما ہیں۔ بیمار ہیں، غذائی قلت کا شکار ہیں۔ بہت سے بچوں کے والدین فسادات میں مارے جا چکے۔ "پہلے سیکورٹی فورسز نے روہنگیا مسلمانوں پر گولی چلائی۔ پھر فسادی گروہ چھریاں لیکر ہم پر ٹوٹ پڑے۔ بیسیوں افراد قتل کر دیئے۔ پھر فوجی دستے ہمیں ٹرک میں ڈال کر یہاں خیموں میں لے آئے۔" ایک خیمہ نشین نے درد دل سنایا۔

پرشٹینا (کوسو) کے فٹ بال سٹیڈیم میں حالیہ ماہ میں 5000 لباس تاروں پر لٹک رہے ہیں۔ 16 سال قبل 12 جون 1999 کو نیٹو افواج کوسو میں جنگ بندی کے لئے داخل ہوئی تھیں۔ سرب افواج نے اس جنگ میں بیس ہزار البانی خواتین کی عصمت دری کی تھی۔ اس ہیبت ناک زیادتی کے بارے میں آگاہی کے لئے یہ لباس فٹ بال سٹیڈیم میں لٹکائے گئے ہیں۔شاید عالمی امن کے ادارے اور ٹھیکیدار یہ چاہتے ہیں کہ برما کے "حسن" بھی اپنے خاندان گنوا لیں اور اٹھارہ سال بعد جزوی انصاف کے لئے کمر ٹیڑھی کر لیں۔ "برما کا ملادک" اجتماعی قبروں میں مظلوم کو دفن کر دے، پھر بیس برس گزر جائیں تو قبروں کو کھود کر گواہ اور گواہی کو زندہ کیا جائے۔ شاید ہم یہ چاہتے ہیں کہ برما کے فٹ بال سٹیڈیم میں بھی 5000 لباس ، بے لباسی اور بے عزتی کی داستان بیان کریں۔

مزید :

کالم -