کیا چاند کا اختلاف ختم ہو جائے گا؟

کیا چاند کا اختلاف ختم ہو جائے گا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بڑے یقین سے کہا ہے کہ رمضان المبارک اور عیدالفطر کے چاند دیکھنے کے حوالے سے ہمیشہ کا اختلاف ختم ہونے کی امید ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی‘‘ پشاور کی ’’پوپلزئی کمیٹی‘‘ کی شہادتو ں کا انتظار کرکے، پھر اعلان کرے گی۔ سردار محمد یوسف پاکستان کے انوکھے وزیر مذہبی امور ہیں، انہوں نے اسلام آباد میں خطبات جمعہ کے اوقات پر اتفاق کرانے کے بعد، نمازوں کے اوقات پر بھی تمام مکاتب فکر کے اتفاق کا مژدہ سنایا تھا، اس پر بعض ذرائع ابلاغ نے ’’بحث مباحثہ‘‘ کا ڈول بھی ڈالا، عوام کی طرف سے تحسین آمیز تبصرے بھی سامنے آئے، مگر پاکستان کی فضائیں اذانوں اور نمازوں کی ’’یک سوئی‘‘ کا مظاہرہ نہ کر پائیں۔ اب پاکستان کے عوام مسلمہ دینی تہوار (عیدالفطر و عیدالاضحیٰ) اور عبادت کے مسلم مہینے (رمضان المبارک) پر اتفاق و اتحاد، یک سوئی و یکجہتی کی خوشخبری سے ’’نہال‘‘ ہونے کو ہیں۔


رمضان المبارک اور عیدالفطر کے موقع پر ہی ’’پوپلزئی کمیٹی‘‘ ، ’’سرکاری رویت ہلال کمیٹی‘‘ سے ہٹ کر، بلکہ، پورے پاکستان سے پہلے روزے رکھنے اور عید منانے کا اعلان کرتی رہی ہے۔ باقی سارا سال، سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر چاند کی تاریخیں چلتی ہیں، صرف رمضان المبارک اور عید پر، ایک روز قبل کا اعلان کیا جاتا ہے اور یہ ہر سال کا معمول رہا ہے۔


یہ اختلاف، پاکستان کی فضاؤں میں چاند دیکھنے یا پاکستان کے کسی علاقے میں چاند کے نظر آنے پر نہیں ہوتا۔ چاند کے بارے میں تو محاورہ ہے کہ ’’چاند چڑھے تو سبھی دیکھتے ہیں‘‘ ۔۔۔ آج کل تو آلات اتنے جدید ہیں کہ چاند چڑھا ہو اور ایک کو نظر آئے تو دوسرے بھی دیکھ لیں، وہ کون سا چاند ہے جو خیبر پختونخوا کے صوبے میں چند علاقوں سے تعلق رکھنے والے، مخصوص افراد کو تو ہر سال نظر آجاتا ہے، ان کے سوا کسی اور کو، اور پورے پاکستان میں کسی کو نظر نہیں آتا؟ ۔۔۔
ہم نے ایک بار ’’پاکستان فورم‘‘ میں رویت ہلال کے مختلف پہلوؤں پر بحث‘‘ کے دوران میں مرحوم مفتی عبدالرحمن اشرفیؒ کے سامنے، یہ سوال رکھا کہ ’’آخر کیا وجہ ہے کہ صوبہ سرحد کے مخصوص علاقوں کے بعض مخصوص علماء ہی ہر سال رمضان المبارک اور عید کے چاند پر اختلاف کرتے ہیں؟‘‘


انہوں نے جواب دیا ’’چاند کی رویت کے حوالے سے ہم اور پاکستان کی اکثریت ’’صاحبین‘‘ (حضرت امام ابوحنیفہؒ کے دو شاگردوں، حضرت امام ابو یوسفؒ اور حضرت امام محمدؒ ) کے قول اور حدیث کے مطابق کہ ’’ہر علاقے کی اپنی اور الگ رویت ہوتی ہے‘‘، پر عمل کرتے کہ جبکہ صوبہ سرحد کے یہ افراد امام ابوحنیفہؒ کے ایک قول کے ’’مغرب میں چاند نظر آئے تو تمام مشرق والوں کو اس رویت کو ماننا چاہئے‘‘پر سختی سے عمل کرتے ہوئے، پاکستان کے مغرب یعنی سعودی عرب کی رویت کو اپنی رویت قرار دیتے ہیں۔‘‘ (یعنی پشاور اور گرد و نواح کے یہ مخصوص علماء کرام اپنے مغرب یعنی سعودی عرب کی رویت کے مطابق چاند نظر آنے کا اعلان کرتے ہیں۔)


مولانا مفتی عبدالرحمن اشرفیؒ سے جس سال سوال پوچھا، اس سے اگلے سال، پھر اختلاف پیدا ہوا، تو اس سال ’’پاکستان فورم‘‘ میں ڈاکٹر سرفراز نعیمی مرحوم، مولانا محمد اکرم کاشمیری، مولانا فضل رحیم اشرفی اور مولانا عبدالمالک نے بھی مفتی عبدالرحمن اشرفیؒ کی بات کی تصدیق کی بلکہ ایک بزرگ نے کہا کہ ’’اگر صوبہ سرحد میں ان لوگوں نے چاند دیکھ لیا ہوتا اور ذمہ داران کو دکھا دیا ہوتا تو بھلا مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو شہادت قبول کرنے میں کیا مضائقہ ہوسکتا تھا؟ اصل بات یہی ہے کہ یہ علماء کرام اپنے مخصوص فقہی نزع کو پورے پاکستان سے منوانا چاہتے ہیں۔‘‘


مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی سربراہی سے بھی بعض لوگوں کو ’’اختلاف‘‘ ہے اور وہ اپنے فقہی پس منظر میں اس پر آوازے کستے رہتے ہیں، اس کے باوجود، مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور صوبائی کمیٹیوں میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہوتے ہیں، وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ ’’مرکزی و صوبائی رویت ہلال کمیٹیوں میں تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کی وجہ سے سب کا اعتماد حاصل ہے اور اگر اب وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا پوپلزئی اور ان کے ساتھیوں کو بھی مرکزی کمیٹی میں نمائندگی پر راضی کرلیتے ہیں تو پھر اس کی حیثیت و وقعت میں کیا شک باقی رہے گا؟ پاکستانی عوام، خوب مسرت کا اظہار کریں گے، اگر رمضان کے روزے ایک ساتھ رکھیں اور عید کی خوشیاں ایک ساتھ منائیں ۔۔۔


خوشخبری سننے کے ساتھ ایک دھڑکا بھی لگا ہے کہ کہیں ایک ساتھ روزے رکھنے اور ایک ساتھ عید منانے کی خاطر شریعت کے احکامات اور پاکستان کی غالب ترین اکثریت کے احساسات ہی کو نظر انداز نہ کر دیا جائے، روزے رکھنے اور عید منانے کیلئے چاند کا نظر آنا، اپنے علاقے (اپنے ملک کی فضاؤں) میں آنکھوں سے دکھائی دینا ضروری ہے۔ اگر سرحد کے بعض علاقوں سے کوئی شخص ’’چاند نظر آنے‘‘ کی گواہی دے تو ضروری ہے کہ ’’تصدیق کرلی جائے کہ اس نے آسمان کے چاند کو دیکھا ہے، کسی چاند خان یا سکے پر بنے چاند کو نہیں‘‘ ۔۔۔ یہ بھی تحقیق کرلی جائے کہ گواہ کہہ کیا رہا ہے ’’چاند دیکھا ہے‘‘ یا ’’چاند نظر آگیا ہے‘‘ ،’’ چاند دیکھا ہے‘‘ اور ’’چاند نظر آگیا ہے‘‘ میں فرق یہ ہے کہ خود دیکھا ہوا چاند اور مغرب میں (سعودی عرب میں) نظر آگیا ہے (مطلب پاکستان سے باہر نظر آگیا ہے) الگ الگ شرعی حکم رکھتے ہیں۔ دو سال قبل کوہاٹ کے ایک جید عالم دین نے بتایا کہ رمضان کی 29ویں کے روز چند افراد میرے پاس آئے اور قسم کھا کر کہا ’’چاند نظر آگیا ہے۔‘‘


ہم نے ان پر اعتبار کرتے ہوئے عید کا اعلان کر دیا، بعد میں پتہ چلا انہوں نے سعودی عرب میں چاند نظر آنے پر قسم کھائی اور حلف اٹھایا تھا۔
ایک اور بات کا خیال رہنا چاہئے، ’’چاند کا افق پر ہونا، شرعاً قابل اعتبار نہیں، بلکہ اس کا رویت یعنی آنکھوں سے دیکھا جانا قابل اعتبار ہے۔ چاند کسی وقت اور کسی دن معدوم نہیں ہوتا وہ اپنے مدار میں کہیں نہ کہیں موجود رہتا ہے، اس کیلئے 29 تاریخ شرط ہے نہ 30 تاریخ، اصل بات اس کا انسانی آنکھ سے نظر آنا ہے، دوسری اہم بات یہ ہے کہ رابطہ عالم اسلامی کی ’’الفقہ الاسلامی کمیٹی‘‘ نے 13,12,11 فروری 2012ء کو مکہ مکرمہ میں رویت ہلال پر تفصیلی بحث کے بعد متفقہ طور پر طے کیا تھا کہ ’’ہر ملک کی اپنی رویت ہے‘‘ اس مجلس میں پاکستان سے مفتی تقی عثمانی سمیت کئی علماء شریک ہوئے تھے، اس کمیٹی کی قرارداد کا مطالعہ کرلیا جائے تو شاید پشاور کے علماء کرام بھی اپنی مخصوص رائے پر نظر ثانی کریں۔

مزید :

کالم -