رویت ہلال پر اتفاق رائے کی صائب کوششیں

رویت ہلال پر اتفاق رائے کی صائب کوششیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

یہ ایک اچھی اور خوش آئند اطلاع ہے کہ وفاقی وزیر مذہبی امور کی کوشش سے مرکزی روئت ہلال کمیٹی اور جامع مسجد قاسم پشاور کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے درمیان رمضان اور عید ایک روز کرنے پر اتفاق ہوگیا۔ مفتی پوپلزئی روئت ہلال کمیٹی کے رکن ہوں گے اور ان کی سفارش پر مزید دو علماء کو اعزازی رکنیت دی جائے گی۔ محترم پوپلزئی نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ ان کی جامع مسجد سے ’’شہادت‘‘کا انتظار کرکے اعلان کیا جائے گا۔ایک طویل عرصے سے شمالی پاکستان اور باقی پورے ملک کے درمیان یہ اختلاف چلا آ رہا ہے اگرچہ خیبرپختون خوا کی اکثریت مرکزی روئت ہلال کمیٹی کا فیصلہ تسلیم کرتی ہے،تاہم فاٹا سے تعلق رکھنے والے بعض قبائل ہمیشہ سے سعودی عرب کے ساتھ روزہ رکھتے اور عید کرتے چلے آئے ہیں، اس کے بعد مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے بھی اپنا ڈیرہ جمایا اور پشاور کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے شہری علاقے میں بھی اختلاف ہونے لگا۔ چنانچہ گزشتہ چند سال سے ہر مرتبہ چاند پر اختلاف ہوتا ہے اور خیبرپختونخوا میں ایک روز پہلے والا عمل برقرار رکھا جاتا ہے۔ گزشتہ برس تو تین عیدیں ہوگئی تھیں۔
بدقسمتی سے پاکستان کا یہ اختلاف یورپ اور امریکہ تک پھیل گیا جہاں مسلک کے اعتبار سے فیصلے ہونے لگے۔یہ دور جدید اور سائنس و ٹیکنالوجی کا ہے اس میں خلاء تسخیر کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے اس لئے سیاروں کی حرکت ریکارڈ کی جاتی اور ان کی پیمائش بھی کی جاتی ہے اس لئے چاند کے سفر، ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بھی سائنس واضح فیصلہ دے سکتی ہے اور مرکزی روئت ہلال کمیٹی محکمہ موسمیات اور محکمہ ماحولیات کے علاوہ ملک کے دوسرے شعبوں سے بھی معاونت لیتی ہے، لیکن مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی صدارت میں نجی روئت ہلال کمیٹی ہمیشہ اپنا فیصلہ کرتی رہی ہے یہ بات بھی سامنے آ چکی ہے کہ عملی اور سائنسی اعتبار سے سعودی عرب اور پاکستان کے فاصلے اور وقت میں فرق اور چاند کی گردش کے باعث سعودی عرب میں ایک روز پہلے ہی چاند ہوگیا اس لئے اگر پاکستان میں اگلے روز عید ہو تو درست ہوگا، ہمارے معزز علماء کرام نے اسے مسئلہ بنا لیا، اس طرح یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ایک روز روزہ اور ایک ہی روز عید ہو، اب وزیر مذہبی امور کی کوشش سے مفتی پوپلزئی خود روئت ہلال کمیٹی میں ہوں گے اس لئے ان کو فیصلہ بھی تسلیم کرنا ہوگا، صرف دیکھنا یہ ہوگا کہ ان کے بعد والے کیا اطلاع دیتے ہیں۔ اس طرح یہ خدشہ موجود ہے کہ چاند پر پھر دو آراء ہوں یا پھر مفتی پوپلزئی ہی قائل نہ ہو سکیں، بہرحال کمیٹی میں بات اچھا اقدام ہے۔دعا ہے کہ اس مرتبہ تو اختلاف نہ ہو اور شمال میں بھی چاند اسی روز ہو، جس روز جنوب کی طرف والا نطر آئے، یعنی اعلان ایک ہی روز کے لئے ہونا چاہیے۔

مزید :

اداریہ -