صبح کا بھولا

صبح کا بھولا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سیانوں نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا :’’پہلے تولو پھر بولو‘‘ لیکن لگتا ہے ہمارے دلعزیز مایہ ناز اور دبنگ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان تک یہ مشہور مقولہ سخت سکیورٹی کی وجہ سے نہیں پہنچ سکا۔ اُنہوں نے شاید ’’سیودی چلڈرن‘‘ نامی امریکی این جی او کو بھی ایگزیکٹ یا بول جیسا کوئی معاملہ سمجھ لیا تھا۔ فوراً میڈیا پر آکر یہ اعلان کر دیا کہ اس این جی او کو ملک دشمن سرگرمیوں کی و جہ سے بین کر دیا ہے اور پندرہ دن کے اندر غیر ملکی سٹاف کو پاکستان چھوڑنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اب ایسی تمام این جی اوز سن لیں کہ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کوئی دباؤ قبول کیا جائے گا چاہے کوئی بھی ملک ہو، ہم اپنے اقتدار اعلیٰ کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اس قسم کی آئندہ کسی این جی او کو ملک میں کام کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ کیا شاندار اعلانات تھے۔ میرا تو سر فخر سے بلند ہو گیا تھا کہ بڑی مدت کے بعد ہمیں ایک ایسا وزیر داخلہ ملا ہے، جو صحیح معنوں میں قوم کے جذبات کی ترجمانی کر رہا ہے مگر یہ سارا فخر سارا غرور اس وقت صابن کی جھاگ بن کر بیٹھ گیا جب خود وزارت داخلہ نے یہ نوٹیفیکیشن جاری کیاکہ سیودی چلڈرن کو بند کرنے کے احکامات واپس لئے جاتے ہیں اور اس پر سے پابندی ہٹالی گئی ہے۔ وزیر داخلہ بہت بڑی بڑی باتیں کر جاتے ہیں، یہ بھی شاید اسی ترنگ میں کہہ گئے لیکن انہیں یہ کیوں یاد نہیں رہا کہ معاملہ کسی پاکستانی نہیں امریکی این جی او کا ہے اور امریکی تو اپنا بندے مار ریمنڈ ڈیوس تنہا نہیں چھوڑتے، اپنی این جی او کو کیسے وزارتِ داخلہ کے رحم و کرم پر چھوڑ سکتے ہیں سو یہ معاملہ اب ایک لمبے عرصے تک ٹھپ ہو گیا ہے۔ اب شاید وزارت داخلہ کسی این جی او پر ہاتھ نہ ڈال سکے کیونکہ سیودی چلڈرن کی مثال اب اسے ہر قدم اُٹھانے سے پہلے ڈراتی رہے گی۔


ہم دعوے چاہے جو مرضی کریں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری آزادی کے پر کٹے ہوئے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا اقتصادی طور پر کمزور ہونا ہے۔ جب تک ہم آزادی کے ساتھ اپنا قومی بجٹ نہیں بنا سکتے اُس وقت تک یہ سوچنا کہ ہم آزادانہ فیصلے کر سکیں گے ایک خام خیالی ہے اس خام خیالی کو امریکی کئی بار دور کر چکے ہیں مگر ہم عوام کے سامنے بڑھک مارنے کے لئے بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیودی چلڈرن نامی این جی او پر پابندی لگتے ہی پاکستان کو اقتصادی طور پر دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں، امریکی وزارتِ خارجہ نے ہمیں کھلی وارننگ دے دی۔ اربوں ڈالرز جو انہی این جی اوز کے ذریعے ملک میں آتے ہیں خطرے میں پڑ گئے۔ یہ تو این جی اوز کا معاملہ ہے گزشتہ دورِ حکومت میں امریکی تنظیم بلیک واٹر کا بہت ذکر ہوتا رہا۔ اُس کے ایجنٹوں کی بھرمار اور اُنہیں دیئے گئے سینکڑوں ویزے رحمن ملک کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہے۔ وہ مسلسل اس بات سے انکاری رہے کہ اس نام کی کوئی تنظیم پاکستان میں کام کر رہی ہے۔ یعنی وزیر داخلہ ہی مکر گیا تو باقی کس کو الزام دیا جا سکتا تھا۔ سو اس حقیقت کو مان لینا چاہئے کہ پاکستان میں بہت کچھ ہو سکتا ہے مگر امریکی مفادات کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ امریکہ انہی این جی اوز کے سہارے پاکستان کے چپے چپے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ نیٹ ورک اُس کے لئے بہت اہم ہے۔ اُس نے یہاں اپنی فوج نہیں اُتارنی۔ بلیک واٹر جیسی تنظیم کے ایجنٹ بھی کسی نہ کسی طرح قانون کی گرفت میں آ جاتے ہیں جیسے ریمنڈ ڈیوس آ گیا تھا، اور اس سے امریکیوں کی جگ ہنسائی بھی ہوتی ہے اور اُن کی سرگرمیوں کا بھانڈہ بھی پھوٹ جاتا ہے اس لئے محفوظ ترین راستہ یہ ہے کہ غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کے ذریعے اپنا جال بچھایا جائے۔


حیران کن امر یہ ہے کہ وزارتِ داخلہ نے سیودی چلڈرن کو یہ کہہ کر ملک میں کام کرنے سے روک دیا کہ اس کی سرگرمیاں ملک دشمنی کے مترادف ہیں۔ یہ بہت سنگین الزام ہے۔ اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا کہ ان سرگرمیوں کا تعلق کس نوعیت کے اقدامات سے ہے اور یہ کس طرح قومی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ہماری وزارت داخلہ تو اس حکم اور جوابی حکم کے بعد ایک مذاق بن گئی ہے۔ قوم اب اس اضطراب میں ہے کہ یہ اور اس جیسی دوسری غیر ملکی این جی اوز پاکستان میں کیا کھیل کھیل رہی ہیں۔ وہ کون سے معاملات یا حقائق تھے، جن کی بنیاد پر وزارتِ داخلہ سیودی چلڈرن کے خلاف انتہائی اقدام پر مجبور ہوئی۔ دوسرے لفظوں میں اس تنظیم نے حال ہی میں ایسا کیا کیا تھا کہ جس کی وجہ سے یہ فوری پابندی ضروری سمجھی گئی۔ کیا اس کا تعلق دہشت گردی کے خلاف ہماری اس جنگ سے ہے جو ایک سال سے ضرب عضب کی صورت میں جاری ہے، یا اس کا تعلق ہمارے اقتصادی راہداری منصوبے سے بنتا ہے۔ کیا یہ امریکی این جی او چین کے ساتھ ہمارے روابط کو سبوتاژ کرنے کی سازش کا حصہ بنی یا پھر یہ ’’را‘‘ کے منصوبوں کو تقویت پہنچا رہی ہے۔ جب حقائق سامنے نہ لائے جائیں تو پھر اس قسم کے سوالات اُٹھتے ہیں اور اس نوعیت کی قیاس آرائیاں ہوتی ہیں وزیر داخلہ نے ہنگامی پریس کانفرنس کیوں کی ایسی باتیں کیوں سامنے لائے جو عوام کو عدم تحفظ میں مبتلا کرتی ہیں۔ آخر وہ کیا شواہد تھے جو اس فیصلے کی بنیاد بنے، کیا امریکی دباؤ پر اُن شواہد سے صرفِ نظر کر لیا گیا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس این جی او کو اب اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے؟

اس ایک واقعہ نے بہت سے سوالوں کو جنم دیا ہے۔ کیا اتنا اہم اور بڑا فیصلہ وزارتِ داخلہ نے اپنے طور پر کیا تھا؟ کیا اس کے لئے وزارتِ خارجہ کی رائے نہیں لی گئی تھی؟ کیا وزیر اعظم اس فیصلے سے آگاہ تھے؟ کیا امریکی سفارت خانے کو فیصلہ کرتے ہوئے اعتماد میں لیا گیا تھا؟ کیا اُن کے سامنے وہ شواہد رکھے گئے تھے جن کی وجہ سے سیودی چلڈرن پر پابندی کو ضروری سمجھا گیا۔ لگتا ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، اس معاملے کو ایک ایڈونچر کے طور پر لیا گیا۔ جھوٹی واہ واہ کرانے کی کوشش کی گئی جو جلد ہی گلے پڑ گئی۔ اصولاً تو وزیر داخلہ کو پابندی ہٹانے کے فیصلے پر بھی پریس کانفرنس کرنی چاہئے تھی۔ ایک طرف قوم کے سامنے یہ حقائق لانے چاہئے تھے کہ پابندی کیوں لگائی گئی اور دوسری طرف یہ بھی بتانا چاہئے تھا کہ پابندی کیوں ہٹائی گئی ہے اور اس کے اقتصادی و سیاسی مضمرات کیا ہیں کچھ لوگ شاید اسے معمول کی کارروائی سمجھیں مگر میرے نزدیک یہ پاکستان کی آزادی و خود مختاری پر لگنے والا ایک بہت بڑا داغ ہے۔ حقائق پر پردہ پڑا رہے تو وہ اتنے تکلیف دہ نہیں ہوتے لیکن جب وہ سامنے آتے ہیں تو اُن سے لاکھ نظریں چرائی جائیں وہ گہرا زخم دے جاتے ہیں۔


اُن غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیوں اور طاقت و اثر و رسوخ پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ قیاس آرائیاں ضرور ہوتی تھیں مگر ایسے کوئی شواہد موجود نہیں تھے کہ یہ این جی اوز ملکی قانون سے بالا تر ہیں اسلام آباد کے اس واقعہ نے اس راز سے پردہ ہٹا دیا ہے۔ دو باتیں تو کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ اول یہ کہ ان کی سرگرمیاں وہ نہیں جو بظاہر نظر آتی ہیں، بلکہ ان کے درپردہ مقاصد کچھ اور ہیں، اور دوسری یہ کہ ان پر حکومت پاکستان بھی ہاتھ نہیں ڈال سکتی۔ کیونکہ ان کی سرپرستی کے ڈانڈے امریکی محکمہ داخلہ و خارجہ سے ملتے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک بھی اِن کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ جن کے قبضے میں ہماری وزارتِ خزانہ کی جان ہے۔ مجھے تو اپنے پسندیدہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان پر ترس آ رہا ہے، مجھے تو لگتا ہے کہ سیودی چلڈرن کا کمبل اس لئے چرایا گیا تھا کہ اُنہیں یہ باور کرایا جا سکے کہ ملک کے وزیر داخلہ ہونے کا مطلب نہیں کہ وہ پورے نظام پر حاوی ہوگئے ہیں، وہ ایک بڑے نظام کا چھوٹا سا کل پرزہ ہیں جو اپنی مرضی سے چل سکتا ہے نہ ہل سکتا ہے۔ اُن کی حالت صبح کے اس بھولے جیسی ہے جو شام کو گھر واپس آ جاتا ہے۔

مزید :

کالم -