آپریشن ضرب عضب کا ایک کامیاب سال

آپریشن ضرب عضب کا ایک کامیاب سال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کو ایک سال مکمل ہو گیا۔اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے ایک پیغام میں پوری قوم اور افواج پاکستان کو ایک سال کامیابی سے مکمل ہونے پر مبارکباد دی ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ضرب عضب دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔ قوم فوج کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی جن کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ہورہا ہے۔ اس پرخطر محاذ پر لڑنے والے اپنے آج کو قوم کے مستقبل پر قربان کررہے ہیں، ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے جن ماؤں نے بیٹوں اور جن بہنوں نے بھائیوں کی قربانی دی، قوم کو ان پر فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن بیویوں نے اس جنگ میں اپنے شوہروں کی قربانی دی، قوم ان کے حوصلے کی داد دیتی ہے، کامیاب ضرب عضب آپریشن کی وجہ سے پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کررہا ہے،اس دن پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے۔
دہشت گردوں کوجہنم واصل کرنے کے لئے پاک فوج نے گزشتہ سال پندرہ جون کوآپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا،آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس ایک سال کے دوران پاک فوج کے 347 افسران اورجوانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 2763 دہشت گرد مارے گئے۔دہشت گردوں کے 837 ٹھکانے تباہ کر دئیے گئے اور 253 ٹن بارود بھی برآمد کیا گیا ۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق تو دہشت گردوں کے پاس اتنا بارودی مواد تھا کہ وہ اگلے بیس سال تک حملے کر سکتے تھے۔اب تک شمالی وزیرستان کاتقریباً نوے فیصد حصہ دہشت گردوں کے تسلط سے آزاد ہو چکا ہے۔اس وقت یہ آپریشن مشکل ترین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، شوال کے علاقے میں کارروائیاں جاری ہیں جہاں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ غیر ملکی دہشت گرد اور حقانی نیٹ ورک بھی موجود ہے۔
آپریشن ضرب عضب کے آغاز کا فیصلہ یقیناً آسان نہیں تھا، دہشت گردوں کی جارحانہ فطرت اوران کی تمام تر غیر انسانی کارروائیوں کے باوجود حکومت پاکستان نے انہیں مذاکرات کی دعوت دی، بھر پور کوشش کی گئی کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہو جائیں، ہمارے بہت سے سیاسی رہنما بھی طالبان سے بات چیت کے حامی تھے۔گزشتہ برس مارچ میں حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا دور شروع بھی ہوا لیکن دہشت گرد شائد ضرورت سے زیادہ ہی اپنی طاقت کے نشے میں چور تھے، انہوں نے مذاکرات کی دعوت کو حکومت کی کمزوری سمجھ لیا، اسی لئے تو انوکھے مطالبات پیش کر دئیے جن کو ماننا قومی مفاد کے منافی تھا۔ویسے بھی مذاکرات کی کامیابی میں بنیادی شرط فریقین کی خلوص نیت ہوتی ہے لیکن طالبان نے دوغلا رویہ اپنایا۔اسی وجہ سے مذاکرات میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔دہشت گردسیز فائر کی خلاف ورزی کر تے رہے،ایک طرف انہوں نے مذاکرات کی راہ اپنائی تو دوسری طرف آٹھ جون کو کراچی ہوائی اڈے پر حملہ کر کے 26 معصوم لوگوں کی جان لے لی، جان دینے والوں میں ائیر پورٹ سکیورٹی کے لوگ بھی شامل تھے ۔
طالبان کی اس کارروائی سے صبر کی ساری حدیں پار ہو گئیں لہٰذا پاک فوج اور حکومت نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا فیصلہ کر لیا۔ جانتے بوجھتے ہوئے یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا کیونکہ دہشت گردوں کی بڑھتی ہمت توڑنے کا اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا،گو کہ ہر کوئی اس بات سے واقف تھا کہ اس آپریشن کا رد عمل شدید ہو سکتا ہے اور دہشت گرد اپنی کارروائیوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش میں جتے ہوئے بھی ہیں۔16دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کر کے دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو شہید کردیا اور اس کو پاک فوج کے لئے اپنا پیغام قرار دیا۔غیر ملکی مبصرین نے اسے پاکستانی نائن الیون قرار دیا۔اس کے باوجود وہ پاک فوج اور قوم کے عزم کو توڑ نہیں سکے۔سانحہ پشاور کے بعد ہماری سیاسی و عسکری قیادت یک آواز ہو گئی، قومی ایکشن پلان بن گیا، مجرموں کی پھانسی کارکا ہوا سلسلہ شروع ہو گیا۔دہشت گرد مزید تلملا گئے اور انہوں نے امام بارگاہوں، مسجدوں، چرچ اور بازاروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔کراچی اور کوئٹہ میں نہتے لوگوں پر بے دریغ بندوقوں کے منہ کھول کر بدترین تاریخ رقم کی۔اس کے علاوہ دہشت گردی کی وجہ سے ہماری معیشت کو جو پہلے ہی ہچکولے کھا رہی تھی، تقریباً سو ارب سے زائد کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔
لیکن ان سب کٹھن حالات اور مشکلات کے باوجود آپریشن ضرب عضب جاری رہا، بہت سے دہشت گرد مارے گئے اور بڑی تعداد میں دہشت گردوں نے افغانستان کا رخ کر لیا۔آپریشن ضرب عضب کی ہی بدولت افغانستان جو پہلے پاکستان پر در اندازی کے الزامات لگاتا تھا آج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے پر عزم ہے ، بلکہ اس نے پاکستان کی طرف سے ثبوت ملنے کے بعد اپنے علاقے میں بھی آپریشن کا آ غاز کیا۔ عالمی برادری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کوقابل قدر جانا ، جو پہلے ’ڈو مور‘ کا تقاضا کرتے تھے وہ بھی مان گئے کہ پاکستان بہت کچھ کر رہا ہے۔امریکہ اور برطانیہ نے پاک فوج کے کردار کی تعریف کی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اس کی سنجیدگی کا اعتراف بھی کیا۔ چینی صدر نے پاکستان کے دورے کے دوران ہر موقع پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف اس کی جنگ میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
یہ آپریشن ضرب عضب کے ہی ثمرات ہیں کہ پاکستان میں اس سال 23 مارچ کے موقع پر سات سال بعد پاک فوج کی پریڈ کا انعقاد ممکن ہو ا، چھ سال بعد کسی غیر ملکی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا اور یہاں بین الاقوامی کرکٹ کا دوبارہ آغاز ہوا۔گو کہ دہشت گردوں نے اس خوشی کی فضا کو بھی سوگوار کرنے کی کوشش کی لیکن ہماری سکیورٹی فورسز نے ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی قسم کے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے بالکل تیار ہیں۔پاکستان کی ان کامیابیوں اور جذبے کے بل بوتے پر ہی چین نے اعتماد کر تے ہوئے ایسے وقت میں سرمایہ کاری کی ہے جب کوئی اور ملک اس بات پر تیار نہیں تھا۔جہاں تک ہماری معیشت کا سوال ہے تو اس وقت مکمل طور پر مستحکم نہ سہی ، کم از کم بہتری کی راہ پر تو گامزن ہے۔
آج آپریشن ضرب عضب کا ایک سال کامیابی سے مکمل ہونے پر پاک فوج، حکومت اور عوام سب ہی مبارکباد کے مستحق ہیں۔پاک فوج کے جوان بہادری و شجاعت کے ساتھ یہ جنگ لڑ رہے ہیں تو عوام بھی شانہ بشانہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔آج اگر قوم کے دل میں روشن مستقبل کی آس ہے تو اس کی بڑی وجہ آپریشن ضرب عضب ہے۔امید ہے یہ آپریشن جلد ہی کامیابی سے ہمکنار ہوگا، دہشت گرد اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے۔لیکن یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ آپریشن ضرب عضب مکمل ہونے کے بعدعسکری و سیاسی قیادت اور قوم کو مل کر ایک موثر لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ دوبارہ دہشت گردی جیسا عفریت ہمارے ملک میں سر نہ اٹھاسکے ، پاکستان حقیقی معنوں میں پرامن ملک بن کر ابھرے اور کامیابی سے ترقی کی تمام منازل طے کرے۔

مزید :

اداریہ -