آپریشن ضرب عضب کا ایک سال

آپریشن ضرب عضب کا ایک سال
آپریشن ضرب عضب کا ایک سال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

آپریشن ضرب عضب کو کامل ایک سال ہو چکا ہے۔ اس آپریشن میں من جملہ بیس سے تیس ہزار سپاہ حصہ لے رہی ہے۔اس آپریشن کے کمانڈر میجر جنرل ظفر خان ہیں، جن کے پیچھے صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف، راشد محمود چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف، جنرل راحیل شریف چیف آف آرمی سٹاف کے علاوہ بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کی عملی طاقت اور آشیرباد شامل ہے۔۔۔آپریشن کو شروع کرنے میں ایک جھجک یا تامل کی کیفیت ضرور تھی،کیونکہ اس آپریشن کا نقطہء ماسکہ طالبان تھے۔ اس آپریشن سے قبل طالبان سے مذاکرات کے دنوں میں ایک معروف دینی سیاسی جماعت کے ایک دھڑے کے سربراہ نے طالبان کو اپنے بچی قرار دیا تھا۔ اس دوستی کو دشمنی میں تبدیل کرنے میں جنرل پرویز مشرف کی ڈکٹیٹرشپ اور دیگر کئی عوامل شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے آخر دم تک طالبان سے مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل کے ذریعے امن حاصل کرنے کی کوششیں کیں، لیکن یہ ناکام رہیں۔ ان کوششوں کو ناکام ہی ہونا تھا، کیونکہ اب پاکستانی طالبان کے نام سے جو عناصر ریاست پاکستان کے خلاف نام نہاد ’’جہاد‘‘ میں مصروف تھے۔یہ وہ طالبان نہیں تھے، جن سے اس تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ اگرچہ ہر زمانے میں طالبان کی فکر انتہا پسندی کی طرف مائل تھی۔ وہ اسلام کو سزاؤں کا دین سمجھتے تھے اور اپنے نظریات کو بندوق کی گولی سے نافذ کرنے پر تلے ہوئے تھے، لیکن بہرحال ان کا مطالبہ نفاذ اسلام تھا۔


یہ الگ بات ہے کہ ان کے نفاذ اسلام کا ناک نقشہ اسلام سے کوئی مشابہت رکھتا تھا یا نہیں۔ ان کی شدت پسندی کی طاقت کو دشمنانِ اسلام نے اسلام اور اسلامی ریاست پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ ایک طرف اسلام کو ان کی شدت پسندی اور دہشت گردی سے منسوب کر دیا گیا تو دوسری طرف ان کی صفوں میں داخل ہو کر انہیں اسلامی ریاست پاکستان کے خلاف صف آرا کر دیا گیا۔ اس کے بعد پاکستان میں پہلے سے موجود فرقہ پرست انتہا پسندوں نے بھی طالبان کی آڑ لی۔ حتیٰ کہ مفرور جرائم پیشہ عناصر کو بھی اس سے بہتر کوئی پناہ گاہ نظر نہیں آئی۔ طالبان کے وجود سے بہت پہلے بھی پاکستان بھر میں جرائم میں ملوث لوگ اکثر بھاگ کر ’’علاقہ غیر‘‘ چلے جایا کرتے تھے اور کسی قبائلی سردار کی پناہ حاصل کر لیتے تھے۔ان عناصر کو طالبان کی صورت میں ایک اور طرح کے پناہ دینے والے مل گئے۔ اب ان سب کا نام تو طالبان تھا، لیکن ان کے اندر مختلف الخیال عناصر تھے اور ان کے مختلف گروہ تھے۔ طالبان کی مرکزی تنظیم کی ان پر گرفت نہیں رہی اور یوں انہیں ریاست کے دشمنوں کے ہتھے چڑھنے میں دیر نہ لگی۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔
یہ عناصر جن پاکستانی علمائے کرام کو اپنا پیر و مرشد اور شیخ اور استاد سمجھتے تھے۔ وہ تو پاکستان کی ریاست کو اسلامی ریاست تسلیم کرتے ہیں اور پاکستان کے اسلامی آئین کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد کررہے ہیں اور کرتے رہے ہیں، لیکن طالبان نہ پاکستان کو اسلامی ریاست ماننے کو تیار تھے نہ پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنے پر تیار تھے اور ان کی دانستگی یا نادانستگی میں ان کی ڈوریں ہلانے والے بھی یہی چاہتے تھے کہ مذاکرات کبھی کامیاب نہ ہوں۔ بہرحال وہی تلخ فیصلہ کرنا پڑا جو کچھ لوگ روز اول سے بہ اصرار کرنے پر زور دے رہے تھے۔ طالبان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لئے زور دینے والوں کے بھی دو طبقے تھے۔ ایک تو وہ جو ان کی تشدد کی کارروائیوں کا خاتمہ چاہتے تھے، ان کے لئے مثال دی جا سکتی ہے کہ کسی عضو میں سخت تکلیف میں انسان اس عضو کو کاٹنے کو بھی علاج ہی قرار دیتا ہے اور یہ علاج ہوتا بھی ہے۔ لیکن اس گروہ میں کچھ وہ لوگ بھی تھے جن کے تار طالبان اور طالبان کی چھتری کے نیچے عناصر کو پاکستان سے متصادم کرنے والوں سے ملتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ طالبان اور ریاست پاکستان کا تصادم ریات پاکستان کو کمزور کر دے گا۔ بالآخر ریاست پاکستان اس آپریشن میں ناکام ہوگی (خدانخواستہ) اور طالبان کو ریاست پاکستان کے خلاف صف آراء کرنے والوں کے عزائم کی تکمیل ہو جائے گی۔
میں یہ نہیں سوچ سکتا کہ یہ حقائق پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سے پوشیدہ تھے۔ اس لئے اس آپریشن کے آغاز میں بہت کچھ غوروفکر کیا گیا، جس طرح بظاہر نظر آتا ہے کہ 15جون2014ء میں اس کا اعلانیہ آغاز کر دیا گیا۔ یہ ایک حقیقت ہے ایک اور حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ مہینوں کے غور و فکر کا نتیجہ تھا اور اس کے لئے سب سے اہم نقطہ یہ تھا کہ اس میں ناکامی کی ایک فیصد بھی گنجائش نہیں تھی۔ آپریشن کے آغاز کو 8جون 2014ء کو جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ کراچی پر حملے کا نتیجہ بھی قرار دیا جاتا ہے، لیکن یہ بھی پوری حقیقت نہیں ہے۔ حقیقت میں جناح انٹرنیشنل ائر پورٹ کا سانحہ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ یہ بات بھی غلط ہے کہ یہ آپریشن طالبان کے خلاف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس کینسر کی جڑیں بھی کئی تھیں اور اس کی شاخیں بھی بہت سی تھیں۔ اس میں کئی ملکی اور غیر ملکی تنظیمیں یا ان کے چند عناصر شامل ہیں۔ کچھ کی شمولیت عقائد کی یکسانیت کی بناء پر ہے اور کچھ محض پاکستان دشمنی میں پاکستان دشمنوں کی شہ پر اس میں شامل ہیں۔ غضب یہ ہے کہ اس پاکستان دشمنی میں پاکستان کے کھلے دشمنوں کے ساتھ ساتھ بظاہر دوست اور پڑوسی ممالک بھی شامل ہیں۔
آپریشن ضرب عضب کے ایک سال کو کامیابی کا سال قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس آپریشن میں تین سو پنتالیس شہدا کا خون شامل ہے۔ آپریشن کے نتیجے میں تین ہزار سات سو تریسٹھ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد گرفتار ہوچکے ہیں۔ اس آپریشن کا مرکز فاٹا تھا،جہاں کامیابی کے بعد وہاں سے بے گھر ہونے والوں کی دوبارہ آباد کاری اور گھروں کو واپسی کا کام بھی تکمیل کے قریب ہے۔ آپریشن کے بعد 2نومبر 2014ء کو واہگہ سرحد پر روزانہ کی پریڈ کے دوران دہشت گردی کی واردات اور 16دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک سکول کی بہیمانہ واردات کو اس آپریشن کے خلاف انتقام قرار دیا گیا۔ ان بڑی وارداتوں کے علاوہ کراچی اور بلوچستان میں ہونے والی وارداتیں اگرچہ اسی کینسر کی شاخیں ہیں،لیکن ان کی جڑیں مختلف ہیں اور اب کراچی اور بلوچستان سے بھی اس کینسر کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ یہ کوششیں براہ راست ’’ضرب عضب‘‘ کا حصہ نہیں ہیں، لیکن یہ ’’ضرب عضب‘‘ سے الگ بھی نہیں ہیں۔
پاکستانی جیلوں میں سزائے موت کے منتظر دہشت گردوں کی سزائے موت بھی آپریشن ضرب عضب ہی کا حصہ ہے۔ ان دہشت گردوں کی پھانسی کو سزائے موت کے مخالف عالمی اداروں کے دباؤ اور کچھ طالبان کی دھمکیوں کی وجہ سے زیر التوا رکھا جا رہا تھا، لیکن جب فیصلہ کر لیا گیا کہ اب نہ کسی دباؤ کو قبول کیا جائے گا نہ دھمکیوں کی پروا کی جائے گی تو ان پھانسیوں سے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ یہ Nervesگیم تھی۔ اگر اس میں حکومت ہار جاتی تو دہشت گردی کا خاتمہ ناممکن تھا، لیکن عمومی خوف کے برعکس ان پھانسیوں کے ردعمل میں دہشت گرد کوئی کارروائی نہ کر سکے، بلکہ اس سے مجرم خوفزدہ ہو گئے۔ انہیں یقین ہو گیا کہ اب کوئی کمزوری ان کے لئے رعایت کا باعث نہیں بنے گی۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد بلوچستان میں گیس لائنیں اڑانے کی وارداتوں میں کمی آ گئی ہے۔ ریل کی پٹڑیاں اکھاڑنے اور اُتارنے کی وارداتیں بھی بہت کم رہ گئی ہیں اور کراچی اور بلوچستان میں اس کینسر کی دیگر شاخوں کے خلاف آپریشن تیزی سے جاری ہے۔ بلوچستان میں پاکستان دشمن عناصر کے بھرے میں آکر ہتھیار اٹھانے والے اب ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ کراچی میں اعتماد بحال ہو رہا ہے اور شاید رمضان المبارک کے دوران آپریشن میں کچھ کمی آ جائے،لیکن آپریشن ضرب عضب کے اس مرحلے میں بھی ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر کراچی اور بلوچستان میں امن بحال نہ ہوا تو پاک چین اقتصادی راہداری جیسے منصوبے سخت مشکل سے دوچار ہو جائیں گے اور دشمن یہی چاہتے ہین، لیکن دشمن کے عزائم ناکام بنانے کے لئے پاکستانی قوم یکسو ہے۔ سیاسی اور فوجی قیادت اس نقطے پر کسی بدگمانی کا شکار نہیں کہ آپریشن کے ہر مرحلے کی ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔


صدر پاکستان ممنون حسین ، وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف اور وزیر دفاع خواجہ آصف اکثر افواج پاکستان کی قربانیوں پر خراج تحسین ادا کرتے رہتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کا ایک سال مکمل ہونے پر وزیراعظم پاکستان نے قوم اور افواج پاکستان کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ آج کے دن پوری قوم افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں شہداء کی قربانیوں پر فخر ہے، کیونکہ شہداء نے اپنے آپ کو قوم کے مستقبل پر قربان کیا ہے ۔وزیراعظم پاکستان کا یہ کہنا خاص طور پر نہایت اہم ہے کہ ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ کی وجہ سے ملک ترقی کی منازل طے کر رہا ہے‘‘۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے، جسے پاکستان کے عوام دیکھ اور محسوس کررہے ہیں۔ اس کا ایک اور نہایت گہرا فائدہ یا اثر یہ ہے کہ آج پاک فوج جو مشرف دور میں اپنی وردی سے شرمندہ تھی اور پبلک مقامات پر وردی کے ساتھ جانے کی ممانعت ان پر لاگو تھی، اب قوم کی محبوب فوج ہے، فوج کے فکری حلقے بھی اس فرق کو واضح طور پر محسوس کررہے ہیں۔ افواج پاکستان کے ترجمان ’’ہلال‘‘ کے ماہ جون کے شمارے میں کئی مضامین اس نئی فکری جہت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

مزید :

کالم -