قومی اسمبلی ‘ پاکستان آرمی ترمیمی آرڈیننس میں 4ماہ کی توسیع ‘ ایم کیو ایم کا واک آؤٹ

قومی اسمبلی ‘ پاکستان آرمی ترمیمی آرڈیننس میں 4ماہ کی توسیع ‘ ایم کیو ایم کا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی(ترمیمی) آرڈیننس2015 میں مزید چار ماہ کیلئے توسیع کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا جبکہ اس دوران ایم کیو ایم نے مخالفت کرتے ہوئے شدید احتجاج اور نعرے بازی اور احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ قومی اسمبلی کا معمول کا ایجنڈا معطل کیا گیا ہے لہٰذا حکومت کوئی آرڈیننس توسیع کیلئے بجٹ اجلاس کے دوران پیش نہیں کر سکتی اس پر سپیکر نے کہا کہ صرف وقفہ سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹس معطل ہوئے تھے۔رشید گوڈیل کے اعتراض پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ مذکورہ آرڈیننس کی توسیع سے قانون کے ہاتھ ایم کیوایم والوں کے گریبان تک پہنچنے کا خطرہ ہے، ایوان میں شرم کرو، ڈوب کر مرو کے نعروں کے ساتھ ایم کیو ایم کے ارکان واک آؤٹ کرگئے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں بجٹ 2015-16 پر بحث جاری تھی کہ ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے اچانک بحث روک کر وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کو پاکستان آرمی(ترمیمی) آرڈیننس 2015 مزید چار ماہ کی توسیع کیلئے پیش کرنے کی اجازت دی جس پر ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ جناب سپیکر قومی اسمبلی کا موجودہ اجلاس جب شروع ہوا تھا تو معمول کا تمام ایجنڈا معطل کر دیا گیا تھا ،لہٰذا حکومت بجٹ 2015-16پر بحث کے دوران کوئی آرڈیننس توسیع کیلئے پیش نہیں کر سکتی۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ صرف وقفہ سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹس معطل ہوئے تھے، لہٰذا آپ کا اعتراض درست نہیں جبکہ اس کے ساتھ ہی خواجہ آصف نے مذکورہ آرڈیننس ایم کیو ایم کے ارکان کے احتجاج و شور شرابے اور شرم کرو، ڈوب مرو کے نعروں کے دوران پیش کر دیا اور ایوان کی اکثریت نے پاکستان آرمی(ترمیمی) آرڈیننس کی مزید چار ماہ کیلئے توسیع دے دی۔ اس کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ارکان کا احتجاج سیاسی مقاصد کیلئے ہے اور انہیں خطرہ ہے کہ کہیں قانون کے ہاتھ ان کے گریبانوں تک نہ پہنچ جائیں۔یہ فجر کے وقت بولتے ہیں اور ظہر کے وقت معافی مانگ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی آرڈیننس میں تو صرف 120دن کی توسیع کی جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم سیاسی بنیاد پر مخالفت کر رہی ہے۔ انہیں خطرہ ہے کہ ان کے کالے کرتوت سامنے آئیں گے ۔متحدہ کے خلاف سخت بیان کے ساتھ ہی ایم کیو ایم کے احتجاج میں شدت آ گئی اور رکن اسمبلی سلمان بلوچ نے خواجہ آصف کے ماضی میں ادا کئے گئے الفاظ ’’کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے،کوئی گریس ہوتی ہے‘‘ دہرانا شروع کر دیئے۔ وزیر دفاع نے بھارت کے حوالے سے کہا ہندوستان چاہتا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہدار ی منصوبہ بند ہو ، دہشتگرد بلوں میں چھپے ہیں ان کا خاتمہ کرناہوگا،ملک کے خلاف بیان دینے والے ملک دشمن ہیں ، ہماری امن کی خواہش کبھی معدوم نہیں ہوگی۔انہوں نے کہاکہ تشدد کی سوچ کو تعلیم کے ساتھ ہی ختم کیاجاسکتاہے۔ ڈپٹی سپیکر نے جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان کو بجٹ پر تقریر کرنے کیلئے کہا مگر وہ ایم کیو ایم کے احتجاج کی وجہ سے تقریر نہ کر پائے۔ پی پی کے اعجاز جاکھرانی اور تحریک انصاف کی شیریں مزازی نے کہا کہ اگر حکومت کوئی آرڈیننس قومی اسمبلی کے ایجنڈے پر لانا چاہتی تھی تو پہلے بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں لایا جاتا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایسا ماضی میں بھی بجٹ اجلاس کے دوران ہوتا رہا، یہ ایک آئینی ضرورت تھی۔ ایم کیو ایم کے عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ سپیکر صاحب آپ پنجابی نہ بنیں بلکہ پاکستان کی بات کریں۔ اس کے ساتھ ہی ایم کیو ایم کے ارکان واک آؤٹ کر کے ایوان سے باہر چلے گئے بلکہ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ کے منانے پر بھی واپس نہ آئے۔

مزید :

صفحہ اول -